ایم آر آئی، پندرہ منٹ اور کوک سٹوڈیو ۔۔۔ معاذ بن محمود

زندگی میں تنوع کی بڑی اہمیت ہے۔ پندرہ منٹ کی انوکھی مثال کو لے لیجیے۔ کئی عمل ایسے ہیں جنہیں سرانجام دینے کو ۱۵ منٹ کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ مثال کے طور پر۔۔۔۔ جی وہی۔ کئی حالات ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے گزرتے ہوئے پندرہ منٹ پندرہ سال طوالت اختیار کرتے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ایسے ہی ایک کاموں میں دماغ کی ایم آر آئی بھی شامل ہے۔

کچھ دیر پہلے چند ناگزیر ایمرجنسی وجوہات کے باعث ناچیز کو دماغ کی پلین ایم آر آئی کروانے کا تجربہ ہوا۔ ریڈیالوجی رومز سے ویسے ہی وحشت ہوتی ہے پھر اپنے کسی کام سے جانا ہو تو بقول انکل مجبور “میری جان ای نکل جاندی اے”۔ خیر نرس نے اندر لے جا کر چھوڑ دیا۔ سامنے جو دیکھا تو ایک عدد باریش ملباری جوان۔ تخیل کے پردے پر کہیں دور سے تصوراتی ویڈیو آوارگی کرتی نمودار ہوتی ہے جس میں ہم اپنے بنیان وغیرہ سے دوری اختیار کرنے کا حکم پاتے ہیں۔ ایم آر آئی کرنے “والی” ہوتی تو حیاء کا مسئلہ درپیش ہوتا، یہاں چونکہ ایم آر آئی کرنے “والا” تھا تو خوف محسوس ہونا برحق تھا۔

لیکن پھر یاد آیا کہ ایم آر آئی دماغ کا ہے۔ الحمد پاک نے کرم کا معاملہ فرمایا۔ لیکن صاحب صبر بھی کیجیے، ایسی جلدی بھی کیا۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی تھے۔

ایم آر آئی مشین آپریٹر نے حکم نامہ صادر کیا کہ جیبوں اور ہاتھوں میں موجود جملہ اشیاء وہ وہاں لاکر میں رکھ دو۔ حکم نامے پر عمل کرتے ہوئے ڈنڈی مارنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ خصوصی حکم آیا “دس موبائل اینڈ ہینڈز فری ایز ویل”۔ یہاں سے البرٹ آئینسٹائن کے مشہور زمانہ ٹائم ڈایالیشن کی عملی تفسیر سمجھ آنی شروع ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ٹائم مشین تو ہم ہاتھ میں لیے پھرتے ہیں۔۔۔ موبائل کی صورت میں کہ یہاں موبائل چھنا وہاں وقت تھم گیا۔ وہ تو بس سمجھ آج آئی۔ خیر بندے نے ایک سرنگ نما مشین پر لیٹنے کی ایس او پی پڑھ کر سنائی جو بس ایک ہی فقرے پر مشتمل تھی: “بیٹا تو نے ہلنا نہیں ہے”۔

“ہیں؟ ہلنا بھی نہیں ہے؟ ابے سالے موبائل بھی لے لیا ہینڈز فری بھی اور اس بالجبر کے دوران ہلنے ہلانے بھی نہیں دے گا؟”

یہ باتیں آ تو زور کی رہی تھیں مگر کہہ نہ پایا۔ کہہ بھی دیتا تو ملباری میں کہہ نہیں سکتا تھا انگریزی میں جذبات کے اظہار کا ویسے بھی مزا نہیں آتا۔ خیر مرتا کیا نہ کرتا، لیٹ گیا۔ پہلا سوال یہ پوچھا کہ بھائی کتنی دیر بعد تندور سے باہر نکالو گے؟ کہا پندرہ سے بیس منٹ۔

پندرہ منٹ؟ بغیر موبائل کے؟ وڈ دا۔۔۔ ڈک!

پوچھا بھیا کھجلی کرنے کی اجازت ہے؟ بولا ہاں کیوں نہیں بس جب جب گرگی پنہ دکھاؤ گے پرانے والے ایکسپائر ہو کر نئے والے پندرہ منٹ پھر سے شروع ہوجائیں گے۔ یقین کریں شیطان نے دماغ میں نہایت ہی شرمناک اور گندی گندی گالیاں واٹس ایپ کیں مگر دی ایک بھی نہیں۔ معلوم نہیں ملباری میں ب، چ، م، گ وغیرہ سے شروع ہونے والے الفاظ کا ترجمہ کیسا واہیات ہوتا ہوگا۔ توبہ۔

بھائی نے یہاں پر بس نہیں کیا۔ لٹانے کے بعد ساڑھے چار انچ والی دیوار میں بچے ہوئے اینٹ کے روڑے کی طرح سر مشین میں پھنسانا شروع کر دیا۔ کبھی سر کے ایک طرف کچھ رکھتا تو کبھی دوسری طرف۔ کافی نزاکت سے بیضوی سر کو ٹکانے کے بعد سر کے اوپر ایک پلاسٹک کا بکس نما رکھ کے ہمیں ایسا محسوس کروانے لگا جیسے مستطیل شکل کا ہیلمٹ پہنے لیٹے ہوں۔ یعنی تصور کیجئے آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہیں، سفید ریکٹ اینگل شکل کا ہیلمٹ پہنا ہو اور موٹر سائیکل بھی نہ چلا رہے ہوں، بس لیٹے ہوں۔ للعجب۔

اچھا اس بکسے میں ایک ننھا سا آئینہ بھی لگا ہوا تھا جیسے خاموش پیغام دیا جا رہا ہو “چل پتر آج اپنی شکل دیکھنے کا وہ کرب محسوس کر جو پچھلے چونتیس سال سے دنیا بھگت رہی ہے”۔ خدا کی قسم بہت دکھ ہوا آپ سب پر۔ پھر تصویر پر طرح طرح کے فلٹر بھی یاد آئے تو آنکھیں بھرنے لگیں۔ بہت مظلوم ہو بھائی تم سب۔ آخرکار مجھ مجبور کے ہاتھ میں عجیب ربڑ کی کوئی شے تھما دی گئی۔ پہلے تو مجھے سمجھ نہ آئی۔ پھر جو سمجھ آئی وہ برداشت نہ ہوپائی کہ یہ چیز میرے ہاتھ میں تھمانے کی ہمت کیسے ہوئی۔ پھر یاد آیا میں اسے کھینچ کر آنکھوں کے سامنے لاتا ہوں تاکہ بدترین خدشات سے جان چھوٹے۔ الحمد للّٰہ رب نے پھر سے کرم کیا۔ وہ ایک ربڑی گیند سی تھی جس کی بابت حکم دیا گیا کہ کوئی گھبراہٹ وغیرہ محسوس ہو تو اسے دبا دینا۔ “جی بہتر” پر اکتفا کرتے ہوئے پندرہ منٹ شروع ہونے کا انتظار شروع۔

لیکن “ابھی عشق کے امتحان۔۔۔ الخ” کے مصداق دیدے پاڑ ٹیسٹ اور بھی تھے۔ مشین کے حوالے کرتے کرتے بھائی نے حکم دیا کہ آنکھیں بند کر لو اور ہتھوڑوں کی آواز آئے تو ڈرنا نہیں۔ یہ مشین ایسے ہی کام کرتی ہے۔

اب میرے اندر کا پریشر ککر پھٹنے والا تھا۔ یار تم نے ایک موبائل کے نشئی سے موبائل چھین لیا، ہر پندرہ منٹ کی ڈرائیو پر کتاب سننے والے معصوم سے ہینڈز فری چھین لی، اسے کم سے کم بھی پندرہ منٹ جامد رہنے کا حکم دے دیا اب آنکھیں بند کر کے راگ ہتھوڑا بھی سنوانا ہے؟ اب کے لہذا میں بول پڑا۔ “بھائی آنکھیں لازمی بند کرنی ہیں؟” فرمائے “نہیں چاہو تو کھول لو لیکن تم خود ہی بند کرو گے”۔ اور یہ کہتے ہی جوان نے مشین کے حوالے کر دیا۔

اچھا اگر آپ آئی ٹی سے وابستہ ہیں اور پہلی بار پلین برین ایم آر آئی کروا رہے ہیں تو مشین کے اندر جاتے ہی آپ کو لگے گا کسی بہت بڑے سرور کی پاور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کی گئی ہو اور وہ ایرر بیپ دے رہا ہو۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ذہن میں آیا لو مارے گئے۔ اچانک دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی انگلی پر پڑا تو پتہ چلا چھلا ہاتھ میں ہی رہ گیا۔ لو بھئی تابناک قسم کی تابکاری نکلے گی اب۔ فورا سے پیشتر ربڑی کرہ دبانا شروع کر دیا۔ ایک بار دبایا آواز آئی “پاں”۔ کچھ نہ ہوا۔ ایرر ساؤنڈ ویسے ہی چلتا رہا۔ بال پھر دبائی۔ “پاں”۔ ملباری ندارد۔ وٹ دا۔۔۔۔ “پاں پاں پاں پاں پاں پاں پاں”۔ دور سے آواز آئی “برادر کمنگ”۔ جناب آئے تو بتایا میاں یہ چھلا تمہاری مشین نہ کھود ڈالے۔ “اٹس اوکے” کہتے ہوئے ملباری غائب۔ ہائے یہ قلبی سکون ہمیں بھی عطا کر دیا جاتا۔

اب جو ہم مشین کے اندر کو چلے تو محسوس ہوا جیسے تابوت میں بند ہوگئے ہوں جس میں اپنی آنکھیں دیکھ کر ملک الموت کی جلد از جلد آمد کی دعا کو سبب پیدا کر دیا گیا ہو۔ سر میں ہلا نہیں سکتا۔ تھوک نگل نہیں سکتا۔ خارش کرنے پر بھی پابندی۔ کھانسی پر بھی ٹوک۔ موبائل سے بھی محروم۔ کروں تو کیا؟

اور پھر اچانک ہتھوڑے برسنا شروع ہوگئے۔ ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک۔ ٹھا ٹھا ٹھا ٹھا۔ ڈز ڈ ڈز ڈز۔ ٹاؤں ٹاؤں ٹاؤں ٹاؤں۔ خدا کی قسم کبھی سوچا نہ تھا کہ ایک ہتھوڑا اتنے سارے طریقوں سے بھی مارا جا سکتا ہے۔ ابھی ان آوازوں سے نکل نہ پایا تھا کہ ناک پہ خارش بھی شروع۔ یا اللہ۔ کہاں پھنسا دیا۔ کھجلی کا علاج سوچتے سوچتے اپنی آنکھوں پر نظر پڑی۔ سرخ سرخ چھوٹی چھوٹی آنکھیں۔ خان کے دفتر کی چرس یاد آگئی (خان میرا اردو سپیکر دوست ہے، پر جو آپ سمجھے وہ بھی۔۔۔)۔ اپنی ہی آنکھیں دیکھ کر آنکھیں بے ساختہ بند۔ اب راگ ہتھوڑاں میں پھر کوئی نیا سر شروع ہوا۔ ٹائیں ٹائیں ٹائیں ٹائیں۔ ساتھ ہی ناخن دیوار سے رگڑنے والی “کھررررررر کھرررررر کھررررر”۔ اب آغاز ہوا گھبراہٹ اور سر پر خارش کا۔ “یہ موا گرگی کا دورہ ابھی پڑنا تھا”۔ توجہ ہٹانے واسطے آنکھیں دوبارہ کھول لیں۔ پھر سے اپنی آنکھوں پر نظر پڑی۔ پھر بند۔ “ڈز ڈز ڈز ڈز ڈز ڈز”۔ ہتھوڑا پھر شروع۔

پھر مجھے ایک اور خیال آیا۔ میں نے ایم آر آئی مشین کی آوازوں میں کوک سٹوڈیو کی موسیقی ڈھونڈا شروع کر دی۔ پہلے یہ راگ ہتھوڑا راحت فتح علی کی جانب سے نصرت مرحوم کی کھودی جانے والی قوالیوں جیسا لگا۔ پھر سلمان احمد کی جنون کے ساتھ جنونی زیادتی والے گانے جیسا۔ پھر جانے کون کون سا ٹام ڈک اور ہیری راگ ہتھوڑے میں سنائی دینے لگا۔

یوریکا! میں نے وقت گزاری کا سامان پیدا کر لیا۔ لیکن یہ کیا؟ جو پندرہ منٹ پہلے پندرہ گھنٹے جیسے محسوس ہو رہے تھے کوک سٹوڈیو کا ردھم پاتے ہی پندرہ دن جیسے لگنا شروع ہوگئے۔ اب یہ کوک سٹوڈیو کا مسئلہ تھا یا میری ذہنی اختراع، واللہ اعلم بالصواب۔۔۔ میرا صبر بس ختم ہونے کو تھا۔

اور پھر۔۔۔ اچانک۔۔۔ راگ ہتھوڑا کے مزید کچھ سروں کے بعد اچانک ہمیں بیک شدہ پیزے کی مانند اس تندوری ایم آر آئی مشین سے باہر نکال لیا گیا۔

“ففٹین منٹس ود آؤٹ موبائل سیمڈ ففٹین ڈیز برو”

یہ کہتے ہوئے ہم نے اپنا سامان اٹھایا اور دوسری منزل بھاگے کہ ملباری نے “بھاگ ورنہ ڈاکٹر گیا” کہہ کر چند لمحے میسر آنے والا سکون بھی چھین لیا۔ ڈاکٹر کے ساتھ کیا ہوا وہ ایک الگ داستان ہے لیکن چالیس منٹ تک جاری رہنے والے جس مسئلے کی وجہ سے مجھے ایم آر آئی کروانی پڑی، یہ پندرہ منٹ ان چالیس منٹوں پر بھاری پڑ گئے۔

ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس دوران کوک سٹوڈیو کے کئی گانوں کا مؤثر استعمال ضرور سمجھ میں آیا۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *