• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • توبہ کرنے والی عورت کا ماضی لوگ کیوں نہیں بھولتے؟۔۔۔میاں جمشید

توبہ کرنے والی عورت کا ماضی لوگ کیوں نہیں بھولتے؟۔۔۔میاں جمشید

سر کیا وجہ ہے کہ اگر کوئی شوہر، باپ یا بھائی کوئی بے حیائی کا کام کرے، باہر کی عورتوں پر نظر رکھے، ان سے ناجائز دوستیاں اورغلط تعلقات رکھے تو یہ معاشرہ اسے تو ” مرد ہے“ سمجھ کر آسانی سے چھوڑ دے، بھول جائے اور اگر ایسے تمام کام ایک بیوی، بہن یا ماں کرے تو اس کے حصے  میں عمر بھر کی بدنامی آئے، طلاق ملے، تہمتیں سہے، کیوں سر کیوں؟ ۔۔اگر مرد برائی کر کے خود کو سدھار کر اچھا بن سکتا ہے، تو برائی سے توبہ کر کے اچھی اور  پرہیز گار بننے والی ایک عورت کا ماضی کیوں نہیں بھولتے لوگ؟ کیوں برائی کرنے والی عورت، ٹھیک ہونے کے بعد بھی لوگوں کے لیے ہمیشہ بُری ہی رہتی ہے؟

سر آپ کو پتا ہے نا، کہ ہم لڑکیاں فطری طور پر ہی معصوم ہوتی ہیں، ہمیں غلط راستے پر لگانے والے یہ مرد ہی ہوتے ہیں ،اگر ہمیں ہمارے ابو گھر میں  ہمیں پیار سے بلائیں، سمجھائیں، ہمارے مسئلوں و غلطیوں پرتوجہ دیں اور محبت سے حل کریں، تو ہم لڑکیاں اپنے  باپ کی عمر کے لوگوں کے ہاتھوں  میں کھلونا نہ بنیں۔ اگر ہمارے بھائی اپنی گھر بیٹھی بہنوں کو ذہن میں رکھ کر باہر کی خواتین کو بے شرمی سے نہ دیکھیں ،ان کی عزت سے نہ کھیلیں، تو پھر دوسرے لوگ ہم پر بھی بُرے جملے نہ کسیں اور نہ ہی ہوس بھری نظروں سے دیکھیں۔ اگر ہمارے شوہر صرف ہمیں ہی اپنا لباس سمجھیں تو باہر کے کسی مرد کی جرات نہ ہو، اس لباس کو داغدار کرنے کی۔

سر مجھ جیسی بہت سی  لڑکیاں اور لڑکے آپ کو پڑھتے ہیں، سنتے ہیں ، تو پلیز آپ اس پر بھی ضرور لکھیے گا اور لوگوں کو سمجھائیے گا کہ یہ جوانی و کنوار پن کی عمر ہمیشہ نہیں رہنی ہے۔ ہر لڑکے نے باپ اور ہر لڑکی نے ماں بھی بننا ہے۔ آپ کی آج کی غلط قربت کا قرض آپ کی اولاد کو ہر حال میں چکانا ہی پڑے گا۔ خدارا روک لیں خود کو، توبہ کر لیں ورنہ مکافات عمل ہو کر ہی رہتا ہے۔ خدارا والدین اپنی اولاد کو خاص کر بیٹیوں کو اپنا لمس ِ محبت دیں۔ لڑکیوں کو تو فطری طور پر ہی  محبت، پیار و توجہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور جب گھر سے نہیں ملتا تو باہر کا شیطان، شجر ممنوع کی طرف مائل کر ہی دیتا ہے جس کا ذائقہ چکھنے کے بعد بے لباسی ہی لکھی ہوتی ہے سر۔ تب لڑکی کو یہاں جنت کے پتے نہیں ملتے، ڈھانپنے کو۔

تو صاحبو !یہ ایک صاحبہ کی فریاد تھی جو آپ کے سامنے بیان کر دی ۔ اس سے بہتر میں بھی نہیں لکھ پایا ۔ بس یہی التجا ہے کہ خدارا، جو فرد سچی و پکی توبہ کر کے بُرائی سے اچھائی کی طرف آ جائے تو اسے دل سے اپناتے ہوئے مزید اچھا بننے میں اس کی مدد کریں۔ پھر اسے کوئی ماضی کی بات یاد نہ کروائیں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو باکردار بناتے ہوئے اپنے گھر کے افراد کا، خاص کر اولاد کا کردار بھی نکھارنے میں ان کی مدد کریں ۔ گھر والوں کے ساتھ پیار و دوستانہ  رشتہ رکھیں، کوئی کمیونیکیشن گیپ نہ رکھیں، تاکہ ان میں محبت و شفقت کا ادھورا پن نہ آ سکے، ورنہ باہر کے لوگ غلط محبت سے یہ ادھورہ پن  ایسے ختم کرتے ہیں کہ مکمل ہونا صرف ایک پچھتاوا بن جاتا ہے۔ اگر آپ خود سمجھ گئے ہوں تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی سمجھا دیں کہ اگر آپ اپنے جائز رشتوں اور اولاد کو  گھر  میں ہی توجہ و شفقت دیں گے تو انہیں باہر کا کوئی شیطان کبھی بُرائی پر یا آپ کا اعتماد توڑنے پر نہیں اُکسا سکے گا۔

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مثبت طرز ِِِ زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے اور ٹریننگ دیتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *