• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • کراچی میں پھیلنے والی پر اسرار بیماری اور حکومتی ذمہ داریاں

کراچی میں پھیلنے والی پر اسرار بیماری اور حکومتی ذمہ داریاں

کراچی میں پھیلنے والی پر اسرار بیماری اور حکومتی ذمہ داریاں
طاہر یاسین طاہر
پاکستانی عوام کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیشہ حکومتی اور اس کے زیر اثر انتظامی اداروں کی نا اہلی کو تقدیر کا لکھا،”پر اسرار وبا “یا اسی طرح کا نا مانوس سا نام دے کر سارا کام غیر مرئی قوتوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔لیکن امر واقعی یہ ہے کہ یہ حکومتوں کی نا اہلیاں اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی عدم رغبت و دلچسپی ہی ہے جو نت نئے مسائل سامنے لا رہی ہے۔پاکستانی عوام کو جن بنیادی مسائل کو سامنا ہے ان میں سے تعلیم و صحت کی سہولیات کا فقدان،مہنگائی ،بے روزگاری اور دہشت گردی کا سامنا قابل ذکر ہیں۔اس وقت کراچی کے باسی ایک” پر اسرار” قسم کی بیماری کا شکار ہیں، جس کے بارے میڈیا پر یہی خبریں چل رہی ہیں کہ یہ بیماری چکن گانیا ہے۔مگر ذمہ دار ادارے حسب عادت اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔طبی حوالے سے پیش کی جانے والی منطق اگرچہ قابل توجہ ہے کہ جب تک مریضوں کے تمام ٹیسٹ نہیں کیے جاتے اور ان کی رپورٹس حاصل نہیں کر لی جاتیں،قبل از وقت کچھ کہنا درست نہ ہوگا۔مگریہ بیماری کہ جسے پر اسرار بیماری کا نام دے کر خوف بھی پھیلایا جا رہا ہے، ماہرین کے مطابق اسے طبی زبان میں چکن گانیا ہی کہا جاتا ہے اور یہ خطرناک بیماری ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی طبی ماہرین کی خصوصی ٹیم نے کراچی کے علاقوں ملیر، کھوکھرا پار، سعود آباد اور شاہ فیصل کالونی میں تیزی سے پھیلنے والی نامعلوم بیماری میں مبتلا مریضوں کے خون کے نمونے حاصل کئے تھے جنہیں تجزیئے کےلئے اسلام آباد بھجوا دیا گیا تھا۔جبکہ گذشتہ تین سے چار دنوں کے اندر کراچی کےہسپتالوں میں مزید 46 مریض جنھیں شدید تیز بخار تھا لائے گئے، جبکہ ڈائریکٹر صحت کراچی ڈاکٹر عبدالوحید پنہورا کاکہنا ہے کہ عوام میں بخارخوف کی وجہ سےہوا ہے۔ میڈیا پر چلنے والی خبروں میں پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ یہ نامعلوم بیماری ممکنہ طور پر چکن گنیا ہوسکتی ہے لیکن صوبائی اور وفاقی صحت کے اداروں کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے پاکستانی نمائندگان بھی مسلسل پاکستان میں چکن گنیا کی موجودگی سے انکار کررہے تھے اور اسے میڈیا کی پھیلائی ہوئی سنسنی قرار دے رہے تھے۔ البتہ کراچی کے تین مریضوں میں باضابطہ طور پر چکن گنیا کی تصدیق ہوجانے کے بعد میڈیا کا خدشہ درست ثابت ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقعہ ہے جب پاکستان میں چکن گنیا وائرس کا حملہ مشاہدے میں آیا ہے۔ یہ بیماری ’’ایڈیز‘‘ قسم سے تعلق رکھنے والے مچھروں (ایڈیز البوپکٹس اور ایڈیز ایجپٹائی) سے ہوتی ہے اور یہ دونوں مچھر ہی پاکستان میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔پاکستانی ماہر حشریات پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمدنے گذشتہ دنوں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج سے 10 سال قبل ہی چکن گنیا کے ممکنہ حملے سے حکام کو خبردار کردیا تھا اور تب وہ پاکستان میں ڈینگی کے پھیلاؤ سے متعلق ماہرین کی ایک ٹیم کی قیادت کررہے تھے۔
ڈاکٹر امتیاز کا یہ بھی کہنا تھا کہ چکن گنیا سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ شدید بخار اور جوڑوں میں درد ضرور پیدا کرتا ہے لیکن عام طور پر ہلاکت کا باعث نہیں بنتا اور تقریباً ایک ہفتے میں اپنی مدت پوری کرکے ختم ہوجاتا ہے۔۔ڈاکٹر امتیاز کے مطابق اس نامعلوم بیماری کی ظاہری علامات وہی ہیں جو چکن گنیا کی ہوتی ہیں جبکہ چکن گنیا وائرس بھی اُسی مچھر (ایڈیز البوپکٹس) میں پروان چڑھتا ہے جس میں ڈینگی کا وائرس پایا جاتا ہے؛ اور کراچی میں اس مچھر کی بہتات ہے، اس لئے انہیں خدشہ ہے کہ یہ چکن گنیا بخار ہی ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر امتیاز نے یہ بھی واضح کیا کہ گذشتہ چند ماہ سے بھارتی دارالحکومت دہلی بھی چکن گنیا کے شدید حملے کی لپیٹ میں ہے جس پر بھارتی میڈیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے جب کہ وہاں بھی یہ مسئلہ شدید گندگی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔وجہ کچھ بھی ہو،اور کوئی بھی دوسرا ملک کسی وبا کا شکار ہو،اس کا قطعی مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ پڑوسی ممالک میں پھیلنے والی ہر بیماری پاکستانیوں پر حملہ آور ہونے کا بھی حق رکھتی ہے۔ڈینگی کے خاتمے اور اس کے وائرس پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے اگر اپنی رپورٹ میں دس سال قبل ہی اس بیماری کے حملہ آور ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا تھا ،تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکام نے اس حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے؟
یہ امر حیرت انگیز اور افسوس ناک بھی ہے کہ ہمارے ہاں عملی اقدامات اسی وقت اٹھائے جاتے ہیں جب سینکڑوں افراد کسی وبائی یا علاقائی بیماری کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے معاشروں کا یہ دکھ اگرچہ کسی نہ کسی حد تک مشترک ہے مگر ہمارے ہاں میڈیا کے ذریعے اور اشتہارات میں جس ترقی کا ذکر عام ملتا ہے اس کا ایک لازمی جزو شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اورصحت و تعلیم کی سہولیات بھی ہوا کرتا ہے ۔ لیکن ہماری حکومتیں اس حوالے سے نہ تو ہنگامی اقدامات اٹھاتی ہیں اور نہ ہی یہ عوامی مسائل ان کی اولین ترجیحات میں رہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو باہم مربوط ہو کر اس چکن گانیا کی بیماری کے خلاف صف آرا ہو جانا چاہیے اور اس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہیے۔نیز اس بیماری کو دوسروں صوبوں اور شہروں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات بھی ضروری ہیں۔ کیا پاناما و کوئٹہ تحقیقاتی اور سابق صدر کی آمد والی تیاریوں میں پھنسی وفاقی و صوبائی حکومت کے پاس اتنا وقت ہے کہ چکن گانیا کے تدارک کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا سکیں؟

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *