رہزنِ دل۔۔۔یاسر لاہوری

وہ دونوں کالج میں  کلاس لے کر باہر باغیچے کے پہلو کی طرف لگے بینچ پر دھوپ میں آ کر بیٹھ گئی تھیں۔ آج ماہین بہت الجھی الجھی سی نظر آ رہی تھی۔ محبت کسے کہتے ہیں؟ آنکھوں کی نمی کے ساتھ اس نے زمین پر نظریں گاڑے اپنی سہیلی سے پوچھا۔
آمنہ تو جیسے اچھل ہی پڑی کہ آج ماہین کو کیا ہو گیا ہے۔ جو عشق و محبت کے نام تک سے چڑتی تھی، آج وہ اس قدر سنجیدگی سے بجھی ہوئی آواز کے ساتھ اسی محبت کے متعلق پوچھ رہی ہے۔

کسی کو پانے کی خواہش اور پھر اسے کھو دینے کے خیال سے پیدا ہونے والے ڈر کو محبت کہتے ہیں، محض صورتوں کا پسند آ جانا محبت نہیں بلکہ محبت تو وہ ہوتی ہے کہ اٹھتے بیٹھتے قلب و ذہن اس کے احساس سے جڑا رہے۔ چاہے زبان سے اقرار و اظہار نہ  بھی کیا ہو لیکن دل کے تمام گوشوں میں یہ بات درد کی لہر بن کر ہر وقت اٹھتی رہے کہ وہ میرا ہے، اس پر کسی اور کا کوئی حق نہیں ہے۔ دل یہ برداشت کرنے کو تیار ہی نا ہو کہ “وہ” کسی اور کا ہے۔

محبت تو اسے کہتے ہیں کہ زمانے بھر کی نظریں آپ کو محبت سے باز رکھنے کے لئے آپ کی چوکیداری پر لگی ہوں لیکن آپ کے دل کے تمام دروازے اس کی یادوں کے لئے ہمیشہ کھلے ہوں۔ محبت تو اسے کہتے ہیں کہ باہر کی دنیا میں پہرے ہوں اور اس کی یادیں کسی ماہر راہزن کی طرح تمام حدود و قیود توڑ کر آپ کے دل کے آنگن میں آ بیٹھیں۔

ماہین! محبت تو اسے کہتے ہیں کہ زبان اس کی محبت سے انکار کر رہی ہو لیکن اس کے باوجود دل کی پکار صرف اسی کے لئے ہو، اپنی عزت و تقدیس کے کھو جانے کا ڈر بھی ہو، اپنوں کی لگائی ہوئی پابندیاں ایک طرف اور سماج کے طعنے الگ، لیکن دل نے ٹھان رکھی ہو کہ جیسے “اسے” چاہنا ہی دل کی ڈیوٹی ہے۔

دل کی آنکھیں اس کے چہرے کے علاوہ کچھ اور دیکھنا ہی نہ چاہیں۔ سماعت کو جیسے اسی کی آواز سننے سے غرض ہو۔ جس راستے سے وہ گزرے تو دل اس راستے پر بچھا بچھا جائے۔ اس کی یادیں کسی عفریت کی طرح چمٹ جائیں کہ رات رات بھر نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہے اور اگر نیند آ جائے تو بند آنکھیں بھی اس کی ہستی میں کھوئی رہیں۔

ماہین! محبت تو اسے کہتے ہیں کہ۔۔۔۔
اچھا بس چھوڑو اور آؤ گھر چلیں۔ ماہین نے آمنہ کا ہاتھ زور سے جھٹکا اور اپنے چھلکتے آنسوؤں کو حجاب کے پلو سے صاف کیا۔ آمنہ جو کہ کب سے جملے پہ جملہ کَسے جا رہی تھی، اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ اس کی ماہین آنسوؤں سے بھیگ چکی ہے۔ آگے آگے الجھی، بکھری اور ٹوٹی ہوئی ماہین چلے جا رہی تھی اور پیچھے پیچھے آمنہ اس گُتھی کو سلجھانے کی ناکام کو شش میں تھی کہ “یہ ماہین کو اچانک سے کیا ہو گیا ہے؟ محبت؟؟؟ آمنہ نے پل بھر کو سوچا۔
نہیں یہ نہیں ہو سکتا، ماہین اور محبت۔۔۔؟؟؟ نہیں کبھی نہیں۔

لیکن۔۔۔۔ ماہین کی حالت غیر تھی۔ لاکھ کوششوں کے باوجود وہ “اس شخص” کی محبت کو اپنے دل میں داخل ہونے سے نہیں روک پائی تھی، جس کی محبت نے آج ماہین کو آمنہ کے سامنے اشکبار کر دیا تھا۔ ماہین اس کی محبت کو زبان سے ٹھکرا کر بھی دل سے نہیں نکال پا رہی تھی۔

وہ اپنے آپ کو بہت مضبوط سمجھتی تھی، اصول پسند اور سخت دل۔ لیکن وہ انجان تھی اس بات سے کہ “تمام تر سختیاں اور دل کے آنگن کے گرد لگی باڑیں، بھلا محبت نامی طوفان کے آگے کہاں ٹھہرتی ہیں”

آنسو بہاتی ماہین اور ان آنسوؤں کے متعلق ان گنت سوالات لیے آمنہ کالج کے باہر کھڑی وین میں بیٹھ کر اپنے گھروں کو روانہ ہو گئیں۔۔۔۔ اور کالج کے باغیچے میں لگے بینچ پر ماہین کے گرے ہوئے آنسو ہوا کے جھونکوں سے خشک ہو رہے تھے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *