کہنے کو ساتھ اپنے اک دنیا چلتی ہے/سید مہدی بخاری

باب مارلے کے گیتوں کو کون بھول سکا ہے. اس کے ایک گیت کا ترجمه کچھ یوں ہے

“تم کہتے ہو مجھے بارش سے محبت ہے مگر بارش ہو رہی ہو تو تم چھتری استعمال کرتے ہو۔تم کہتے ہو کہ مجھے سورج سے محبت ہے مگر سورج چمکنے لگے تو تم پناہ تلاش کرتے ہو ۔تم کہتے ہو مجھے آندھیوں سے محبت ہے مگر آندھی آنے کی صورت میں آپ کھڑکیاں بند کر لیتے ہو۔تبھی تو میں ڈر جاتا ہوں جب تم کہتے ہو کہ مجھے تم سے محبت ہے۔”

کبھی میری دُنیا بھی کہکشاں سی تھی جس میں کئی رنگ چمکتے تھے مگر تب نظر نہ آتے تھے جیسے انسانی آنکھ اس فریکوئنسی پر دیکھنے سے قاصر ہے جس فریکوئنسی پر کہکشاں رنگ بکھرتے ہیں۔ جیسے کیمرے کا سینسر اس فریکوئنسی پر دیکھ سکتا ہے انسان نہیں دیکھ پاتا۔ یہ راز بہت بعد میں کھُلا جب پاؤں میں سفر کے بھنور پڑے اور جسم کشتی کی مانند ڈولتا رہا۔ اس وقت تک چپو ہاتھ سے گنوا چکا تھا۔ ماں باپ کی کہلشاں رخصت ہو چکی تھی۔ اور ہاں، محبت اور باب مارلے کے گیت جن کو میں سچائی سمجھتا تھا وہ اب افسانہ بن چکے تھے۔ محبت بھگت چکی تھی۔ اب بس دل بہلانے کو ہاتھ میں کیمرہ اور اپنے ماحول سے فرار ہونے کو سفر بہانہ رہ گیا تھا۔

اپنی دنیا میں کہکشاں رنگ بھرنے کو میں نے کہکشاں کا پیچھا کیا۔ تصاویر لیتا۔ انہیں دیکھتا اور پل بھر کو لگتا میں نے کائنات سے اس کے رات کے رنگ چُرا لیے ہیں۔ شمال کی راتیں سرد ہوتیں اور ان سرد راتوں میں ساری رات کیمرہ اُٹھائے دشت و دریا، چراگاہوں تا ندی نالوں تک پھرتا رہتا۔ کبھی جنگلی جانور لومڑی وغیرہ پیچھا کرتے تو کبھی آوارہ کتے بھونکتے۔ ان بیتی راتوں کو شمار میں لاؤں تو اب میں کانپ جاتا ہوں۔ اس وقت جنون تھا، وحشت تھی، خود سے فرار تھا۔ ڈر لگتا ہی نہیں تھا۔ اور اب اس وقت کو یاد کروں تو افتخار عارف کا شعر صادق آنے لگتا ہے۔

ندی چڑھی ہوئی تھی تو ہم بھی تھے موج میں
پانی اُتر گیا تو بہت ڈر لگا ہمیں ۔۔۔۔

کہکشاؤں تک کس کے ہاتھ پہنچ سکے ہیں اور کون جگنوؤں کو پکڑ سکا ہے۔ رات کی پراسراریت میں ہزار رنگ پنہاں ہیں۔ رات کی دُنیا دن سے زیادہ رنگین ہے۔ وجدان کی آنکھ دیکھتی ہے تو دیکھتی رہ جاتی ہے۔ کبھی کبھی میں گھنٹوں ایک جگہ تن تنہا کسی ویرانے یا صحرا میں کھڑا مبہوت سا رہ جاتا تھا۔ جیسے لو بلڈ پریشر کا مریض ایک جگہ ٹکٹکی باندھے رہ جاتا ہے۔

وحشت، بے چینی اور ڈر اسی میں تو عمر بیت جاتی ہے۔ بنی آدم کو سب کچھ ملا بس سکون کی دولت نہیں ملی ۔ سکون تو محبوبہ کے اس وصال کی مانند ہے جس کا نشہ سورج طلوع ہونے کے مختصر لمحوں تک محدود ہوتا ہے ۔ زندگی کے بحر بیکراں میں اپنا سراغ کس نے پایا ہے ؟ ایک راستہ تو وہ بھی جو آنکھ اوجھل ہے۔ ایک دُنیا تو کہکشاں کی مانند وہ بھی ہے جو نظر نہیں آتی۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ انسانی شعور کا نقطہ آغاز بھی حیرت ہے اور انجام بھی حیرت۔ اسی ابتدا و انتہا کے درمیاں محبت و یقین کی پناہیں تلاشتے عمر بیت جاتی ہے۔

محبتیں ملتیں بھی ہیں بچھڑتی بھی ہیں۔تعلق بنتے بھی ہیں ٹوٹتے بھی ہیں۔ گھر بستے بھی ہیں اجڑتے بھی ہیں۔ ایک متوازی دنیا ہے جو انسان کے ساتھ ساتھ چلتی ہے مگر نظر سے اوجھل رہا کرتی ہے۔ ان کہکشاؤں کی مانند جن کے سب رنگ دیکھنے سے انسان معذور ہے۔یہ جو گلیکسی ہے ناں یہ انسانی آنکھ سے ایک مدھم سے بادل کی صورت نظر آتی ہے۔مگر اسے کیمرے سے دیکھیں تو رنگوں کا میلہ ہے۔ ۔ میں جب کہکشاں کو تصاویر میں دیکھتا ہوں تو نجانے مجھے ماضی کیوں یاد آنے لگتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

وہم و گماں کے لوگ تھے وہم و گماں میں ہی رہے
دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا، سوچا تو شہر بھر گیا ۔۔۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply