کیا کعبہ “واقعی” اپنے اصل مقام پر نہیں ہے؟ محمد حسنین اشرف

” جب کل کی تحریر چھاپی تو مجھ سے پیار کرنے والوں نے متنبہ کیا کہ انگارہ ہے، تنازعہ ہے، باز رہنا بہتر ہوگا۔ مگر مجھے یقین تھا کہ ایک تو مکالمہ کی سال بھر کی محنت ضائع نہیں ہو سکتی اور مکالمہ ہی ہو گا۔ ہم جو مغرب میں روز ایسے اعتراض سنتے ہیں، جواب دلیل اور مکالمے سے ہی دیتے ہیں۔  الحمداللہ نا تو کوئی فساد مچا اور نا ہی اب تک مکالمہ یا میں واجب القتل قرار پائے ہیں۔ دوسرا یقین تھا کہ یہ زمین ابھی اتنی بنجر نہیں کہ ایسی تحریر کا جواب نا آئے۔ جس تحریر سے  بڑے نام بھی پہلو بچا گئے، لیجیے اک طالب علم حسنین نے مکالمے کے ذریعے اس کا احسن جواب دے دیا ہے۔ حسنین اشرف بلاوجہ ایک ایسا محنتی محقق ہے جس پر مکالمہ ہی نہیں قوم فخرکر سکتی ہے”۔ انعام  رانا

مکہ کے متعلق یہ بحث ایک عرصہ سے جاری ہے لیکن افسوس کہ ہمیشہ تاریخ کا ایک رخ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔  ڈین گبسن کی کتاب “قرانک جیالوجی” میں اس نے کافی اعتراضات کئے اور مکہ کو “پترا”  ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انکے نزدیک اصل میں وہ جگہ پترا تھی نہ کہ مکہ جہاں بنی اسماعیل آباد ہوئے اور محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ مکالمہ پر چھپنے والی اس  موضوع پر تحریر میں اسی کتاب سے اقتباسات اور دعوی جات کو بنیاد بنا یا گیا ہے۔  مکہ اور پترا کی تہذیبوں کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ موجودہ مکہ اصل میں پترا نہیں تھا۔ خیر میں یہ بحث کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتا ہوں ابھی کے لئے بہت اختصار سے مکالمہ پر شائع کردہ تحریر میں کئے دعویٰ جات پر کلام کرنے کی کوشش کرونگا۔ ( مذکورہ تحریر کا لنک:  https://www.mukaalma.com/7686

فاضل دوست نے جن لوگوں کے نام اور حوالہ جات دئیے ہیں ان میں سے بہت کم لوگ اسفار کرنے والے  ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے مجموعہ جات کو صرف اور صرف دوسرے لوگوں کی معلومات کی بنیاد پر ترتیب دیا ہے۔ مثال کے طور پر “ٹالمی” نے جس نقشہ کو بنایا اور جس “مکرابہ” کا Image result for tolami map meccaذکر کیا، اسکو اس نے پہاڑیوں سے بہت دور نکال کر رکھا ہے، اور مکہ پہاڑوں کے درمیان گھرا ہوا تھا۔ ٹالمی پر سب سے بڑی کی جانے والی تنقید اصل میں یہی تھی کہ اسکی معلومات کا ماخذ سفر کرنے والے لوگ اور قافلے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اگر کسی نے ذکر کیا تو اسے نقشے پر بہت آگے پیچھے رکھ دیا اور اگر کسی نے ذکر نہیں کیا تو اسکی زیادہ اہم وجہ اسکا خود سفر کرکے علاقوں کو نہ دیکھنا بھی تھا۔ ٹالمی نے آئر لینڈ کا جو نقشہ بنایا تھا اسکی ڈی کوڈنگ کی گئی ہے اور اس پر جو  تبصرہ کیا گیا ہے اسکے الفاظ کچھ یوں ہیں:

Claudius Ptolemy (roughly AD 90168) presents us the oldest surviving account of Ireland in the form of a set of coordinates showing different geographical features or a ‘virtual map’. While Ptolemy’s map looks roughly like today’s Ireland there are a number of discrepancies. Likewise, while some locations are obvious, others are disputed or obscure.

یہ اقتباس فاضل کو اس بات کا احساس دلانے کو کافی ہوگا کہ مکارابہ کو نقشہ پر درست جگہ کیوں نہی رکھا گیا۔ آپ اگر ٹالمی کے نقشہ کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مکارابہ کو وہ پہاڑی ٹیلوں سے کچھ آگے لے آیا ہے جبکہ اسکی جگہ پہاڑی ٹیلوں کے پاس ہے۔ مکارابہ پر زیادہ زور دینے کی وجہ جرمن مورخ “ایڈورڈ گلاسر” ہیں جنکے نزدیک یہ عربی کے لفظ” مکراب” سے ہوسکتا ہے۔ جسکا معنی بڑا معبد ہوسکتا ہے۔

اگر آپ “ہیروڈٹس” کی ہسٹریز کو اٹھائیں اور اسکا باب کھولیں   جہاں اس نے عرب کے علاقوں پر بحث کی ہے تو اصل میں، اس نے صرف ان چیزوں کا ذکر کیا ہے جس سے اسے واسطہ پڑا، یعنی وہاں وہ پورے جزیرہ نمائے عرب کو بیان نہی کررہا، بلکہ وہ صرف اور صرف چند علاقوں کو انکی خصوصیات کی بنا پر بیان کر رہا ہے۔ اسکے علاوہ تمام بادشاہ یا جاسوس چونکہ کسی نقشہ کی تعمیل یا سیاحت کی غرض سے نہیں نکلے تھے اس لئے انہوں نے صرف ان چند علاقوں کا تذکرہ کیا جو انہوں نے فتح کئے یا جہاں سے انکا گذر ہوا۔

اسکے بعد ڈی اورڈس سکولس نے بھی عرب میں ایک معبد کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:

The inhabitants of the land about the gulf, who are known as Banizomenes, find their food by hunting the land animals and eating their meat. And a temple has been set up there, which is very holy and exceedingly revered by all Arabians.

فاضل دوست نے دعویٰ کیا ہے جو کہ اصل میں “ڈین گبسن” کا ہی دعویٰ ہے کہ یہ اصل پترا کی نشاندہی کروائی گئی ہے۔ حالانکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پترا کے باشندوں کو “بانیزہمینز ” نہیں کہا جاتا تھا بلکہ وہ تو “نباتیان” تھے۔ اور انہیں اسی نام سے ہیروڈٹس نے بھی لکھا ہے۔ تو صاف ظاہر ہے کہ “ڈی اورڈس” جس قوم کا نام لے رہے ہیں وہ پترا کی رہنے والی نہیں ہے۔” ڈکشنری آف گریک اینڈ رومن جیو گرافی” میں “ویلم سمتھ” نے ان باشندوں کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

. BANIZOMENES a maritime tribe of the western coast of Arabia, towards the north of the Red Sea, situated next to the country of the Nabataei.

اور اسکے بعد اس نے پھر “سکولس” کا حوالہ دے کر ساری بات کو واضح کیا ہے اور یہ بات بہت واضح کردیتی ہے کہ اصل میں یہ سکولس جسکی طرف اشارہ کر رہا تھا وہ پترا نہی مکہ ہی تھا۔

اس پر “ایڈورڈ گبن” ایک اور مورخ کی گواہی میری بات کو مزید تقویت دیتی ہے وہ لکھتے ہیں:

The genuine antiquity of  “Caaba” ascends beyond the Christian era: in describing the coast of the Red sea the Greek historian “Diodorus” has remarked, between the Thamudites and the Sabeans, a famous temple, whose superior sanctity was revered by all the Arabians; the linen or silken veil, which is annually renewed by the Turkish emperor, was first offered by the Homerites, who reigned seven hundred years before the time of Mohammad.

“— Edward Gibbon, Decline And Fall Of The Roman Empire, Volume V, pp. 223–24”

رہی بات “بکا”  کی، تو بکا کی وجہ تسمیہ جو صاحب تحریر نے بیان کی ہے وہ انتہائی ناقص ہے۔ “عبدالستار غوری” صاحب نے اس پر ایک لمبی بحث کردی ہے کہ بکا کی وجہ تسمیہ کیا تھا۔ اسمیں ایک  وجہ اسکا دو پہاڑوں کے درمیان ہونا بھی ہے۔

عربی زبان کی ایک مشہور لغت ’لسان العرب‘ میں اس کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے:

Image result for kaabaقال یعقوب: بَکَّۃُ ما بین جبلی مَکَّۃ لأن الناس یبکُّ بعضہم بعضًا فی الطواف أی یَزْحَمُ؛ (…) وقیل: بَکۃ اسم بطن مَکّۃ سمیت بذلک لازدحام الناس. وفی حدیث مجاہد: من أسماء مَکّۃَ بَکّۃُ، قیل: بَکّۃُ موضع البیت ومکۃُ سائر البلد، وقیل: ہما اسما البلدۃ، والباء والمیم یتعاقبان.۴۷؂

یعقوب کہتا ہے: بَکَّہ وہ ہے جو مَکّے کے دوپہاڑوں کے درمیان واقع ہے، کیونکہ لوگ طواف کے دوران میں یہاں ایک دوسرے کو کچل دیتے تھے یا یہاں بہت زیادہ ہجوم ہو جاتا تھا ۔(…)۔ کہا جاتا ہے کہ بَکَّہ اندرون مَکّہ کا نام ہے اور اسے یہ نام لوگوں کی وہاں بہت بھیڑ ہو جانے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ مجاہد کی روایت میں بیان کیا گیا ہے ’بَکَّہ مَکّہ کے ناموں میں سے ہے‘ اور کہا جاتا ہے: ’بکّہ خانۂ خدا کا محل وقوع ہے اور مکّہ پورے شہر کا نام ہے۔‘ یہ بھی کہا گیا ہے [بَکَّہ اور مَکّہ] دونوں ہی اس شہر کے نام ہیں اور’ب‘ اور’م‘ [حروفِ ابجد] ایک دوسرے کی جگہ آتے ہیں۔

انسائیکلو پیڈیا برطانیہ ان الفاظ میں اسے بیان کرتا ہے:

before the rise of Islam it was revered as a sacred sanctuary and was a site of pilgrimage.

چونکہ وہاں فاضل دوست نے قران کی آیات اور احادیث بیان نہیں کیں  اسلئے میں ان آیات اور احادیث کو بیان کرنا درست نہی سمجھتا۔ رہی بات مساجد کی تو  یہ وہ مساجد ہیں جو مدینہ میں ہیں یا طائف میں ہیں۔ ان مساجد کے قبلہ کے تعین میں جس چیز کو بطور ثبوت ڈین گبسن نے پیش کیا ہے وہ کچھ پرانے نقشہ جات ہیں جنکے ماخذ کا مجھے علم نہیں۔ لیکن ا اس دور میں اونٹوں پر ہزاروں میل کا سفر کرنے کے بعد کسی دوسرے علاقے میں بنائی جانے والی مسجد کو آج بیٹھ کر بطور ثبوت پیش کیا جارہا ہے۔ اس ثبوت پر صرف ماتم کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ  جب نماز سورج کے رخ کو دیکھ کر پڑھی جاتی تھی، تب قبلہ کے تعین میں غلطی ہونا بہت عام بات ہے۔ یعنی اگر تو وہ جدید آلات کی مدد سے تعین کی گیا ہو تو مانا جاسکتا ہے کہ عین سیدھ میں مکہ کو تھوڑی سائڈ پر چھوڑ کر پترا کو قبلہ بنایا گیا ہے۔ لیکن اگر عقل کام کرتی ہو تو پتہ چلتا ہے کہ مساجد  کا رخ بلکل درست نہیں بلکہ اسمیں غلطی ہوئی ہے۔

“اے جے ڈیوس” نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے :

” In short, within the margin of error that mosques could be oriented at the time, there is no such pattern as the author claims.

اسکے بعد انہوں نے جتنی باتیں کی وہ سب ایک جاسوسی ناول ہی تھا، جس پر انہیں داد دی جاسکتی ہے لیکن حقائق کو ایسے نہیں پیش کیا جاتا جیسے پیش کیا گیا ہے۔ میں نے ان تمام لوگوں کو جنہیں بطور تائید ڈین گبسن صاحب نے اور انکے اردو مترجم نے پیش کیا تھا چھوڑ دیا تھا تا کہ تحریر کے آخر میں اس پر کلام کیا جاسکے۔ ڈین گبسن کے کام کو جن لوگوں نے دوبارہ دیکھا ہے ان میں سے ایک دو کے تاثرات کیا ہیں وہ خود دیکھ لیں:

پروفیسر “مائکیل لیکر” نے دو ہزار چودہ میں سائنٹفک میگزین میں ان الفاظ میں اس پر تبصرہ کیا ہے:

: “This book’s imaginative writing may have its followers, perhaps even in academic circles. But the study of early Islamic history is better served by small steps, one at a time.”

“اے جے ڈیوس”  تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے:

Thus, would Gibson have been just a little bit more careful, or had his work been reviewed by an alert peer, it would have become clear that the evidence provides no grounds to conclude that Petra had a play in Islam. Quite in contrary, one can make a confident case that Petra has nothing to do with the emergence of Islam.

پروفیسر “ڈینل سی” نے “سلک روڈ” میں اس پر تنقید کی اور اسکی کئی غلطیوں کی نشاندہی کی۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ڈین گبسن کی تحقیق اور جس انداز میں اسے مترجم نے پیش کیا اسمیں کتنا دم ہے۔ جبکہ ٹالمی اسکا ذکر کر چکا ہے اور اسکے بعد اسکی تصدیق سکولس، گبن اور ایسے کئی مورخین کرچکے ہیں۔  ھذا ما عندی والعلم عنداللہ

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”کیا کعبہ “واقعی” اپنے اصل مقام پر نہیں ہے؟ محمد حسنین اشرف

  1. ااتنے کم وقت میں اتنا جامع اور مفصل جواب. سبحان اللہ. آپ کی محنت اور تحقیق قابل رشک ہے. اللہ تعالی اس میں مزید برکت دے. اور نظر بد سے محفوظ رکھے. آمین.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *