آسٹریلیا، آزادی اظہار رائے اور قانون۔۔۔ نعمان خان مروت

پاکستان میں شروع سے ہی صحافتی آزادی حکومتوں کی  آنکھوں میں چبھتی رہی ہے۔ چاہے وہ جمہوری دور ہو یا کسی ڈکٹیٹر کی حکومت، سب نے ہی کسی نہ کسی شکل میں اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ عموماً آ زادی اظہار کو دبانے کے لئے سخت قانون سازی کا سہارا لیا گیا۔ان قوانین کی تاریخ پرانی ہے مگر پاکستان میں اسکا آغاز سیفٹی ایکٹ نامی قانون لاکر کے کیا گیا۔
آزادی اظہاراور صحافتی پاپندیوں کی نئی شکل آج کل پاکستان میں غیر اعلانیہ سنسر شپ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

مگر جہاں آج کل آزادی اظہار پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور بیش تر صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں وہی ترقی یافتہ ممالک اور حکومتیں بھی ان معاملات میں الجھی نظر آتی ہیں۔ حالیہ مثال آسٹریلیا کی ہے جہا ں متعدد بڑے اخبارات و رسائل ان دنوں آزادی صحافت کے لیے آواز اٹھارہے ہیں۔ جس کا آغاز تو روا ں سال جون میں ہوا ،جب مقامی پولیس کی جانب سے دارالحکومت کینبرا میں واقع نیوز دفتر اور بعد ازاں سڈنی میں آسٹریلیائی نشریاتی کارپوریشن کےہیڈ کوارٹراور ایک صحافی کے گھر پر چھاپے کے بعد ہوا۔حکومت اور صحافتی اداروں کے درمیان اس کشیدگی کا آغاز تب ہوا جب روزنامہ ہیرالڈ سن نےآسٹریلوی  سپیشل فورس کے افغانستان میں مردوں اور بچوں کے قتل کے واقعات کی تفصیل شائع کی۔آسٹریلوی حکومت اب تک اطلاعات کی رسائی اور ابلاغ کے حوالے سے 22 بار قانون سازی کر چکی ہے۔حکومتی  ترجمان  کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار کے لئے کوشاں ہے مگر وہ خفیہ اطلاعات کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ ایسی آراء اور معلومات کی فراوانی نہیں چاہتے جو ہماری ثقافتی اقدار کے منافی ہو۔

اس سلسلے میں جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ صحافتی تنظیموں کا اتحاد اور یکجہتی ہے جس کی مثال پاکستان میں کم ہی ملتی ہے۔احتجاج اور کشیدگی کو اس وقت بین الاقوامی میڈیا میں پذیرائی ملی جب آسٹریلیا کے تمام بڑے اخبارات و رسائل نے بطور احتجاج پہلا صفحہ خالی چھوڑ دیااوربڑے نشریاتی اداروں پر پرائم ٹائم دورانیے میں بلیک آؤٹ چھایا رہا۔ ملک کے بڑے اخبارات نے لکھا ”ایسی صورت میں جب حکومت آپ سے سچ بولنے کا حق چھین لے ، تب وہ کیا شائع کرسکتے ہیں؟

ایسی صورت حال میں جب اخبارات کی اشاعت غیر معمولی صورت حال سے گزر رہی ہو ایسے میں عوام اوراطلاعاتی اداروں میں ایک گو مگو کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ عوام اپنی حکومت کے حوالوں سے اپنے سوالات کے جوابات سے محروم ہو جاتی ہے۔ ایسی ممالک جہاں جمہوریت ایک عرصے سے ہو وہاں ایسی صورت حال غیر معمولی صورت حال کو پیدا کرتی ہے۔
اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر خوب چرچہ رہا اور آسٹریلوی حکومت کے ان اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔دنیا بھر کے صحافیوں، قانون دانوں اور تجزیہ کاروں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آسٹریلیا، آزادی اظہار رائے اور قانون۔۔۔ نعمان خان مروت

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *