• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ڈاکٹروں کیلئے حکومت, بیوروکریسی اور دوسرے کیوں زندگی مشکل بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔غیور شاہ ترمذی

ڈاکٹروں کیلئے حکومت, بیوروکریسی اور دوسرے کیوں زندگی مشکل بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔غیور شاہ ترمذی

راقم کی سسرالی فیملی میں ڈاکٹروں کی اکثریت ہے اور میری بیٹی عکس فاطمہ ترمذی نے بھی مستقبل کے لئے میڈیکل کا انتخاب کیا ہے۔ ڈاکٹروں کے ساتھ روزمرہ زندگی میں اتنا رابطہ رہتا ہے کہ ان کے معاملات سے کافی آگاہی ہونا فطری ہی لگتا ہے۔ اپنی فیملی کے ساتھ کافی مکالموں اور مباحثوں کے بعد راقم اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ اگر بیٹی نے ڈاکٹر بننا ہی ہے تو اسے کم از کم پاکستان کے سسٹم میں نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یہاں کی بیوروکریسی تہیہ کر چکی ہے کہ وہ اس ملک سے ڈاکٹروں کا خاتمہ کیے بغیر چین کی نیند نہیں سوئے گی۔ بیوروکریسی کی میڈیکل پروفیشن اور ڈاکٹروں سے اس قدر نفرت کی وجوہات تو نامعلوم ہیں مگر اس نفرت کا شکار نئے آنے والے ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ پرانے اور سینئر ڈاکٹر بھی بن رہے ہیں۔
اپنے پراجیکٹس کے سلسلہ میں راقم کو اکثر و بیشتر اسلام آباد جانا ہوتا ہے۔ اسلام آباد قیام کے دوران جہاں کئی سرکاری اداروں سے اپنے پراجیکٹس کے لئے ملنا ضروری ہوتا ہے وہیں اسلام آباد میں سیکٹر G۔10 /4 میں ساؤتھ سروس روڈ پر واقع پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن کا دفتر بھی ان مصروفیات کا اہم حصہ ہوتا ہے کیونکہ سسرالی ڈاکٹر بہن بھائیوں کے تجربے کے سرٹیفکیٹ سے لے کر رزلٹ کی پڑتال جیسے معاملات لاہور سے نہیں بلکہ اسی دفتر سے ہینڈل ہوتے ہیں جس میں ایک دو ہفتے نہیں بلکہ کئی کئی مہینے بھی لگتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہو چکا ہے کہ درخواست دہندہ کی فائل مکمل ہوتی ہے مگر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن کا عملہ صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ وہ ایک مہینہ سے پہلے مطلوبہ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتا۔ البتہ جب بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض صاحب والا طریقہ کار اپناتے ہوئے فائل کو پہیے لگا دیں تو مہینے والا کام ایک سے دو دن میں تکمیل پا جاتا ہے۔

راقم کے سسرالی رشتہ داروں میں کوئی ایک بھی ڈاکٹروں کی کسی تنظیم کا کبھی حصہ نہیں رہا اور نہ ہی یہ لوگ کبھی کسی احتجاج, نعرے بازی میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ سیدھے سادے اس طرح کے ڈاکٹر ہیں جن کو میڈیکل میں داخلہ کرواتے ہی یہ بات ذہن میں بٹھا دی جاتی ہے کہ یہ پروفیشن قربانی مانگتا ہے ۔ مزاج میں ٹھہراؤ مانگتا ہے ، خدمت کرنے کا جذبہ مانگتا ہے، مریض کو اپنا سمجھ کر قبول کرنے کا حوصلہ مانگتا ہے ۔ راقم کو تو کبھی ان کے ساتھ بات چیت میں بھی ڈاکٹروں کی سیاست اور تنظیم کے بارے گفتگو سننے کو نہیں ملی البتہ ڈاکٹروں کے مسائل, مریضوں کی مشکلات, وسائل کی کمیابی اور میڈیکل ورکرز کے غیر پیشہ وارانہ رویوں پر اکثر بات چیت رہا کرتی ہے۔راقم چونکہ سیاسی ذہن رکھتا ہے اس لئے اپنے ڈاکٹر رشتہ داروں کو ترغیب دیتا رہتا ہے کہ جو ڈاکٹر اپنی تنظیموں سے منسلک رہتے ہیں وہ بالکل ٹھیک کرتے ہیں۔ اپنے حق کے لئے تو لڑتے ہی ہیں مگر ساتھ ساتھ وہ مریضوں کے حق کے لئے بھی ماریں کھاتے ہیں، لاٹھی چارج برداشت کرتے ہیں۔
پاکستان میں ڈاکٹر بننا مطلب اپنا بچپن اور تقریباً ساری جوانی ہی کتابوں میں گزار دینا، فیملی فنکشنز میں شرکت نہ کر سکنا ایک نارمل سی بات ہے۔ میری بیٹی ابھی ایم بی بی ایس میں پہنچی نہیں لیکن میٹرک کے شاندار نتائج حاصل کرنے کے لئے یا آج کل ایف ایس سی میں جس طرح وہ مسلسل محنت کر رہی ہے, مجھے وہ سب یاد ہے اور شاید آئندہ بھی کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ ڈاکٹر بننے کے شوق میں اس نے سارا بچپن اپنی ہر کلاس میں بطور پوزیشن ہولڈر گزارنے میں مسلسل اور سخت محنت کی ہے۔ اور ابھی یہ سفر مکمل نہیں ہوا۔ میٹرک میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور میں پہلی 20 پوزینشنوں میں شامل ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اسے اسی طرح کا نتیجہFSC میں بھی چاہیے ہو گا۔ جس کے بعد انٹری ٹیسٹ کی چکی میں پس کر میٹرک اور ایف ایس سی کی روایت کو برقرار رکھنا بھی لازمی ہو گا۔ اس کے بعد ایم بی بی ایس میں پہنچ کر 5 سال کتابوں، لائبریری، وارڈز ، او پی ڈی میں دھکے کھانے کے بعد ڈگری تو مل جائے گی مگر اس کو validate کرنے کے لئے Housejob میں 36 ،36 گھنٹے ڈیوٹی کرنی لازمی ہو گی۔ اس کڑی اور سخت محنت کے بعد ہمارا سسٹم اسے آج کے حساب سے 1 لاکھ روپیہ ماہانہ ادا کرے گا۔ مگر اس کے بدلہ میں اسے مسیحا کم اور زر خرید غلام زیادہ سمجھے گا۔


ذرا ٹھہرئیے, ابھی یہ سفر مکمل نہیں ہوا کیونکہ صرف ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننا ہی کافی نہیں ہے۔ اگر آپ نے اس شعبہ میں ترقی کرنی ہے اور عزت کمانی ہے تو پھر ڈاکٹر کو FCPS یا مساوی ڈگری میں داخلہ لینا ہو گا جس میں 4 سال میں مکمل کرنے کے بعد ایک ڈاکٹر سپیشلسٹ بنتا ہے اور اس کی عمر 28 سے 30 سال تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اس پوزیشن پر پہنچ جانے کے بعد ہی ایک ڈاکٹر کچھ سکون کا سانس لے سکتا ہے اور 2 سے اڑھائی لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا حق دار بن پاتا ہے۔ اس دوران لڑکیوں کی مشکلات تو اور بھی زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ ایم بی بی ایس کے دوران یا فوراً بعد وہ اپنے سسرال روانہ ہو چکی ہوتی ہیں جس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی سپیشلائزیشن میں کچھ سالوں کی مزید دیر بھی ممکن ہے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ سسرال والے کہہ دیں کہ بس بیٹا جتنا پڑھنا تھا, پڑھ لیا, اب آرام سے گھر داری دیکھو اور سنبھالو۔
سپیشلسٹ ڈاکٹر بننے کے دوران اور بعض اوقات اس کے بعد بھی ڈاکٹروں کو کافی ایسے واقعات سے نمٹنا پڑتا ہے جو انتہائی ذلت آمیز ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ عین ممکن ہے کہ ایک ڈاکٹر مریضوں کو چیک کر رہا ہو اور کوئی ممبر اسمبلی ساری لائن کو توڑ کر یکایک آپ کے سامنے پہنچ کر چیخنا چلانا شروع کر دے۔ اسے آؤٹ آف ٹرن دیکھنے پر مجبور کرے, غلط میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کی ضد کرے یا بلا وجہ کا پروٹوکول دینے پر مجبور کرے۔ اگر ڈاکٹر یہ سب کرنے سے انکار کرے تو ممبر پارلیمنٹ کا یہ استحقاق مجروح کرنے والا مجرم بن جاتا ہے جس کے نتیجہ میں اتنی محنت سے حاصل کی ڈاکٹر کی ڈگری تیل لینے چلی جاتی ہے اور اسے Suspend بھی کیا جاتا ہے یا دوردراز شہر میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔
میڈیا کی آزادی اور الیکٹرانک میڈیا کی بھر مار سے ایک مصیبت یہ بھی پیدا ہو چکی ہے کہ کوئی بھی ان پڑھ بندہ چینل کا کیمرہ لے کر ڈاکٹروں کے کمروں میں بغیر اجازت کے داخل ہو جاتا ہے اور انتہائی بدتمیزی سے ڈاکٹروں سے بات کرتے ہوئے انہیں اپنی ڈگریاں چیک کروانے کے احکامات جاری کرتا ہے۔ ان پر مریضوں سے صحیح سلوک نہ کرنے کے الزامات لگاتا ہے, انہیں مرض کی صحیح تشخیص نہ کرنے کا قصوروار بھی ٹھہرا دیتا ہے۔ یعنی میڈیکل کی اتنے سالوں کی تعلیم حاصل کرنے والا میڈیکل کے بارے میں اور مریضوں کی میڈیکل ہسٹری حاصل کرنے والا کچھ نہیں جانتا لیکن اکثر اوقات صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے والا اپنے نام کے ساتھ صحافی کا ٹیگ لگا کر ایک ڈاکٹر کو 2 منٹ میں ذلیل کر سکتا ہے۔ اس کی ساری زندگی کی محنت اور پڑھائی پر لعنت ڈال کر جا سکتا ہے۔
ممبران پارلیمنٹ اور نامعلوم چینلوں و اخبارات کے ان جعلی صحافیوں کے علاوہ ابھی ڈاکٹروں کی ذلت کا سامان ختم نہیں ہوا کیونکہ اس میں ایک بڑا حصہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لیول کے کافی افسران کا حق ابھی رہتا ہے۔ راقم کے ایک دوست ڈاکٹر نے بتایا کہ ان افسران میں ایک بڑا گروپ ان پر مشتمل ہوتا ہے جو کچھ نمبروں کی کمی یا میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کی وجہ سے ڈاکٹر نہیں بن پاتے یوں انہیں ڈاکٹروں سے ایک طرح کا حسد اور نفرت ہوتی ہے۔ یہ لوگ ڈاکٹربننے میں ناکامی کے بعد گریجوایشن کر کے مقابلہ کا امتحان پاس کر کے انتظامیہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا دعویٰ ہے کہ مقابلے کا یہ امتحان ان کے سالانہ امتحان سے زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ ضلعی انتظامیہ کا افسر بننے کے بعد یہ افسران کی شدید دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹروں پر حکم چلا کر انہیں باور کروائیں کہ اصل عزت ڈاکٹری میں نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ کا افسر بننے میں ہوتی ہے۔ اگر ڈاکٹر ان ضلعی افسران کا حکم نہ مانے تو یہ وہی کرتے ہیں جو راجن پور کے یا کوئٹہ کے AC نے ڈاکٹروں کے ساتھ کیا تھا ۔

ابھی ڈاکٹروں کی ذلت پوری نہیں ہوئی ہوتی کہ عام عوام اپنا حصہ وصول کرنے آ جاتے ہیں جن کے پاس کوئی سرکاری اختیار تو نہیں ہوتا مگر وہ یہ دیکھے بغیر کہ ڈاکٹر پچھلے کتنے گھنٹوں سے ڈیوٹی پر ہے, بھوکا ہے ، نیند سے بے حال ہے مگر اُسے عوام کے کوسنے سننے, گالیاں سننے اور بعض اوقات تھپڑ , مکے بھی برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ عمومی طور پر ڈاکٹروں کو عام عوام کی سخت باتوں اور کوسنوں سے تکلیف نہیں ہوتی اور وہ اسے برداشت کر جاتے ہیں لیکن گالیاں اور دھکم پیل یا جسمانی تشدد برداشت کرنا ڈاکٹروں سمیت کسی کے لئے بھی بہت مشکل کام ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد ڈاکٹر کی اپنی کوئی پرسنل لائف نہیں ہوتی, اسے رات 12 بجے بھی ایمرجنسی کے لئے بلایا جا سکتا ہے, کوئی سیلاب آجائے, کوئی زلزلہ آجائے یا کوئی دوسری ناگہانی آفت ہو, ڈاکٹر کو ہر صورت وہاں پہنچنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بیمار نہیں ہو سکتے, اسے بھوک نہیں لگنی چاہیے, اس کے سر میں درد نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو خود ڈاکٹر ہے۔ رہی سہی کسر اس حکومت نے پوری کر دی ہے۔ چاہے وہ NLE کی شکل میں ہو, MTI کی شکل میں ہو یا صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی شکل میں نازل ہو۔
اختتام کے طور پر عرض ہے کہ پچھلے چار سالوں سے پاکستان سے باہر مستقل ہجرت کر جانے والے ڈاکٹروں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ جس طرح کے معاملات ڈاکٹروں کے ساتھ چل رہے ہیں, ان کے حساب سے یہ فطری بھی ہے۔ جس معاشرہ میں اتنی سخت اور مسلسل محنت کے بعد بننے والے ڈاکٹر کو نہ تو معقول معاوضہ ملے اور نہ ہی معقول عزت ملے , وہاں سے ڈاکٹر چلے ہی جائیں تو ان کے لئے بہتر ہے ۔ دوسرے ممالک میں آج کے حساب سے انہی ڈاکٹروں کو 10۔15 لاکھ رو پے ماہانہ ملتے ہیں جبکہ ڈیوٹی کے اوقات بھی آدھے ہوتے ہیں۔ جہاں کوئی ایم پی اے, وزیر, جعلی یا نامعلوم چینلوں کے صحافی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران ڈاکٹروں کو بےعزت بھی نہیں کرتے اور جہاں معقول معاوضہ کے ساتھ عزت, شہرت اور سکون کی زندگی میسر ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *