65 کی جنگ ستمبر کا سیالکوٹ۔۔۔داؤد ظفر ندیم

65 کی جنگ ستمبر کا سیالکوٹ کے لوگوں کے لئے الگ مفہوم ہے سیالکوٹ کے بچے بچپن سے اس جنگ کے بارے کہانیاں سنتے ہیں کہ کیسے باطن کی دنیا میں مستور رہنے والے سبز پوشوں نے اس جنگ میں سیالکوٹ کو بچانے کا فیصلہ کیا۔ بہت سے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں، کہ ایک مرحلے پر دشمن کی عددی قوت اور فوجی صلاحیت غالب آگئی تھی ایسے میں سبز پوش افراد دکھائی دیئے جنہوں نے جنگ کا نقشہ تبدیل کردیا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ 65 میں پڑنے والا بم ایک سبز پوش نے شہر کے وسط کی آبادی پر گرنے سے روک دیا تھا۔ یہ قصے سیالکوٹ کے بچوں کو بچپن سے سننے کو ملتے ہیں اور شہر میں ایسے بھی لوگ مل جاتے ہیں جو ان سبز پوشوں کو دیکھنے کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ جنگ کی تفصیلات حیرت انگیز ہیں، اس جنگ میں سیالکوٹ کے سول ڈیفنس کے رضاکاروں اور شہریوں نے مالی اور جانی قربانیاں دیں تھیں اس لئے شہر کے لوگ اس جنگ کو بڑے فخرسے یاد کرتے ہیں۔

بھارت نے پاکستان کے جن دو شہراں پر حملہ کیا تھا وہ لاہور اور سیالکوٹ تھے۔ سیالکوٹ پر بھارتی بری فوج کا سب سے مایہ ناز دستہ‘ بکتر بند 1ڈویژن حملہ آور ہوا۔ اس ڈویژن کے ساتھ تین پیدل فوج ڈویژن (6‘14اور 26) بھی تھے۔ کہتے ہیں یہ حملہ اس پیش رفت کو رکوانے کے لئے کیا گیا جو پاکستانی فوج آپریشن جبرالٹر کے تحت اکھنور پر قبضے کے لئے کر رہی تھی۔ اکھنور پر قبضہ پاکستانی فوج کے لئے ایک اہم دفاعی اور حساس علاقے پر قبضہ ہونا تھا۔ بھارت نے بین الاقوامی سرحد پر حملہ کرکے اس پیش رفت کو روک دیا۔ اس بھارتی حملے کا مقصد جی ٹی روڈ پر قبضہ کرنا تھا تاکہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ جنگ ٹینکوں کی جنگ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس محاذ جنگ میں ٹینکوں کی پہلی بڑی لڑائی پھلروان کے نزدیک ہوئی۔یہ ظفروال اور سیالکوٹ کے درمیان واقع ایک گائوں ہے۔ 7تا11ستمبر اس علاقے میں پاکستانی اور بھارتی ٹینکوں کی خوب لڑائی ہوئی۔ پہلے مرحلے میں بھارتیوں کا پلہ بھاری رہا۔

tripako tours pakistan

11ستمبر کی رات بھارتی فوج نے پھلروان پر قبضہ کر لیا۔ لڑائی میں پاکستانی 35ٹینکوں سے محروم ہوئے۔ تاہم چونڈہ کی لڑائی کے بعد اُن میں سے نو ٹینک پاکستان کو واپس مل گئے جو بھارتیوں کے قبضے میں پہنچ چکے تھے۔ اِس معرکے میں بھارتیوں کے چھ سات ٹینک ہی تباہ ہوئے۔پاکستانی فوج نے پیچھے ہٹنے کے بعد چونڈہ میں دفاعی پوزیشنیں مستحکم کر لیں۔ اس وقت سیالکوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل تھی۔ نیز گولے بارود سے لیس 225ٹینکوں کی کمک بھی اس علاقے میں پہنچ گئی۔ دوسری طرف میدانِ جنگ میں صرف پچاس ہزار پاکستانی فوجی موجود تھے۔ان کے پاس صرف 135ٹینک تھے۔بعدازاں وہاں مزید15ٹینک پہنچا دیے گئے۔ سیالکوٹ سیکٹر میں پاکستانی فوج کے سربراہ‘میجر جنرل ابرار حسین تھے۔ جن کے ساتھ جنرل ٹکا خاں چونڈہ کے محاذ پر شامل ہوئے وہ ایک تجربے کار‘ ثابت قدم اور بہادر فوجی تھے۔ علاقے میں دشمن کی عددی و مشینی قوت بہت زیادہ تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ہوش و حواس نہیں کھوئے اور اپنے جوانوں کا حوصلہ بھی بلند رکھا۔ 12ستمبر سے لے کر 21ستمبر تک بھارتیوں نے وقتاً فوقتاً چونڈہ میں قائم پاکستانی حصار توڑنے کے لیے کئی چھوٹے بڑے حملے کیے‘ مگر ہر بار اُنہیں منہ کی کھانی پڑی۔ پاکستانی افسروں اور جوانوں نے بے مثال دلیری دکھائی اور اپنے سے کہیں زیادہ طاقت ور دشمن کو شکست فاش دے ڈالی۔

چونڈہ میں تقریباً 120بھارتی ٹینک تباہ ہوئے۔ لڑائی کی شدت کا اندازہ یوں لگائیے کہ 800گز کے فاصلے پر انگریز صحافیوں نے گیارہ تباہ شدہ بھارتی ٹینک پائے۔ جنگوں کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ توپوں کا ٹینکوں سے آمنا سامنا ہوا لیکن سیالکوٹ کے محاذ پر ایک وقت ایسا آیا کہ بھارت ہمارے ہر اول پوزیشنوں کو روند تے ہوئے ہمارے توپخانے پر چڑھ دوڑا اور یہ سخت آزمائش کا وقت تھا ۔ اس وقت دشمن کے بڑھتے ہوئے حملے کو روکنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا ضروری تھا ۔کہا جاتا ہے کہ اس وقت بعض فوجی جوانوں نے ارض وطن کی خاطر قربانی کا فیصلہ کیا، یہ جوان توپوں کے گولے سینے سے باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے تھے۔ یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا۔ جو لوگ جنگ ستمبر کے بارے میں مختلف باتیں سناتے ہیں وہ بھی یہ بات جھٹلا نہیں سکتے کہ سیالکوٹ سیکٹر پر ٹینکوں کی ایک بڑی جنگ لڑی گئی اور اس جنگ میں بھارت کی پیش قدمی روک دی گئی اور اس کو پسپا ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔اس جنگ میں سیالکوٹ کے شہریوں نے غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا ۔سیالکوٹ کے تاریخی قلعہ سالباہن پر بم گرایا گیا اور اس سے سیالکوٹ کے بازار گھاس منڈی، بازار کلاں، بازار کاٹھیاں اور پھولوں والی گلی کو گہرا نقصان پہنچا، سیالکوٹ میں لوگوں نے اس آفت کو بہادری اور حوصلے سے سہا۔ اس لئے سیالکوٹ کو نشان استقلال دیا گیا۔

 

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *