سر پلیز کسی ڈرامے میں ایک چانس دلوا دیں۔۔۔چوہدری عامر عباس

SHOPPING
SHOPPING

شوبز کی دنیا میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے اور ہیروئین بننے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ایک نازک اندام معصوم دوشیزہ کی مبنی بر حقیقت چشم کشا کہانی۔
گزشتہ بدھ صبح ناشتہ ماڈل ٹاؤن کی ایک معروف ناشتہ شاپ سے کیا۔ حالانکہ خاندان میں دوڑتی دل کی بیماریوں کے  سبب میرے فزیشن اور کارڈیالوجسٹ جناب ڈاکٹر سجاد احمد نے احتیاطی تدابیر کے طور پر دس سال قبل مجھے کم عمری میں ہی یہ کہتے ہوئے لائف سٹائل بدلنے اور سادہ طرز زندگی اپنانے کی ہدایت کی تھی کہ عامر ہم ڈاکٹر لوگ آپ کی زندگی کا ایک لمحہ بھی نہیں بڑھا سکتے لیکن آپ کا سفرِ زندگی قدرے آسان کر سکتے ہیں۔ اور میں ان کے مشورے  پر من وعن عمل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے اب تک الحمد   للہ اچھی زندگی گزار رہا ہوں۔ خیر اس دن کافی بدپرہیزی ہوئی۔ آفس پہنچنے کے ایک گھنٹے بعد طبیعت کچھ ناساز ہوئی اور گھبراہٹ کے ساتھ سر میں درد محسوس ہونا شروع ہوا۔ جو وقت کیساتھ بڑھتا گیا۔ ایک بجے تک انتظار کیا۔ طبیعت ٹھیک نہ ہوئی تو چیک اپ کیلئے اتفاق ہسپتال جانا پڑا۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت تسلی سے چیک کیا تو کہا کہ بلڈ پریشر زیادہ ہے۔ وہاں انھوں نے دواء  دی۔ آدھا گھنٹہ وہیں رہا۔ دوبارہ بلڈ پریشر چیک کیا تو الحمد للہ نارمل ہو چکا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے نسخہ لکھ کر میرے ہاتھ میں تھمایا اور مزید مجھے کچھ ہدایات دے رہے تھے۔ جیسے ہی ان کی بات ختم ہوئی تو میرے کانوں میں ایک نسوانی آواز پڑی “سر آپ کا نام عامر ہے ناں؟” میں نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک موٹی آنکھوں، مہین ہونٹوں، تیکھے نقوش اور سانولی رنگت والی معصوم صورت لڑکی کھڑی تھی جو اپنے نیم بڑھے ہوئے ناخنوں والی انگلیوں میں بالوں کی ایک لٹ تھامے اس کیساتھ اٹھکھیلیاں کر رہی تھی ۔ اسکی عمر بیس سال کے   قریب رہی ہو گی۔ اس کیساتھ ایک ادھیڑ عمر خاتون تھی جو تقریباً پچاس کے پیٹے میں ہو گی۔ چہرے مہرے اور زیب و زیبائش سے کافی متمول گھرانے کی خاتون لگ رہی تھی۔

اس لڑکی نے پھر اپنا سوال دہرایا تو میرے منہ سے بے ساختہ نکلا “جی اس ناچیز کو عامر عباس کہتے ہیں لیکن سوری میں نے آپ کو پہچانا نہیں؟” یہ سن کر وہ لڑکی خوشی سے چلائی اور ساتھ کھڑی خاتون سے بولی “دیکھا ماما میں نے آپ کو کہا تھا ناں کہ یہ دنیا ٹی وی والے سر عامر ہی ہیں”۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئی اور بولی “سر مجھے آپ نے پہچانا نہیں؟ ” میں نے معذرت خواہانہ انداز میں نفی میں سر ہلایا اور مخمصے میں پڑ گیا۔

“سر پلیز کسی ڈرامے میں ایک چانس دلوا دیں “۔۔۔۔ یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجے۔ میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا اور سوچ رہا تھا کہ میں تو اسے جانتا تک نہیں۔ اتنے میں وہ بولی” سر آپ نے مجھے واقعی نہیں پہچانا؟ ”

میں نے جواب دیا “جی معافی چاہتا ہوں کہ بالکل بھی نہیں پہچان پایا”

وہ بولی “میرا نام حنا(یہاں نام فرضی ہے مگر کردار حقیقی ہے) ہے، آپ نے مجھے دنیا نیوز میں وینا ملک کے ایک پروگرام میں ایک کلاس روم میں چھوٹا سا رول دلوایا تھا جب میں گیارہ سال کی تھی” یہ سنتے ہی میں نے دماغ پر تھوڑا زور دیا تو مجھے کافی کچھ یاد آ گیا۔ اتنے میں وہ آنٹی نےمجھے چائے کیلئے کہا۔ میں نے معذرت کی تو کہنے لگیں کہ کوئی عذر نہیں چلے گا۔ سو مجبوراً ان ماں بیٹی کیساتھ کیفے جانا پڑا۔
ہسپتال کی راہداری سے گزرتے ہوئے میں ماضی میں کھو گیا۔

یہ غالباً 2009 کے اوائل کی بات ہے جب دنیا نیوز کے ایک پراجیکٹ” مس دنیا ” کے فنانس کوآرڈینیٹر کے طور پر میری ذمہ داری لگائی گئی۔ اس کے سینئر پروڈیوسر میرے عزیز از جان دوست نعیم سرفراز تھے جو آج کل برطانیہ سیٹل ہیں۔ یہ کافی بھاری بجٹ کا پراجیکٹ تھا جس میں اداکارہ وینا ملک کو بطور ہیروئین کاسٹ کیا گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب شوبز کی دنیا میں اداکارہ وینا ملک کا ڈنکا بجتا تھا اور پاکستانی اداکاراؤں میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ تھیں۔ اس کے علاوہ اداکار نور سمیت متعدد ٹی وی آرٹسٹ وقتاً فوقتاً آتے جاتے رہے۔ اس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر کاشف نثار تھے جو ڈائریکشن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ خاکسار تین ماہ تک اس پروگرام کا فنانس کوآرڈینیٹر رہا۔ دن کو آفس اور کورٹ کے کام اور رات کو شوٹنگ۔ بلڈ پریشر کی بیماری اسی پراجیکٹ کی دی ہوئی ہے۔ ایک سیگمنٹ کلاس روم کا تھا جس میں چند منٹ کیلئے آٹھ سے بارہ سال تک کے پندرہ بچوں کی ضرورت تھی جس کیلئے ہم نے انٹرویو کے بعد بچوں کو کاسٹ کیا تھا۔ حنا بھی ان میں سے ایک تھی۔

اتنے میں کیفے ٹیریا پہنچے۔ چائے وغیرہ کا آرڈر دیا۔ خاتون بتانے لگیں کہ بیٹا حنا امیر الدین میڈیکل کالج (غالباً جنرل ہسپتال کیساتھ متصل ہے) میں ایم بی بی ایس کے فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے۔ اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہمارے پاس ہے، پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس اس کو اداکاری کا جنون کی حد تک شوق ہے، میں نے اس کو بہتیرا سمجھایا ہے کہ بیٹی ہمارے خاندان میں اس کام کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن یہ ہے کہ اس پر اداکاری کا بھوت سوار ہے، میری ایک ہی بیٹی ہے، اس کے حوالے سے میں بہت پریشان ہوں۔ میں نے حنا کی طرف دیکھا تو اس معصوم چہرہ بچی کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ میں نے بچی سے کہا کہ تم اپنی میڈیکل کی فیلڈ سے مطمئن نہیں ہو کیا؟

وہ بولی “سر مطمئن تو ہوں لیکن ٹی وی آرٹسٹ بننے کا بہت شوق ہے مجھے، میں سکرین پر آنا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ جہاں جاؤں لوگ مجھے پہچانتے ہوں مجھے جانتے ہوں، میڈیا پر میرے پروگرام آئیں”۔

میں نے کہا کہ پہلے تم اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرو اور میڈیکل میں ہی اپنا مستقبل بناؤ۔ شوبز کی فیلڈ کو تم جانتی ہی نہیں ہو، جیسا آپ سوچ رہی ہو اس کا دورانیہ بہت مختصر ہے اور پسِ پردہ اس سے مختلف ہے۔ یہ ایک دلدل ہے کہ لڑکیاں دھنستی ہی چلی جاتی ہیں، پیسے اور شہرت کے حصول کا خمار بہت ظالم ہے۔ ہیروئین بننا “ہیروئین” جیسا ہی ایک نشہ ہے جس کے بعد عورت عورت نہیں رہتی۔ وہ خود کو اس دنیا کی کوئی اور ہی مخلوق سمجھنے لگ جاتی ہے۔ دنیا کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے خود کو اعلیٰ و ارفع مخلوق سمجھنے لگ جاتی ہیں۔ دنیا ان کو دیکھتی ہے۔ یہ سکرین کی زینت بنتی ہیں۔ کیونکہ جو دکھتا ہے وہ ہی بکتا ہے۔ ان کی آنکھیں بکتی ہیں، ان کی زلفیں بکتی ہیں، ان کا چہرہ بکتا ہے، ان کا انگ انگ بکتا ہے۔ بدقسمتی سے عورت کو شو پیس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ پھر نہ تو ان کا جسم اپنا جسم رہتا ہے اور نہ ہی ان کی مرضی اپنی مرضی رہتی ہے۔ کتنے لوگوں کا رزق ہیروئن کے  جسم کی نمائش کیساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ شوٹنگز اور محفلیں ساری ساری رات چلتی ہیں۔ شوبز آرٹسٹ کی عموماً راتیں جاگتی ہیں اور دن سوتے ہیں۔ پھر ہیروئن شہرت کے نشے میں دنیا مافیہا سے بےخبر ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک اپنی ہی دنیا ہوتی ہے جس میں وہ مگن رہتی ہے۔ آج کل کسی بڑے بزنس مین یا معروف شخصیات کیساتھ دو چار سکینڈلز کا تڑکہ اگر لگا دیا جائے تو شہرت کو گویا چار چاند لگ جاتے ہیں۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہتا ہے اور ہیروئین شہرت کی بلندیوں پر شاداں اور فرحاں رہتی ہے۔ آرٹسٹ کی کوئی پرائیویسی نہیں رہتی کیونکہ میڈیا ہر وقت ان کی زندگیوں میں سے اچھی یا بری ہر قسم کی خبر نکالنے کی کھوج میں رہتا ہے۔ شوبز سے وابستہ شخصیات کو پبلک پراپرٹی سمجھا جاتا ہے۔ پھر ہیروئین کی ڈھلتی عمر کیساتھ شہرت کا سورج بھی ڈھلنا شروع کرتا ہے اور ایک نئی ہیروئین مارکیٹ میں اِن ہو جاتی ہے۔ یہاں سے پہلے والی ہیروئین کا نازک وقت شروع ہوتا ہے۔ کام میں کمی آ جاتی ہے۔ مارکیٹ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ محفلوں میں کم بلایا جاتا ہے۔ دیگر مسائل کیساتھ معاشی مسائل اور تفکرات بھی دامن گیر ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ ہیروئین آہستہ آہستہ پس پردہ چلی جاتی ہے گویا کبھی شوبز میں آئی ہی نہ ہو۔ عوام بھی آہستہ آہستہ فراموش کر دیتے ہیں۔ اب یہاں آ کر بعض تو وقت کا پھیر سمجھ کر اس کو خوش دلی سے قبول کر لیتی ہیں اور گمنامی کی بہترین زندگی گزارنا شروع کر دیتی ہیں جو کہ بہرحال بہت دل گردے کا کام ہے۔ جبکہ بعض ہیروئنیں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور فاؤنٹین ہاؤس یا اس جیسی کوئی اور علاج گاہ ان کا آخری ٹھکانہ بن جاتا ہے اور بعض ہیروئنیں گمنامی میں معاشی مسائل کیساتھ انتہائی کسمپری کی زندگی گزارتی ہیں جن کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا اور وہ اسی طرح اس دار فانی سے کوچ کر جاتی ہیں اور ان میں سے جو چند ایک بچتی ہیں وہ اکثر و بیشتر انتہائی غمناک زندگی گزارتی ہیں۔

SHOPPING

ابھی میری بات جاری تھی کہ حنا کی رندھی ہوئی آواز آئی “بس کیجیے سر، مجھے سمجھ آ گئی ہے، یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا جو آپ نے بتایا ہے۔ واقعی ایسا ہی ہوتا ہے، کتنی ہی شوبز کی خواتین کو تو میں نے دیکھا اور پڑھا ہے کہ جو ماضی میں بہت معروف رہیں لیکن آج ان کو کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔ چند ایک ہی ایسی ہیں جو بڑھاپے میں بھی اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔ ورنہ بعض تو اتنے معاشی مسائل سے دوچار ہوئیں کہ وہ علاج کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں ہی فوت ہو گئیں، کچھ خودکشی کر گئیں اور کچھ پردہ سکرین سے ایسے غائب ہوئیں کہ آج تک ان کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ سر میں آپ کی بات سمجھ چکی ہوں”۔ میں میڈیکل میں ہی محنت کروں گی اور آگے بڑھوں گی۔ میں نے اس کے ساتھ بیٹھی اس کی ماں کو دیکھا جن کی آنکھوں میں آنسوؤں کیساتھ ساتھ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمایاں تھی۔

 

SHOPPING

چوہدری عامر عباس
چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *