وہ دن جب مری کو ہمارا دیدار نصیب ہوا۔۔۔لائبہ عروج

وومین یونیورسٹی صوابی

جب سے ہم نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اسی دن سے ہی ہمیں یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ آپ لوگوں کو ٹرپ پر لے جایا جائے گا۔ اور ہم اس خیال سے اپنی پڑھائی کی طرف پرجوش ہوجاتے تھے ۔ زندگی کے دن گزرتے گئے اور یوں اس خواب کو کاندھوں پر سوار کرتے کرتے ہم پہلے سمسٹر سے دوسرے سمسٹر میں آگئے مگرخواب تعبیر نہیں ہوا۔ کیونکہ اس دوران وائس چانسلر کا ٹینور پورا ہوگیا اور وہ چلی گئی۔ اب خواب کی تعیبر اور امیدوں کا سہارا دوسرا وائس چانسلر تھا۔ جس نے نجانے ہمارے خواب پڑھ لئے تھے یا اُسے کوئی الہام ہوا تھا۔ اُس نے پہلی تقریر میں ہمارے دل کی آواز سن لی اور جب سیر سپاٹے پر جانے کی بات آئی تو وائس چانسلر نے مری جانے کی نوید سنادی تو ہمارا دل بلیوں اچھلنے لگا اور ہال میں تالیوں سے کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔اب منصوبہ بندیاں ہونے لگی کہ ٹرپ کو کس طرح انجوائے کیا جائے گا۔ کیونکہ ہمارے خواب کوتعبیر ملنے والی تھی ۔ اور پر وہ دن بھی آگیا جب ہم نے 4اکتوبر 2019کو مری کو شرف بخشنا تھا۔ اُس دن ساری لڑکیاں زرق برق لباس میں پریوں کی طرح لگ رہی تھیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تیار ہوکر آئی تھی۔ہماری وہ کلاس فیلو جو سادہ کپڑوں میں یونیورسٹی آیاکرتی تھی وہ بھی اس دن تتلیوں کے رنگوں سے مزین تھیں ۔ ہر طرف ایک چور تھا۔ بس میں سوار ہونے سے پہلے سب نے اپنے سامان چیک کئے کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی ۔ یہ نہ بھولنے والے لمحات تیزی سے گزر رہے تھے۔ پھر ترتیب سے لڑکیوں کو بس میں بٹھایا گیا مگر بعد میں وہ بے ترتیبی ہوئی کہ پوچھو مت ۔ میوز ک کے ساتھ شروع ہونے والا سفر میوزک کے ساتھ ہی ختم ہوا تھا۔ ہر قسم کا میوز ک بجایا گیا اور ہم سب لڑکیوں نے دل کھول کر میوزک اورٹرپ کا انجوائے کیا۔ بس جوں جوں منزل کے قریب ہورہی تھی ۔ خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ سب خوبصورت مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہے تھے۔ اردگرد کے مناظر آنکھوں کو خیرہ کررہے تھے۔ بس کی کھڑکیوں سے ہوا اندر آکر ماحول کو سرد کررہی تھی۔ پہاڑوں کی جھرمٹ ہر طرف سبزہ دائیں بائیں خوبصورت پر فضا مقامات ، یخ بستہ ہوائیں ، سفر سے لطف اُٹھانے کے لئے یہ چیزیں کافی تھیں ۔ موسم نہ سرد تھا اور نہ ہی گر م بس درمیانے درجے کا موسم تھا۔ جو مزے کو دوبالا کررہا تھا۔ جیسے ہی یخ بستہ ہوائیں ہم سے بغل گیر ہونے لگیں ۔ اس بات کا احساس شدت سے ہونے لگا کہ ۔ آج ہم ہواﺅں میں ہیں ۔ایسے میں موسیقی سے موسم اور ورمانٹک ہورہا تھا۔ جب نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھی تو اندر اور باہر کے موسم کے ساتھ ساتھ آسمان بھی اپنا رنگ دکھارہا تھا۔ آسمان پرسے بادل یوں لگ رہے تھے۔ جیسے کسی نے کپاس کے پھول بکھیر دیئے ہوں ۔ نیلے آسمان پر سفید بادل رقصاں تھے۔ آنکھوں کے لئے اگر چہ یہ منظر انوکھا نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی آسمان توتوجہ کو طلبگار بنے کھڑا تھا۔ اور بے اختیار ہماری آنکھیں ان قدرتی مناظر پر ماشاءاللہ کے کلمات زبان تک لارہی تھی ۔
بسوں کے باہر نظروں نے بازار کا طواف کیا جہاں دکانیں ہی دکانیں تھیں ۔ ہر بندہ روزگار کی خاطر بازاروں کی خاک چھان رہا تھا۔ ہماری بس ایک جگہ روکی گئی جہاں بھٹے بیچے جارہے تھے۔ جس نے موسم کی مناسبت سے وہ مزہ دیا کہ بتانے کے لئے الفاظ نہیں ہیں ۔ بھٹے کھانے کا ایسا مزہ کبھی گھر میں بھی نہیں آیا ۔ سر سبز پہاڑوں کے بیچ وبیچ سڑک پر رواں دواں بسوں سے باہر کے مناظر پکار پکار کراظہار کر رہے تھے کہ ہے کوئی دیکھنے والی نظر جو مجھے اپنی آنکھوں میں قید کر لے ۔ اور ہم سب اپنی آنکھوں کے ساتھ کیمروں کی آنکھ سے بھی وہ مناظر عکس بند کر رہے تھے۔ مری کے نزدیک ہمارا سفر بس سے نہیں اب سوزروکی میں طے ہونا تھا۔ پندرہ بیس منٹ میں سوزوکی نے ہمیں مال روڈ پر اُتار دیا جہاں سے اب پیدل ہی مری کو سر پر اٹھانا تھا۔ دکانوں میں پڑی آشیا ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی تھیں ۔ روایتی زیورات اور روایتی لباس سب لڑکیوں کی پسندیدہ تھیں ۔ ہم نے بھی ضرورت کو مدنظر رکھ کر شاپنگ کی اور پھر ونڈو شاپنگ پر ہی اکتفا کیا ۔ مری کی یخ بستہ ہواﺅں نے جب چہروں اور جسموں کو چھوا تو بھوک کا احساس ہوا۔ اور پھر ہم تھے اور مری کے ہوٹل تھے۔ جہاں باﺅتاﺅ نہیں چلتا ۔ اور بھوک کے سامنے باﺅ تاﺅ ویسے بھی نہیں چلتے ۔ پیٹ پوجا کے بعد تھوڑی دیر مزید مال روڈ کی بھول بھلیوں میں گم رہے پھر واپسی کی راہ لی ۔ جہاں سوزوکیاں منتظر تھیں ۔ اور بس بھی اس انتظار میں تھا کہ کب پریوں کاغول پدھارے گا کہ انہیں کوہ قاف کی وادی سے یوسفزئی کی پہاڑوں میں لے جایا جائے ۔جاتے جاتے مری پر الوداعی نظر ڈالی اور واپسی پر کچھ ان دیکھے مناظر سے محذوذ ہوئے ۔ شام کے گھنے اندھیارے میں چاند اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔ آنے والی گاڑیوں کی روشنیاں جگنوﺅں کی مانند لگ رہی تھیں ۔ پھر وہ لمحہ بھی آگیا جب مری کا یہ سفر ہمارے لئے ایک مہینے کے وٹس اپ اسٹیٹس دے کر اختتام پذیر ہوگیا ۔گھر آتے ہی میں نے یہ سوچا کہ یہ ہماری خوش قسمتی نہیں تھی کہ ہم نے مری دیکھا بلکہ یہ مری کی خوش نصیبی تھی کہ مری کو ہمارا دیدا ر نصیب ہوا۔

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *