خبر اور افواہ کے درمیان لٹکتی قوم۔۔۔محمد منیب خان

سچ کو غیر معتبر کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی جھوٹے کی زبان سے کہلوا دیا جائے۔ واصف باصفا رح کا قول ہےسچ وہ ہےجو سچے کی زبان سے نکلے۔ کوئی سچ کسی ناقابل اعتبار زبان سے ادا ہونے کے بعد قابل اعتبار نہیں رہتا۔ مذہب کی سچائی کو فی الحال موضوع بحث بنائے بغیر دیکھا جائے تو سچائی ایک ریلیٹیو ٹرم ہے۔ سیاسی، نظریاتی سوچ معروضی لحاظ سے دونوں طرف کی درست اور سچ بھی ہو سکتی ہے اور جھوٹ بھی۔ چونکہ انسان کو ہر وقت سچائی جاننے کی دھن میں لگا رہنا چاہیے۔ لہذا سچائی تک پہنچنے کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ دوسری  طرف اپنی سچائیوں پہ بضد رہنا بھی کوئی قابل فہم بات نہیں۔ اسی لیے غالباًجب مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنے نظریات کے لیے جان دے سکتے ہی؟  تو انہوں نے جواب دیانہیں ممکن ہے میں غلط ہوں۔

سچ کو دبا دیا جائے یا محض سچ میں جھوٹ کی ہلکی سی آمیزش بھی کر دی جائے تو وہ اپنی ہیت کھودیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سچ اپنی ہیت کھوتا جا رہا ہے۔ یقین نہ آئے تو مجھ سمیت سب لوگ اپنا محاسبہ کر کے دیکھ لیں۔سیاسی نظریات پہ ایسی پختگی، گویا میری سچائی کے آگے دنیا تمام ہو جاتی ہے۔ ایسی پختگی دین میں دکھائی جائے تو جنت اسی دنیا میں جھولیوں میں آ کر گرنے لگے۔وہم اور خود پسندی کا شکار کبھی سچائی تک نہیں پہنچ سکتے بلکہ سچائی ان سے کنی کترا کر نکل جاتی ہے۔

ہم بحیثیت قوم اب وہم اور خود پسندی کے مرض میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارا سیاسی ذہنی ارتقا 2011 کے بعد سے رُک چکا ہے۔  ہمیں اپنی سیاسی سچائیوں کو آفاقی سچائی بنا کر پیش کرنے کا حوصلہ تو شاید کم علمی سے ملالیکن اس کا برملا اظہار سوشل میڈیا کی وساطت سے ہوا۔ اب سچائیوں کا ہجوم لگا ہے اتنی سیاسی سچائیاں جمع ہو چکی ہے ہیں کہ سچ کا حصول ممکن نہیں رہا۔ کسی چیز کی بہتات ہونا یقیناً اس کے معیار کی قلت یا افادیت کی کمی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔

خبرعلم بھی ہے اور سچ تک پہنچنے کا ذریعہ بھی۔ خبر دبا دی جائے تو افواہ جنم لیتی ہے۔ اور افواہ بد خبری ہے۔ افواہ کے سوتوں سے ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ ہیجان قوموں کو الجھن میں مبتلا کرتا ہے۔ الجھی ہوئی  قومیں اپنی منزل کا تعین نہیں کر پاتیں  اور دائروں کے سفر میں رہتی ہیں۔ المیہ یہ ہوا کہ یہاں خبر سنا دی گئی۔ سچائی کو کسی جھوٹے منہ سے کہلوا یا گیا۔ خبر کا دبنا تھا تو افواہ ساز فیکٹریوں نےاتنی ترقی کی کہ ملک میں افواہ سازی کی نئی صنعت نے جنم لیا۔ یہ صنعت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ شاید ہم دنیا میں سب سےزیادہ سازشی تھیوریوں کی پذیرائی کرنے والی قوم بن چکے ہیں۔ خبر کو دبا دیا گیا ہے بلکہ خبر کو سدھا دیا گیا ہے،یا پھر خبر کوجذبات سے آلودہ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں سچائی تک رسائی کا حصول ممکن  نہیں رہتا۔ اور ایک آخری صورت زبان بندی بھی ہے۔ زیادہ منہ زور خبروں پہ زبان بندی کے حکم کا تازیانہ برسا دیا جاتا ہے۔ لہذا دائروں کا سفر جاری و ساری ہے۔ ہم سب بد صورت ہیں لیکن ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش اور مطمئن ہیں کہ میرا دشمن بھی بد صورت ہے۔

خبر کے حصول کو مشکل بنا دیا گیا لہذا یہ جاننا ممکن نہیں کہ اگلے چند روز میں ملک میں کیا ہوا۔ افواہیں عروج پر ہیں۔ ہر سیاسی و مذہبی گروہ نے اپنے اطمینان کے لیے اپنی پسند کی افواہ  کو جنم دے رکھا  ہے۔ المیہ  یہ ہے کہ قوم افواہوں پہ خوش ہے اور سچائی کے حصول میں وقت سے پہلے بدمزہ  ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

اس خبر اور افواہ کی  دوڑ میں بہت سی خبریں پیدا ہو کر اپنی شیلف لائف پوری کر کے مرتی جا رہی ہیں۔ ہم ایک خبر سے اگلی خبرپہ لپک رہے ہیں۔ سانحہ ساہیوال ایک خبر بنا، اس کے ملزموں کی رہائی ایک دوسری خبر۔ کل ہونے والا ٹرین کا حادثہ بھی ایک خبربنا۔ بہت سے دلوں کو مقدور کرنے والی خبر۔ یہ بھی چند روز میں اپنی شیلف لائف پوری کر لے  گی ،تو ہمیں کوئی اور خبر متوجہ کر لےگی۔ ہم خبروں اور افواہوں کے درمیان زندہ سوشل میڈیا پہ اپنی اپنی سیاسی وابستگی کی جنگ لڑتے ہوئے وقت گزاری میں مصروف قوم ہیں۔ جو صرف گفتار کا غازی بننے کو ہی کامیابی سمجھ بیٹھی ہے۔ آئیے اگلے حادثے تک سیاسی ناٹک جاری رکھیے۔ عمران خان استعفی دے رہا ہے۔۔ نہیں نہیں میاں صاحب بارہ ارب ڈالر دے کر باہر جا رہے ہیں۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *