• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • سی پیک کے تناظر میں چینی وزیر کا پاکستانی سیاسی جماعتوں کو مشورہ

سی پیک کے تناظر میں چینی وزیر کا پاکستانی سیاسی جماعتوں کو مشورہ

سی پیک کے تناظر میں چینی وزیر کا پاکستانی سیاسی جماعتوں کو مشورہ
طاہر یاسین طاہر
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی معاشی ترقی میں سی پیک کا کردار مرکزی ہو گا جبکہ علاقائی ترقی میں سی پیک ایک ایسی امید افزا چیز کا نام ہے جسکی کامرانی کے لیے پاک چائنہ سیاسی و عسکری قیادت کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔یاد رہے کہ بھارت خطے میں اپنی معاشی،سیاسی و عسکری اجارہ داری کے خواب دیکھتا ہے،وہ سی پیک کے حوالے سے اپنے خدشات کا برملا اظہار بھی کرتا چلا آ رہا ہے اور سی پیک منصوبے کی راہ میں ہر طرح کے روڑے بھی اٹکائے جا رہا ہے۔ دراصل سی پیک ایک ایسا قومی منصوبہ ہے جس سے پورا پاکستان مستفید ہو گا جبکہ اس منصوبے اور گوادر کے آپریشنل ہونے سے مشرق وسطیٰ تک برآمدات و درآمدات کا سلسلہ تیز تر و دراز بھی ہوجائے گا۔بے شک چائنہ نے اپنی مصنوعات اور عالمی منڈیوں تک رسائی، نیز نئی معاشی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے سی پیک پر کثیر سرمایہ خرچ کیا ہے۔جبکہ اس منصوبے کے ساتھ پاکستان کے بھی معاشی و سیاسی اور عسکری مفادات جڑے ہوئے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ اس امر پہ شاہد ہے کہ ملکوں کے تعلقات مفادات پہ مبنی ہوتے ہیں۔خطے میں پاکستان اور چائنہ کے مفادات اگر مشترک ہیں تو بعض واضح وجوہات کی بنا پر بھارت کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے کہ وہ ایک بڑی مارکیٹ ہونے کے ناتے چین کا معاشی روستہ روکے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ تنازعات کے ہوتے ہوئے چین کے ساتھ بھی سرحدی تنازعہ ہے۔یوں بھارت کو اس کے حریف ممالک کا دوستانہ اور باہمی معاشی و عسکری تعلقات ایک آنکھ نہیں بھاتے اور وہ ان تعلقات کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگا رہتا ہے۔
سی پیک کے حوالے سے جہاں اس کے ثمرات اور حوصلہ افزا نتائج کا ذکر کیا جاتا ہے وہیں ،کے پی کے حکومت سمیت کچھ مذہبی و لسانی جماعتوں کو اس منصوبے کے روٹ پر اعتراض بھی ہے،جس کا اظہار گاہے گاہے سیاسی و لسانی اور مذہبی جماعتیں کرتی رہتی ہیں۔سی پیک کے روٹ کے حوالے سےتحفظات کا اظہار اس امر کو واضح کرنے لگتا ہے کہ اس تجارتی روٹ کے بارے میں پاکستان کی سیاسی قیادت ایک پیج پر نہیں ہے۔اس سے بلا شبہ چائنہ کو تشویش لاحق ہوتی ہے کہ اس نے کثیر سرمایہ خرچ کیا ہوا ہے اور اس سرمائے کے بدلے میں اسے آوٹ پٹ کی توقع بھی ہے۔ یہ منصوبہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ تجارتی روٹ کے تحفظ کے لیے علیحدہ سے ایک فورس بھی قائم کی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ کئی دیگر حفاظتی و سیاسی اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔گذشتہ روز پاک ،چین انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر کے دوران ایک چینی وزیر نے پاک ،چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی کامیابی کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے پر زور دیا ہے تاکہ ترقی کے مشترکہ مقصد کا حصول ممکن ہوسکے۔
یاد رہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کے انٹرنیشنل ڈپارٹمنٹ کی سینٹرل کمیٹی کے نائب وزیر زینگ ژیاسونگ نے پا ک ،چین انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر کے دوران کہا کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے مفادات مختلف نوعیت کے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب ہوں گی اور سی پیک منصوبے کو کامیاب بنائیں گی۔زینگ ژیاسونگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں سے ملاقات بھی کی اور انھیں دورہ چین کی دعوت دی۔
واضح رہے کہ چین سی پیک کو خصوصی اہمیت دے رہا ہے، جو چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے شروع کیا گیا بیلٹ اور روڈ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، لہٰذا سی پیک کی کامیابی کو بیلٹ اور روڈ منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے جس نے خاصی بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کر رکھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سی پیک سے جڑے معاملات پر سامنے آنے والی تنقید چینی قیادت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ہندوستان اور دیگر ممالک کی جانب سے سی پیک کے خلاف سازشوں پر جنم لینے والی تشویش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی کامیابی اس کے مخالفین کے لیے بہترین جواب ہوگا۔سی پیک کے خلاف بیرونی سازشوں سے نمٹنے کے لیے چینی وزیر کی حکمت عملی میں پاکستان اور چین کے درمیان ’ تعاون اور رابطے کی مضبوطی‘ اور پاکستان کے اندر اتحاد کو فروغ دینا شامل تھا۔زینگ ژیاسونگ کے مطابق پاک چین تعلقات کے یوں ہی جاری و ساری رہنے کے لیے ’سیاسی اعتماد کا بلند معیار‘ اہم حصہ ہے۔انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ چین آئندہ بھی پاکستان کا مضبوط ساتھی رہے گا اور اہم معاملات میں اپنی مدد فراہم کرتا رہے گا۔
اس امر میں کلام نہیں کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لیے وہاں سیاسی استحکام کا ہونا از حد ضروری ہے۔سی پیک منصوبے نے عالمی توجہ بھی حاصل کی ہوئی ہے اور عالمی برادری اسے اکیسویں صدی کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اندرونی سیاسی و گروہی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان کی سیاسی قیادت کو سی پیک منصوبے کی کامیابی کے لیے یکجان ہونا چاہیے۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ سی پیک کی اب تک کی کامرانی میں عسکری قیادت کی توجہ و کردار کو چائنہ کی حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ہمارے سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی عالمی سطح پر ملکی وقار کے لیے ذاتی و فروعی اختلافات کو ایک طرف رکھ دیں ۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *