افغانستان کی شر انگیزیاں

افغانستان کی شر انگیزیاں
طاہر یاسین طاہر
بد قسمتی سے پاکستان جس ملک کی خاطر اپنی سماجی حیات اور معاشی قوت تک قربان کرتا آ رہا ہے وہی ملک بھارت کی زبان بولتے ہوئے نہ صرف پاکستان کے حوالے سے اپنی منافقانہ خارجہ پالیسی ترتیب دے چکا ہے بلکہ اب تو اعلانیہ پاکستان کی مغربی سرحد سے بھی حملے ہو رہے ہیں۔جبکہ پاکستان میں دہشت گردی کا بازaر گرم کرنے والے اور پاکستان کے مطلوب دہشت گرد وں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہی ہیں۔اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔قوموں کی زندگی میں تلخ وترش واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے لیکن ہماری اپنی خارجہ پالیسی کا بھی قصور ہے اور ہمیں اپنی اس غلطی کو تسلیم کرنا چاہیے۔
دونوں ملکوں کی طویل سرحد بھی تنازع کی ایک وجہ ہے۔تاریخی طور پر افغانستان نے کبھی بھی اس اس سرحد کو تسلیم نہیں کیا ۔بلکہ اس کی حریص نظریں ان علاقوں پر بھی ہیں جہاں پشتون آباد ہیں۔گزشتہ دنوں کوئٹہ میں چمن بارڈر کے علاقے میں افغان فوجیوں نے مردم شماری ،اور اس کی سیکیورٹی پر مامور ٹیم پر حملہ کر دیاتھا۔اس حوالے سے انسسپکٹر جنرل (آئی جی) فرنٹیئر کور(ایف سی) بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم کا کہنا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا جس میں 50 افغان فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔چمن میں میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم ان (افغانستان) کے ہونے والے نقصان سے خوش نہیں کیونکہ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں، لیکن پاکستان کی سالمیت ہمارے لیے اولین ترجیح ہے، پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی قبول نہیں کریں گے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔
آئی جی ایف سی نے یہ بھی باورکرایا کہ اگر کسی نے دوبارہ یہ کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اسےاس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔میجر جنرل ندیم انجم نے مزیدکہا کہ افغان فورسز نے مردم شماری کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے اور پاکستانی علاقوں میں گھس کر مکانات پر قبضے کیے اور پوزیشنز سنبھالیں، جب پاکستان افواج کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی تو افغان فورسز کے 50 سے زائد اہلکار مارے گئے جبکہ 100 سے زائد زخمی بھی ہوئے۔میجر جنرل ندیم انجم نےمیڈیا کو بتایا کہ 5 مئی کو افغانستان کی جانب سے سیز فائر کی درخواست کی گئی جسے پاکستان نے قبول کر لیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے افغان حکام سے ملاقاتیں کیں اور انہیں ہر لمحہ باخبر رکھا کہ پاکستان کے اس علاقے میں مردم شماری کی جائے گی تاکہ انہیں کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو لیکن پھر بھی انہوں نے یہ شرارت کی۔دریں اثنا پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زاخیل وال نے گذشتہ ہفتے چمن میں پاک افغان فورسز کے درمیان ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں افغانستان کے 50 فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں صرف 2 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔افغان سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ چمن واقعے میں پاکستان کی طرف بھی ہلاکتیں اور لوگ زخمی ہوئے، لیکن ہم اس پر جشن منانے کے بجائے اس کی مذمت کرتے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ لوچستان کے شہر چمن کے علاقوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دوسیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افرادشہید جبکہ 40 زخمی ہوگئے تھے۔جبکہ افغان فورسز کی در اندازی کے نتیجے میں2 ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔
بے شک پاکستان یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ جب بھی مشرقی یا مغربی سرحدوں پر دشمن در اندازی کرے تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے اور پاکستان نے ایسا کیا بھی ہے۔یہ بات زیادہ اہم نہیں کہ افغانستان کے 2 فوجی ہلاک ہوئے یا 50 بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ افغان فورسز نے کس بنا پر اور کیونکر پاکستانی سرحدی دیہات پر گولہ باری کی اور سول آبادی کو نشانہ بنایا۔مردم شماری کے عمل میں رخنہ ڈالنا اور پاکستان کو طرح طرح سے پریشان کرنے کے پیچھے مقامی و بین الاقوامی طاقتوں کی سازشیں بے شک کارفرما ہیں۔لیکن افغانستان اس بات کو کیوں نہیں سمجھتا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے لیے عملی کوششیں کیں اور یہ کہ پاکستان گذشتہ چار عشروں سے افغانیوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔
اگر پاکستان افغان مہاجرین کو واپسی کی راہ دکھاتا ہے تو کیا افغانستان کی کمزور اور غیر مستحکم حکومت اتنے سارے افغانیوں کا بوجھ برداشت کر لے گی؟افغان معاشرے کے شدت پسندانہ رویوں کا ذمہ دار بھی یہ معاشرہ خود ہے۔افغانستان جو گذشتہ چار عشروں سے جنگ کا میدان بنا ہوا ہے اس کی سیاسی قیادت کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اس نے بھارت کے کہنے پر پاکستان سے بھی جنگ شروع کر دی تو اس افغان معاشرے کی رہی سہی قوت حیات بھی ختم ہو جائے گی۔پاکستان اگر چند ہفتوں کے لیے باب دوستی اور دیگر کراسنگ پوائنٹس ہی بند کر دے تو افغان تجارت ارو اشیائے خوردونوش کدھر سے کابل پہنچیں گی؟

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *