کعبہ بھی وہیں ہے اور مکہ بھی۔۔ ارمغان احمد داؤد

کسی نامعلوم کا ایک مضمون پچھلے دنوں مکالمہ پر شائع ہوا تھا جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ پرانی تواریخ میں مکہ کا ذکر نہیں ہے ، اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پترا میں پیدا ہوئے تھے ، اور یہ کہ عباسیوں کے دور میں حجر اسود پترا سے نکال کر مکہ میں ’نئے کعبہ‘ میں لگا دیا گیا۔ برادرم حسنین اشرف اور شاہدخان صاحب نے مدلل جواب عنایت فرما دئے ہیں، اس لئے میں صرف موٹی موٹی بات کروں گا۔
سب سے پہلے تو یہ بات کہ انعام رانا نے ایسا مضمون لگا کر کوئی غلط کام نہیں کیا۔ انٹرنیٹ کی اس دنیا میں جبکہ ایک کلک پر ٹنوں کے حساب سے انفارمیشن حاصل کر سکتے ہیں ، شترمرغوں کی طرح ریت میں سر دبا دینا کوئی عقلمندی کا تقاضا نہیں ہے۔ ہماری نئی نسل پڑھ بھی رہی ہے اور سوال بھی کر رہی ہے، آپ سوال دبا کر کیا حاصل کر لیں گے؟ ایسے سوالوں کو دبا کر اور قابل گردن زنی قرار دے کر آپ نئی نسل کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سوال نہ پوچھو، جس سے لامحالہ ان کے ذہن میں یہ آئے گا کہ ان کے پاس جواب نہیں ہیں اس لئے سوال پوچھنے سے روکتے ہیں۔ جناب سوال پوچھنے دیں، اور ٹکا کر جواب دیں، اس میں کیا برائی ہے؟
مضمون نگار کے مضمون کا پہلا حصہ یہ ہے کہ کچھ مشہور تواریخ میں مکہ کا ذکر نہیں ہے۔ اس سے وہ شائد یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان مکہ کو مذہبی تاریخ کے حوالے سے جو اہمیت دیتے ہیں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ بالفرض ایسا ہی ہے اور مکہ کی کوئی مذہبی حیثیت تاریخ کی روشنی میں نہیں ملتی تو قران کو خدا کا کلام ماننے والوں پر اس بات کا کیا فرق پڑتا ہے؟ زیادہ سے زیادہ یہی کہ ہم نے خدا کی وحی کو انسانی تاریخ پر فوقیت دی ہے۔ اس سے آپ ایک ضمنی بحث کا دروازہ ضرور کھول سکتے ہیں مگر اس سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل دعوی نبوت پر اور عقائد پر کیا زد پڑتی ہے؟ یہاں پر اندھی تقلید کا اعتراض اس لئے باطل ہوگا کہ جس نے یہ مان لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کی طرف سے وحی آتی تھی تو اس کے لئے انسان کی لکھی ہوئی تاریخ ویسے ہی درجہ میں کہیں بہت نیچے چلی جاتی ہے کیونکہ وحی میں خطا کا احتمال نہیں مگر انسان کے لکھے پر سطر سطر میں غلطی اور سہو کا قوی امکان ہے۔
مضمون نگار نے اتنی پرانی تاریخ کی کتب کو ایسے دلیل سمجھا ہے جیسے ان کا ثقہ ہونے پر ان کو اپنی جان سے زیادہ یقین ہے۔ جبکہ حال یہ ہے کہ ان کتب کے مندرجات پر بہت ساری تنقید بھی ہو چکی ہے اور بہت ساری باتیں غلط بھی ثابت ہو چکیں ہیں۔ تورات اور اناجیل جن کو پڑھانے اور سمجھانے اور جن میں موجود احکام کی تعمیل کرانے یہود میں پے در پے انبیاء آئے اور ساتھ ساتھ علماء یہود بھی یہی کام اپنے تئیں کر رہے تھے تو تب بھی وہ انسانی خوردبرداور زمینی حوادث کا شکار ہو گئیں کہ اپنی اصل صورت میں کہیں موجود نہیں تو ایسی کتب جن کو سبقاً پڑھنے پڑھانے کا بھی کوئی اصول نہیں تھا تو ان میں کیا کچھ ادل بدل نہ ہو چکا ہوگا۔ پھر ترجمہ در ترجمہ ہو جانے کے بعد ان کے اصل پیغام کا جو حال ہوا ہو گا وہ بھی قرین قیاس ہے۔ لہذا جب تک مضمون نگار یہ بات ثابت نہیں کرتے کہ ان کتب کی ثقاہت شک و شبہ سے بالاتر ہے تب تک ان کتب میں مکہ کا صرف ذکر نہ ہونا کسی بات کیلئے بھی قطیعتہ الدلالت نہیں ہو سکتا۔ بھلا عدم ذکر سے عدم شئے کب سے لازم آنے لگا۔ عربی کی ایک مثال ہی کہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال، یعنی جب احتمال آ جاتا ہے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے۔ اور یہاں یہ حالت کے کہ ایک احتمال نہیں بلکہ احتمالات کا ایک نہ رکنے والا چشمہ بہہ رہا ہے۔
اس سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ مضمون نگار کو اسلام میں حدیث بیان کرنے کے طریقے پر اور اس کی ثقاہت کے دلائل پر اعتراض نہ ہوگا کیونکہ ہم ایک حدیث کو فرداً فرداً اسکے منبع تک لے کر جاتے ہیں اور پھر ان سب راویان کی جانچ پڑتال کا ایک پورا طریقہ کار موجود ہے، جس کے بعد درایت کے اصول چھلنی کی طرح وضعی احادیث کو الگ کر دیتے ہیں، اس طرح احادیث کی ثقاہت کا درجہ یقیناً بہت بڑھ جاتاہے چاہے وہ دو صدیوں بعد ہی کیوں نہ لکھی گئیں ہوں۔ میں مضمون نگار سے تاریخ کی کتب کی حدیث جتنی ثقاہت تو نہیں مانگتا مگر پھر بھی کچھ تو درماں ہو اس درد کا۔
مضمون نگار نے ہیروڈوٹس (Herodotus) کا ذکر کیا کہ اس نے مکہ کا ذکر نہیں کیا، اس بارے میں سر ویلیم میور لکھتے ہیں:
‏”Although Herodotus does not refer to the Kaaba, yet he names, as one of the Chief Arab Divinities ALILAT; and this is strong evidence of the worship, at that early period, of Allat the Meccan idol.” (The Life of Mahomet, by Sir William Muir, Chapter III, Ante-Mahometan History of Arabia, Section IV, Origin and Early History of Mecca, Page ccx, London edition 1861)
عرض یہ ہے کہ ہیروڈوٹس نے آپ کے نزدیک مکہ کا ذکر نہیں کیا مگر مشہور مستشرق سر ویلیم میور نے تو کہا ہے کہ ہیروڈوٹس نے جن بتوں کا ذکر کیا ہے وہ اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ وہ مکہ کے اصنام تھے۔ اب آپ کے کاپی پیسٹ کو مانیں یا ویلیم میور کی مانیں؟
اسی طرح مضمون نگار نے ڈیوڈورس (Diodorus Siculus) کا بھی ذکر کیا کہ اس نے ایک عبادت گاہ دیکھی تھی جو لوگوں کیلئے بہت مقدس تھی۔ یہاں پر ڈیوڈورس (Diodorus Siculus) کے اصل الفاظ نقل کرتا ہوں:
‏”Moreover, an altar is there built of hard stone and very old in years, … The oversight of the sacred precinct is in the care of a man and a woman who hold the sacred office for life… a festival was celebrated every four years, to which the neighbouring peoples thronged from all sides, both to sacrifice to the gods of the sacred precinct hecatombs of well-fed camels and also to carry back to their native lands some of the water of this place, since the tradition prevailed that this drink gave health to such as partook of it.” (Translation by C. M. Oldfather, London 1935, Book III, Chapter 42-43, Volume 2, Pages 211-213. http://penelope.uchicago.edu/Thayer/E/Roman/Texts/Diodorus_Siculus/3C*.html)
جہاں پر ایک فیسٹول کا بھی ذکر ہو جو چار سالوں میں ایک دفعہ منایا جاتا ہو، پتھروں کی بنی قربان گاہ کا بھی ذکر ہو، اونٹوں کی قربانی کا بھی ذکر ہو، پانی لے کر جانے کا بھی ذکر ہو اور پھر بھی کہا جائے کہ یہ مکہ کے کعبہ کا ذکر نہیں ہے تو حیرت ہے۔ اب ذرا ہمیں عرب میں مکہ کے علاوہ کوئی ایسا معبد ڈھونڈ دیں جہاں فیسٹول ہوتا تھا، قربانی ہوتی تھی، وہاں کا پانی بھر بھر کے اپنے علاقوں میں لے جایا جاتا تھا۔ اگر نہ ملے تو پھر مکہ کے کعبہ کی ہی بات ہو رہی ہے۔
مگر مضمون نگار اس حوالے کو کو مکہ میں کعبہ سمجھنے کو ’مومنین‘ کی ’بددیانتی‘ گردانتے ہیں، اس لئے ہم ان کیلئے ایک ’ غیر مومن ‘ کی ’دیانتدارانہ‘ رائے نقل کرتے ہیں۔ سر ویلیم میور لکھتے ہیں:
‏”Diodorus Siculus, who wrote about half a century before our era, is describing that part of Arabia washed by the Red Sea, uses the following language: “there is, in this country, a temple, greatly revered by all the Arabs.” Thses words must refer to the holy house of Mecca, for we know of no other which ever commanded the universal homage of Arabia.” (ibid, page ccxi)
سر ویلیم میور تو کہہ رہے ہیں کہ یہ یقنی طور پر کعبہ کا ذکر ہے کیونکہ ہم کسی اور ایسی جگہ کو نہیں جانتے جو عرب کیلئے اتنے احترام کی حامل ہو۔ مضمون نگار کو سر ویلیم میور سے اختلاف ہے تو اس کے خلاف دلیل لائیں کیونکہ ایسے مقدمات کا فیصلہ دلائل سے ہوتا ہے قیاسات سے نہیں۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کعبہ مکہ کی بجائے پترا میں تھا تو کہیں تو اس کا ذکر تاریخ میں ملتا، تیرہ صدیوں کے کسی اسلام مخالف نے تو اس کا ذکر دلائل کے ساتھ کیا ہوتا۔ یہ کیا کہ اچانک چودہ صدیوں بعد ہی مستشرقین کو خیال آیا کہ کعبہ اصل میں پترا میں تھا جو کہ عباسی اٹھا کر مکہ لے گئے۔ کیا اتنا بڑا تبدیلی کا فیصلہ اپنے ساتھ کوئی نتائج نہیں لایا؟ کہاں ذکر ہے لوگوں کی مخالفت کا؟ لکھتے ہیں کہ اس جعل سازی پر مکہ پر چڑھائی کی گئی وغیرہ وغیرہ مگر دلیل ندارد۔ اس معاملے میں تو قیامت گزر جانی چاہیئے تھی، اسلامی تاریخ میں جگہ جگہ اس کا ذکر ہونا چاہیئے تھا، مگر یہ کیا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر موجود، کعبہ میں حملے کا ذکر موجود، امویوں اور عباسیوں کی سازشوں اور لڑائیوں کا ذکر موجود، اگر موجود نہیں تو صرف اس بات کا ذکر موجود نہیں۔ ہماری اسلامی تاریخ میں کیا کچھ رطب و یابس نہیں بھرا پڑا۔ ایسی ایسی کہانیں موجود ہیں کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ بنانے والے نے بغیر سوچے سمجھے ہی گھڑ لی ہوگی مگر کسی ایک جگہ بھی اس بات کا ذکر نہ ہونا اس بات کہ قطعی دلیل ہے کہ کعبہ کا پترا سے مکہ لایا جانا ایک مضحکہ خیز اور بلادلیل دعوی ہے۔

اس موضوع پر دیگر مکالمے:

اعتراض:

حسنین کا جواب:

شاہد  کا جواب:

ارمغان احمد
ارمغان احمد
یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگُزر میں گُزراں نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *