• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ایک مثالی اور باوقار ادارہ۔۔۔عمران علی

پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ایک مثالی اور باوقار ادارہ۔۔۔عمران علی

برصغیر کی تقسیم نے ارض پاکستان کی صورت میں ایک ایسی لازوال ریاست کو جنم دیا جو کہ نہ صرف پاکستان میں بسنے والوں کے لیے ایک نعمت تھی بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک امید کی کرن بن کر ابھری، مگر یہ تقسیم اس قدر غیر منصفانہ تھی کہ اس کی نظیر تاریخ کے اوراق پلٹنے اور انکا جائزہ لینے پر کہیں شاید ہی ملے گی، پاکستان کے حصے میں آنے والے اثاثہ جات کو ہاتھوں پر گنا جا سکتا تھا،ہندوستان سے ہجرت   کرکے آنے والے مسلمانوں کو بھیڑ بکری کی طرح کاٹا گیا، لوگ بدترین بے سروسامانی کا شکار ہو کر پاکستان پہنچے، پاکستان کے حصے میں اس وقت جو سرکاری دفاتر آئے وہ ابتر صورتحال سے دوچار تھے، بزرگ بتاتے ہیں کہ افسران زمین پر بیٹھ کر اپنے امور انجام دیا کرتے تھے۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملات میں بہتری آئی، ریاست کا انفراسٹرکچر بہتر ہوا، 60 کی دہائی میں دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا، لیکن جیسے جیسے ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا سرکاری اداروں میں کرپشن کینسر کی  طرح پھیلنا شروع ہوگیا اور یہ ناسور ایسا سرائیت کرنے لگا کہ پاکستان کا کوئی شعبہ اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا، بدعنوانی  نے عوام الناس کو اس قدر مایوس کیا کہ پاکستانی عوام کا یہ نظریہ بن گیا کہ کسی سرکاری ادارے میں بغیر رشوت یا سفارت کے کوئی بھی کام ہونا ناممکن ہے، مگر اس مایوسی کے عالم میں پاکستان میں دو ایسے سرکاری ادارے   ابھرے کہ جو پاکستانی عوام کے لیے نویدِ سحر اور امید کی روشن کرن ثابت ہوئے، جی ہاں موٹر وے پولیس اور پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ، یہ وہ پاکستانی ادارے ہیں کہ جن کی بدولت اہل وطن نے واقعتاً سکھ کا سانس لیا، موٹر وے پولیس کے بہترین انتظامی ڈھانچے، تربیت اور اعلیٰ اخلاق نے پولیس کے منفی پہلوؤں کو کافی حد تک زائل کیا، اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی مساوی سلوک رہا ہے، موٹر وے پر عام آدمی سے لے کر وزراء اور ارباب اختیار تک کو محتاط رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے جو کہ موٹر وے پولیس کی ایک تاریخی کامیابی ہے۔

پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کا قیام پرویز الٰہی صاحب کے دور میں ہوا، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں سے سر فہرست ٹھہرا، 1936 میں کوئٹہ میں آنے والے زلزلے سے لے کر 2019 کے میر پور آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے تک سینکڑوں قدرتی آفات سے پاکستان کو بہت سے جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، ایسے میں ریسکیو 1122 کا قیام ناگزیر تھا، سول ڈیفنس کا ادارہ مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہ ہوسکا اس کی بہت سی اہم وجوہات کے ساتھ ساتھ جدید تربیت اور اہم ساز و سامان کی عدم موجودگی ہے، چنانچہ 2006 کے پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ کے تحت، پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کا قیام عمل میں لایا  گیا۔ اس عظیم ترین ادارے کے سربراہ ڈاکٹر رضوان نصیر تھے جو کہ نہایت اعلیٰ پائے کے تربیت یافتہ اور ایک زبردست راہنما ثابت ہوئے ، اس ادارے کا دائرہ کار پنجاب کے 37 اضلاع تک پہنچایا گیا، ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی تربیت انتہائی سخت ہوتی ہے جس کا کم از کم دورانیہ 6 ماہ ہوتا ہے، ریسکیو 1122 کے نوجوانوں کی تربیت میں انسانی محبت، خلوص اور عزت کے جذبات کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے، سیلاب، زلزلہ، روڈ ایکسیڈنٹ، تیل   سے بھرے ہوئے ٹرکوں کے ایکسیڈنٹ سے لے کر مختلف مذہبی تہواروں پر بھی بڑی جانفشانی اور جرات کے ساتھ اپنی بے مثال خدمات پیش کرتے نظر آتے ہیں، ریسکیو 1122 کے جانباز انسانی جانوں کو تو بچانے میں اپنا مثالی کردار نبھا ہی رہے ہیں، لیکن متعدد بار جانوروں کو بھی مختلف مقامات پر ریسکیو کر چکے ہیں, اس سروس کا رسپانس ٹائم 7 منٹ ہے، اور ان کے پاس موجود ایمبولینسیز جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات سے لیس ہیں۔

ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ان کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے جس کا کام تمام ریسکیو اہلکاران کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مؤثر رابطہ سازی ہوتا ہے, ریسکیو 1122 کی سروس نے میعار کا ایسا پیمانہ قائم کردیا ہے کہ پروونشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب  کی جانب سے ریسکیو 1122 کو کسی بھی طرح کی قدرتی یا غیر قدرتی آفت کی صورت فوری امداد کے حوالے سےضلعی سطح پر مرکزی حیثیت دے دی گئی ہے، پوری دنیا میں ماہرین برائے انتظام و انصرام آفات اس پر بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ کسی بھی قسم کی آفات  سے نمٹنے  کے لیے اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی تربیت یافتہ افراد کی معاونت و شمولیت نہایت اہمیت کی حامل ہے، اس ضمن میں پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کا کمیونٹی ونگ بہت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس میں ایک طرف تو یہ ٹیم سکولوں، تعلیمی اداروں،سرکاری دفاتر اور نجی اداروں میں جا کر کسی بھی قدرتی یا غیر قدرتی آفت کی صورت میں خود کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے نہ صرف آگاہی فراہم کرتے ہیں بلکہ باقاعدہ عملی مشقیں بھی کرواتے ہیں، اسی کے ساتھ ریسکیو 1122 کی طرف سے ایک نہایت شاندار تربیت کروائی جاتی ہے جس میں قدرتی آفات سے عمومی متاثرہ علاقوں کے مرد و خواتین کو بالخصوص اور شہری علاقوں کے رہائشی رضاکاروں کو بالعموم “کمیونٹی ایکشن ان ڈیزاسٹر رسپونس” کے نام سے 3 روزہ زبردست تربیت دی جاتی ہے، اس تربیت میں آفات کی صورت میں تلاش اور بچاؤ کے  حوالے سے تمام پہلوؤں پر مکمل ٹریننگ دی جاتی ہے، اور یہ تمام افراد بحیثیت ریسکیو رضاکار اپنی مرضی کے ساتھ ریسکیو 1122 کو ہمہ وقت میسر کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور آن کال(on call) رہتے ہیں.

Advertisements
julia rana solicitors

پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 وطن عزیز کا ایک بہترین ادارہ ہے ، اس فورس کے تمام جوان اور افسران داد  وتحسین کے لائق ہیں، لیکن اس شاندار ادارے پر حکومت کو مزید توجہ دینی پڑے گی، اس ادارے کو پورے پنجاب میں مزید جدید ترین ایمبولینسیں، جدید ترین اور ہائی ٹیک آلات، فرنٹ لائن فورس کے نوجوانوں کی بین الاقوامی تربیتیں، پنجاب ایمرجنسی سروس کا اپنا سیٹلائیٹ چینل ڈویژن کی سطح پر.ریسکیو ہیلی کاپٹر،، تمام ریسکیو 1122 کے افسران و اہلکاروں کے لیے ایک مؤثر سروس سٹرکچر اور انکے لیے خصوصی فنڈز کی فراہمی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور سب سے بڑھ کر سالانہ کی بنیاد پر لوگوں کی زندگیوں کے ان محافظوں کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر اعلیٰ سول ایوارڈز کا اجراء نہ صرفِ ان کے حوصلے بلند کرے گا بلکہ ان کے خدمت کے جذبے کو بھی فروغ دے، بے شک یہ ادارہ ملک پاکستان کا ایک باوقار اور مثالی ادارہ ہے۔

Facebook Comments

سید عمران علی شاہ
سید عمران علی شاہ نام - سید عمران علی شاہ سکونت- لیہ, پاکستان تعلیم: MBA, MA International Relations, B.Ed, M.A Special Education شعبہ-ڈویلپمنٹ سیکٹر, NGOs شاعری ,کالم نگاری، مضمون نگاری، موسیقی سے گہرا لگاؤ ہے، گذشتہ 8 سال سے، مختلف قومی و علاقائی اخبارات روزنامہ نظام اسلام آباد، روزنامہ خبریں ملتان، روزنامہ صحافت کوئٹہ،روزنامہ نوائے تھل، روزنامہ شناور ،روزنامہ لیہ ٹو ڈے اور روزنامہ معرکہ میں کالمز اور آرٹیکلز باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، اسی طرح سے عالمی شہرت یافتہ ویبسائٹ مکالمہ ڈاٹ کام، ڈیلی اردو کالمز اور ہم سب میں بھی پچھلے کئی سالوں سے ان کے کالمز باقاعدگی سے شائع ہو رہے، بذات خود بھی شعبہ صحافت سے وابستگی ہے، 10 سال ہفت روزہ میری آواز (مظفر گڑھ، ملتان) سے بطور ایڈیٹر وابستہ رہے، اس وقت روزنامہ شناور لیہ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں اور ہفت روزہ اعجازِ قلم لیہ کے چیف ایڈیٹر ہیں، مختلف اداروں میں بطور وزیٹنگ فیکلٹی ممبر ماسٹرز کی سطح کے طلباء و طالبات کو تعلیم بھی دیتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ایک مثالی اور باوقار ادارہ۔۔۔عمران علی

Leave a Reply