کیا کعبہ اپنے اصل مقام پر نہیں ہے؟

(یہ تحریر ہمیں یہ کہہ کر بھیجی گئی ہے کہ اگر آپ واقعی مکالمہ پر یقین رکھتے ہیں تو اسے چھاپئے اور دلائل سے مکالمہ کروائیے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ یہ تحریر ایک طالب علم کے طور پر  پڑھئے، تحقیق کیجیے اور ہو سکے تو دلائل کے ساتھ اسکا جواب دیجیے۔ اور اس تمام عمل کے دوران جذباتیت کو دور رکھیے کہ یہ ہی مکالمہ کی خوبصورتی ہے۔ مصنف کا نام بوجوہ شائع نا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر انکی رضامندی ہے۔ جواب کیلئے مکالمہ حاضر ہے۔ ایڈیٹر)

کیا کعبہ واقعی مکہ میں تھا؟ کیا مکہ کبھی کوئی شہر بھی تھا؟

کئی رومن اور یونانی جغرافیہ دانوں اور تاریخ دانوں نے عرب کا سفر کیا اور اس کے بارے میں لکھا لیکن کسی نے بھی مکہ کا ذکر نہیں کیا۔ نبونیڈس (Nabonidus) پانچویں صدی قبل مسیح کا ایک بابلی بادشاہ ہے، جو خطہ عرب میں کئی دفعہ آیا اور یہاں اپنی بادشاہت قائم کی۔ مدینہ کے مشرق میں ایک علاقہ جسے تیما کہا جاتا تھا، اس کے حوالے سے اس کا سفر ایک نظم کی شکل میں موجود ہے۔ اس نے تیما کے بادشاہ کو قتل کرکے وہاں پر اپنی سلطنت قائم کی۔ اس کے بعد اس نے حجاز کے شہر مدینہ اور خیبر کو بھی فتح کیا۔ اس کی تمام تر کہانی میں مکہ شہر کے نام کا ذکر تک نہیں ہے۔

بانچویں صدی قبل مسیح کا ایک تاریخ دان ہیروڈ و ٹس (Herodotus) ایک کتا ب لکھتا ہے، جس کا نام ہی “تاریخ” ہے۔ اس میں وہ عرب کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتا ہے کہ جنوب میں عرب نام کا ایک نیا علاقہ آباد ہوا ہے کہ جہاں بخور ، لوبان ، دار چینی اور افیون پیدا کی جاتی ہے ۔ اس میں اس نے کئی شہروں کو ذکر کیا مگر مکہ کا نہیں۔ اس سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ عرب اگر 2000 قبل مسیح میں حضرت ابراہیم کے ہاتھوں آباد ہوا ہوتا تو ہسٹری لکھنے والا کبھی یہ نہ کہتا کہ عرب نام کا کوئی علاقہ نیا نیا آباد ہوا ہے۔ تھیو فراسٹس (Theophrastos’) چوتھی صدی قبل مسیح نے یمنی اور عربی علاقوں اور ان کے کلچر کے بارے میں کئی جگہ لکھا مگر اس نے بھی مکہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ایراستھونیس(Eratosthenes) تیسری صدی قبل مسیح نے بحیرہ احمر کے ساتھ موجود عربی معاشروں کا ذکر کیا ہے لیکن مکہ کا نام نہیں لیا، بلکہ جہاں آج مکہ آباد ہے، اس سارے جغرافیے کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ جگہ ابھی تک مکمل طور پہ غیر آباد ہے۔

سکندر اعظم کی خواہش تھی کہ وہ عرب علاقوں پہ قبضہ کرے اور اس سلسلے میں اس نے چار عد د جاسوسی قافلے بھیجے،جن کا کام عرب کی ثقافت، ان کی فوجی صلاحیتیں، ان کاکاروبار اور نان نفقہ اور تمام تر راستوں کی جانکاری حاصل کرنا تھا۔ سکندر اعظم کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ حملہ کرنے سے پہلے اس جگہ کی تفصیلی جانکاری لیا کرتا تھا۔ اس کے چار عدد بھیجے گئے جاسوسی قافلوں کا ریکارڈ تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ سب سے زیادہ اہمیت انیکسی کریٹ (Anaxicrates) کو دی جاتی ہے، جس نے باقاعدہ راستوں کو بھی ماپا تھا، اور اس کا کام بعد میں آنے والے کئی تاریخ دانوں کے لیئے بہت مفید ثابت ہوا۔ایگتھرچی(Agatharchides) دوسری صدی قبل مسیح میں عرب شہروں کے بارے میں لکھتا ہےاور بحیرہ احمر کے ساتھ تمام تر عبادت گاہوں کا ذکر کرتا ہے لیکں مکہ یا کعبہ کا ذکر نہیں کرتا۔ سٹرابو (Strabo) پہلی صدی قبل مسیح میں وسطی اور مغربی عرب کے تمام قبیلوں اور شہروں کا ذکر کرتا ہے مگر مکہ کا نہیں۔

رومیوں نے 24 قبل مسیح میں ایک فاتح گیلس (Aelius Gallus) کو عرب اور اس سے ملحقہ علاقوں پہ قبضے کے لیے بھیجا۔ اس کی تمام تر فتوحات میں Related imageعرب کے باقی کئی شہروں کا تو ذکر ہے، لیکن مکہ نام کے کسی شہر کا ذکر نہیں۔ صحرا میں اگر کوئی نخلستان ہو تو سب کو اس کا پتہ ہوتا ہے اور وہ ایک قیمتی جگہ مانی جاتی ہے۔قبضہ کرنے والے ایسی جگہوں کو نہیں چھوڑتے۔ پلائنی (Pliny) نے پہلی صدی عیسوی میں عرب کے اندر 92 قبیلوں اور 62 شہروں کا ذکر کیا لیکن مکہ کا نام تک نہیں لیا اور زبردست بات یہ کہ اس نے جورہم قبیلے کا بھی کوئ ذکر نہیٰں کیا۔ ٹالمی (Ptolemy) ، جس نے دنیا کے نقشہ جات بنائے، اس نے پہلی صدی عیسوی میں عرب کے 114 شہروں کا جغرافیہ بتایا لیکن اس میں مکہ کا کہیں ذکر نہیں۔ ٹالمی نے اک شہر مکارابہ (macaraba) کا ذکر کیا ہے جسے کچھ مسلمان نام کی مماثلت کی وجہ سے مکہ سمجھتے ہیں،لیکن ٹالمی کے مکارابہ کا جو حدوداربعہ بیان کیا گیا ہے، وہ مکہ کے حدود اربعہ سے یکسر مختلف ہے۔
آرکیالوجی یا کسی بھی قسم کی ہسٹری کے ریکارڈ میں مکہ کا ذکر نہیں مل رہا۔ ہاں ملتا ہے تو صرف اور صرف اسلامی تاریخی کتابوں میں، جو آٹھویں نویں صدی سے لکھنا شروع ہوئیں یا پھر قرآن میں اس کا ذکر ملتا ہے ۔ مسلمان اگر ہسٹری میں اسے کہیں ملانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں ایک ٹالمی کے مکارابہ کا ذکر ہے، جس کے بارے میں بیان کیا جاچکا ہے۔
دوسرا وہ Diodorus Siculus ڈیوڈورس جو ایک تاریخ دان ہے،جس نے عرب کے اپنے سفر، جو اس نے پہلی صدی قبل مسیح میں کیا تھا اور لکھا تھا کہ وہاں اس نے ایک عبادت گاہ دیکھی جو لوگوں کے لیے بہت مقدس تھی۔ اس بات کو مومنین ثبوت کے طور پر بیان کرتے ہیں لیکن ساتھ میں بدنیتی یہ کرتے ہیں کہ اس کی اس بات کو سیاق و سباق میں پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس نے جس علاقے کا ذکر کیا اور اس علاقے کی جو خصوصیات بتائیں، ان میں سے ایک بھی مکہ سے نہیں ملتیں اور دوسرا یہ کہ اس نے علاقے میں بسنے والوں کو بنیزومیں کے نام سے بتایا ۔ لیکن اگر اسے سچ بھی مان لیا جائے تو یہ واقعہ پہلی صدی عیسوی کا ہے، اس سے پہلے 2000 سال میں مکہ کا کچھ پتہ نہیں۔ تیسرا، مسلمان اسے بائبل کے اندر موجود ایک نام بکا (bacca) سے ملاتے ہیں۔اگر بکا کے ساتھ شامل سابقے لاحقے میں تمام آیات کو غور سے پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں یروشلم کا ذکر کرتے ہوئے ایک وادی، جس میں ایک مخصوص پھول ” بکا ” لگتےہیں، اس کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

قارئین،  قرآن، تاریخ، اور احادیث کی کتابوں میں اس شہر کی جو تفصیلات دی گئی ہیں وہ مکّہ پر نہیں بلکہ “پترا” پر فٹ آتی ہیں۔ مثلا قرآن اسے “شہروں کی ماں” یعنی قدیم شہر کہتا ہے۔ نیز یہ شہر ایک وادی میں ہے جس کے نزدیک ایک اور وادی ہے. ابن اسحاق، طبری، اور حدیث کے اماموں نے شہر کے Related imageنزدیک پہاڑوں، وادی میں سبزہ، چکنی مٹی، زرخیز زمین، ندی، درختوں، پھلوں (انگوروں)، ایک حصے کا بلند اور دوسرے حصے کا نشیب میں ہونا اور دونوں اطراف سے سڑکوں کا شہر میں داخل ہونا، اور شہر کا تجارتی گزرگاہ کے راستے میں ہونا بیان کیا ہے. یہ خصوصیت پترا میں تو موجود ہیں، مکّہ میں نہیں. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اور ان کی وفات کے سو سال بعد تک جتنی مسجدیں تعمیر ہوئیں ان کا رخ نہ تو یروشلم یعنی بیت المقدس کی طرف تھا اور نہ ہی موجودہ مکّہ کی طرف. ان کا رخ پترا کی طرف ہے. جس کعبہ میں عبداللہ ابن زبیر نے پناہ لی اور حجاج بن یوسف نے پتھر برسائے وہ بھی پترا میں ہے.
تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  سن ٤٠٠ عیسوی سے پہلے مکّہ شہر کا کوئی وجود ہی نہ تھا- لھذا ابراہیم یا اسماعیل علیہ السلام کبھی مکّہ نہیں گئے. پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش پترا میں ہوئی تھی جو کہ عربوں کا قدیم ترین شہر ہے. قرآن میں جس کعبہ کا ذکر ہے وہ بھی پترا میں تھا. نیز قرآن میں Related imageاس شہر کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں وہ بھی صرف پترا پر فٹ آتی ہیں، مکّہ پر نہیں. مکّہ میں خانہ کعبہ کی تعمیر ٩٠٠ عیسوی یعنی پیغمبر اسلام کی وفات کے کوئی ٢٠٠ سال بعد ہوئی اور یہ عباسیوں کا دور تھا. انہوں نے حجر اسود کو پترا والے کعبہ سے نکال کر مکّہ والے نئے کعبہ میں لگا دیا. کچھ عرب قبیلوں کو یہ جعل سازی پسند نہیں آئ اور انہوں نے طاہر قرامطی کی سربراہی میں مکّہ پر چڑھائی کر دی، حاجیوں کو قتل کر دیا، کعبہ کو مسمار کر دیا، اور حجر اسود کو اغوا کر لیا. حجر اسود ٢٣ سال تک قرامطیوں کے قبضے میں رہا اور اس دوران مکّہ میں حج نہ ہو سکا. عباسی خلیفہ نے بھاری تاوان ادا کرکے حجر اسود کو رہا کرایا. لیکن واپسی سے پہلے قرامطیوں نے حجر اسود کے ایک درجن ٹکڑے کر دئیے۔

یقینا  پیش کردہ دلائل بہت حیرت انگیز اور چونکا دینے والے ہیں۔ لیکن ان سے یہ ہی لگتا ہے کہ کعبہ مکہ میں نہیں بلکہ پترا میں تھا۔ پترا میں موجود کعبہ کو ڈھا دیا گیا اور تاریخ کے ساتھ ایک شدید کرپشن کی گئی۔ آج خدا کا گھر موجود تو ہے مگر شاید اپنے اصل مقام پر نہیں۔

عرض مصنف: یہ تمام دلائل و ثبوت تاریخ کے مطالعہ سے اکٹھے کئے گئے ہیں اور اس تحریر کو ایک تاریخی  مضمون کے طور پر ہی لیا جائے۔ اگر کوئی محقق اس کے جواب میں دلائل پیش کریں تو ہمیں نیا سیکھنے کو ملے گا۔ شاید یہ ہی “مکالمہ” کا مقصد بھی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 10 تبصرے برائے تحریر ”کیا کعبہ اپنے اصل مقام پر نہیں ہے؟

  1. کولمبس بھی بڑا مانا ہوا سیاح اور جہاز راں تھا لیکن انڈیا جاتے جاتے امریکہ پہنچ گیا ۔۔۔۔اور صدیوں سے امریکہ بھی تو آپ کے لکھے ہوئے تاریخ دانو ں سے چھپا ہوا تھا ۔۔۔تو کیا امریکہ کا وجود ہی نہیں تھا۔۔۔۔؟؟ سب فالتو کی باتیں ہیں مسلمانوں میں بے اعتقادی بڑھانے کے لئے ۔۔۔

  2. محترم انعام رانا صاحب ، کسی موضوع کو ابلاغ یا مکالمہ کے لئے پیش کرنے سے قبل ، کم از کم اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے کہ پیش کئے گئے موضوع کی اہمیت کیا ہے اور اگر موضوع عام کی بجائے دینی ہو جو نہ صرف قرآن مجید کے واضح احکامات سے متضاد ہو ۔ بے دلیل ہو ، بے ثبوت ہو تو اسے پیش کرنے سے اس لئے گریز کرنا چاہئیے کہ موضوع کا مقصد ، فقط شیطان کی طرف سے مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی ان گنت کوششوں کی طرح ایک کوشش ہو گی ، مثلاً منتخب موضوع میں کسی بے نام و بے شناخت مصنف کی طرف سے ، قرآن مجید کے واضح دلائل اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے دور سے اب تک ظاہر و عیاں تاریخی حقا ئق کی تردید کے لئے پیش کردہ ، مندرجہ زیل 12 دلائل میں واحد دلیل اور ثبوت فقط یہ ہے کہ غیر مسلم مئورخین وغیرہ نے اپنی تحریروں میں بقول ان کے مکہ مکرمہ یا خانہ کعبہ کا زکر نہیں کیا ۔ مگر کیا مصنف کے اس جہل کو قرآن مجید کے واضح دلائل کے ہم پلہ مان کر بطور دلیل و ثبوت قبول کیا جا سکتا ہے؟ میرے خیال میں تو ہر گز نہیں ، کیونکہ اگر غیر مسلم مئورخین نے اپنی تحریروں میں مکہ مکرمہ یا خانہ کعبہ کا زکر نہیں کیا تو اس کا مطلب و معنی یہ کیسے لیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس تر ین مقام زمین پر موجود ہی نہیں تھے ؟ جو بقول مصنف 900ء میں وجود میں آئے ۔۔ اور اس سے بھی بڑھ کر شیطانیت کا اس سے بڑا اظہار کیا ہو سکتا ہے کہ فقط غیر مسلم مئورخین کی تحریروں میں مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کا زکر نہ کرنے کو جواز اور بنیاد بنا کر مصنف نے اپنے من کی سیاہی تحریر میں پرو دی ہے ، اس لئے مقدس موضوع پر ایسی جاہلانہ اورشیطانی تحریر تو اس قابل بھی نہیں کہ اس کو پڑھا جائے لیکن چونکہ شیطان نے ہمیشہ مسلمانوں کی مقدس مقامات اور مقدسات کی تاریخ سے لاعلمیوں سے فائدہ اٹھا کر ان کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے لئے قیاسی وسوسوں کا سہارا لیا ہے اس لئے مجبوراً جواب کے پہلے حصے میں اس شیطانی تحریر میں سے ہی وہ نکا ت پیش کرتا ہوں جو دلیل اور ثبوت کے طور پر بیان کئے گئے ہیں اور پھر قرآن مجید کے دلائل پیش کرتا ہوں تاکہ ہر مسلمان اور تاریخ کا طالب علم یہ جان سکےکہ شیطان انہیں ورغلانے کے کیا کیا نہیں کررہا ؟۔۔۔۔
    شیطانی تحریر کے دلائل اور بھونڈے ثبوت ؟
    دلیل اور ثبوت نمر 1۔ رومن اور یونانی جغرافیہ دانوں اور تاریخ دانوں نے مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    دلیل اور ثبوت نمر 2۔ پانچویں صدی ق م کے بابلی بادشاہ نبو نیڈ س نے مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    دلیل اور ثبوت نمر 3۔ پانچویں صدی ق م کے تاریخ دان ہیرو ڈوٹس نے مکہ کا زکر نہیں کیا۔
    دلیل اور ثبوت نمر 4 ۔ پانچویں صدی ق م کے بابلی بادشاہ نبو نیڈ س نے مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    دلیل اور ثبوت نمر 5 ۔ چوتھی صدی ق م میں تھیو فراسٹس نے مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    دلیل اور ثبوت نمبر6 ۔ نیسری صدی ق م میں کے ایرا ستھو نیس نے مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    دلیل اور ثبوت نمبر7 ۔ سکند اعظم کے جاسوسوں نے مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    دلیل اور ثبوت نمبر8 ۔ دوسری صدی ق م کے ایگتھرچی نے مکہ کا زکر نہیں کیا۔
    دلیل اور ثبوت نمبر9 ۔ پہلی صدی ق م میں سٹرابو نے بھی مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    دلیل اور ثبوت نمبر10 ۔ رومیوں نے چوبیس ق م کے ایک فاتح گیلس نے بھی مکہ کا زکر نہیں کیا۔
    دلیل اور ثبوت نمبر11۔ پہلی صدی عیسوی میں پلا ئنی نے مکہ کا زکر نہیں کیا۔
    دلیل اور ثبوت نمبر12۔ پہلی صدی عیسوی میں ٹالمی نے مکہ کا زکر نہیں کیا ۔
    پھر غیر مسلم مئورخین کے عدم زکر کی نااہلی کو جواز کا روپ دے کر شیطانی تحریر کے مصنف نے خود جو قیاس آرئیاں کی ہیں وہ مندجہ زیل ہیں ؟
    مصنف؟ کی شیطانی قیاس آرائیاں؟
    چونکہ ۔ آرکیالوجی یا کسی بھی قسم کی ہسٹری کے ریکارڈ میں مکہ کا زکر نہیں ۔
    چونکہ۔ نویں صدی عیسوی سے شروع اسلامی تاریخ کی تصانیف یا پھر قرآن میں اس کا زکر ہے
    چونکہ ۔ قرآن ، تاریخ ،اور احادیث کی تفصیلات مکہ کی بجائے پترا پر پورا اترتی ہیں۔
    چونکہ ۔ قرآن اسے شہروں کی ماں یعنی قدیم شہر کہتا ہے ۔
    چونکہ ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد اور ان کے سو سال بعد تک جتنی مساجد تعمیر ہوئیں ان کا رخ پترا کی طرف ہے ۔
    چونکہ ۔ جس کعبہ میں عبداللہ بن زبیر نے پناہ لی اور حجاج بن یوسف نے پتھر برسائے وہ بھی پترا میں ہے ۔
    چونکہ ۔ تاریخ کے مطابق چارسو عیسوی سے قبل مکہ شہر کا کوئی وجود ہی نہ تھا لہذا ابراہیم یا اسماعیل علیہ السلام کبھی مکہ نہیں گئے
    چونکہ ۔ پیغمبر اسلام کی پیدائش پترا میں ہوئی جو عربوں کا قدیم ترین شہر ہے۔
    چونکہ ۔ قرآن میں جس کعبہ کا زکر ہے وہ بھی پترا میں تھا ۔
    چونکہ ۔ مکہ میں خانہ کعبہ کی تعمیر نوسو عیسوی یعنی پیغمبر اسلام کے دو سو سال بعد عباسیوں کے دور میں ہوئی اور انہوں نے حجر اسود کو پترا والے کعبہ سے نکال کر مکہ والے نئے کعبہ میں لگا دیا ۔
    قرآن مجید میں مزکور واضح دلائل ؟
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ رب زدنی علما ۔
    خانہ کعبہ اور اس کی تعمیر کے متعلق خالق کائنات اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کی چند آیات مبارکہ ۔
    اور جب ہم نے بنایا بیت اللہ کو بار بار لوٹنے کی جگہ لوگوں کے لئے اور امن کی جگہ تم بنائو مقام ابراہیم کو جائے نماز اور حکم کیا ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل کی یہ کہ پاک کرو تم دونوں میرا گھر واسطے طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں سجدہ کرنے والوں کے (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 125)
    اور جب بلند کر رہے تھے ابراہیم بنیادیں بیت اللہ کی اور اسماعیل اے ہمارے رب تو قبول کر ہم سے یقیناً تُو ہی ہے خوب سننے والا خوب جاننے والا ( سورۃ البقرۃ آیت نمبر 127)
    ہم دیکھتے ہیں بار بار اُٹھنا آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف سو البتہ ہم ضرور پھیر دیں گے آپ کو قبلے کی طرف آپ پسند کرتے ہیں جس کو چنانچہ پھیر لیں آپ اپنا چہرہ طرف مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی طرف (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 144)
    اور جہاں سے نکلیں آپ تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور بلا شبہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے (سورۃ البقرۃ آیت نمبر149)
    خا نہ کعبہ کے قریب موجود مقام کی واضح نشانی کو پہچاننے کی واضح ترین دلیل قرآن مجید کے مطابق ۔
    بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے چنانچہ جو شخص حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ کرے تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر یہ کہ وہ طواف کرے ان دونوں کا ۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 158)
    اور تم پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے لئے(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 196)
    قرامطیوں کے کعبہ اور حاجیوں پر حملے قتل اور جھگڑے و فساد کی سزا قرآن مجید کی نظر میں؟
    وہ پوچھتے ہیں آپ سے حرمت والے مہینے کی بابت لڑائی کرنے سے اس میں ،کہہ د یجئے لڑائی کرنا اس میں بہت بڑا ہے ہے اور روکنا اللہ کی راہ سے اور کفر کرنا اس کے ساتھ اور مسجد حرام سے اور نکالنا اس کے رہنے والوں کو اس سے سب سے بڑا گناہ ہے اللہ کے نزدیک اور فتنہ کہیں بڑا ہے قتل سے ( سورۃ البقرۃ آیت نمبر 216)
    بلا شبہ پہلا گھر جو مقرر کیا گیا لوگوں کے لئے البتہ وہ ہے مکہ میں ہے بڑی برکت والا اور ہدایت ہے جہانوں کے لئے 0 اس میں نشانیاں ہیں واضح مقام ابراہیم اور جو کوئی اس میں داخل ہو ا وہ ہو گیا امن والا ( سورۃ اٰ ل عمران آیت نمبر 96 ،97)
    کعبہ پاک کی حفاظت کا قرآن میں زکر
    کیا نہیں آپ نے دیکھا کیا ،کیا آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ 0 کیا نہیں کر دیا تھا اس نے ان کی چال کو بے کار 0 اور اس نے بھیجے ان پر پرندے جھنڈ کے جھنڈ 0 وہ پھینکتے تھے ان پر کنکریاں کھنگر کی 0 سو اس نے کر دیا انہیں جیسے بھوسا کھایا ہوا 0 (سورۃ الفیل)
    نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےقبیلہ قریش جو خانہ کعبہ کے متولی تھے کا قرآن میں زکر
    بوجہ مانوس ہونے کے قریش کے 0 مانوس پونا ان کا سفر سے سردی اور گرمی سے0 لہذٰ چاہئیے کہ وہ عبادت کریں مالک کی اس گھر کے0
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شہر مکہ کو ایک اور نام سے پکارا اور اس کی قسم بھی کھائی؟
    قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی 0 اور طور سینا کی 0 اور اس پر امن شہر البلد الامین (مکہ) کی 0 ( سورۃ التین آیات نمبر 1تا 3) ۔
    شب معراج میں مسجد الحرام (مکہ) کا قرآن میں زکر
    پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ۔( سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 1) ۔
    جھوٹ کا پردہ چاک ؟
    میرے محترم مسلمان بھائیو چونکہ مزکورہ بالا نامعلوم مصنف کی شیطانی تحریر میں درج شہر پترا کو جو اردن کا شہر ہے اور جس کی تعمیر 312 ق م میں ہوئی وہاں موجود کعبہ مان بھی لیا جائے (نعوذ باللہ) تو اردن کے شہر پترا اور صفاء و مروہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ جہاں سے یہ ممکن ہی نہیں کہ حج کے مخصوص ایام میں کوئی حاجی صفاء و مروہ پر سعی کی شکل میں حج کا اہم رکن ادا کرسکے ، جبکہ کعبتہ اللہ کے قرب میں موجود صفاء و مروہ کی شکل میں واضح ترین نشانی جس کا قرآن مجید میں واضح زکر ہے ہے، قرآن مجید کی واضح آیت کی شکل میں اس بات کا واضح ترین ثبوت ہے کہ خانہ کعبہ اپنے قیام سے اب تک وہیں پر موجود ہے جہاں وہ اپنے قیام کے وقت قائم ہوا تھا، علاوہ ازیں زم زم کا چشمہ جو دور حاضر میں بھی کئی لحاظ سے کھلی آنکھوں سے دیکھی جانے والی اور حیران کر دینے والی نشانی کے طور پر خانہ کعبہ کے قریب موجود ہے، جو اس بات کا ثبوت اور شیطانی تحریر کے مصنف کی ابراہیم علیہ السلام کے یہاں نہ آنے سے متعلق ہرزہ سرائی کی تردید بھی ہے ، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور اپنے فرزند حضرت اسماعیل السلام کو اللہ کے حکم پر یہاں لے کر آئےتھے اور اس وقت کے اس بے آب مقام پر اللہ نے ایسا چشمہ جاری فرمایا تھاجس سے امسال بھی 23لاکھ حجاج کرام مستفید ہوئے ۔ تاہم خانہ کعبہ پر قرامطیوں کے حملے حجاج کرام کی شہادت اور حجر اسود کی بزور شمشیر منتقلی اور واپسی کو مستند تاریخ کی روشنی میں تحقیق کے بعد مصنف کی بات تسلیم کی جا سکتی ہے لیکن اس کام میں شریک فتنہ پرستوں کے بارے میں اللہ کی کتاب کی سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 216 آپ کے سامنے رکھ دی گئی ہے خود پڑھیئے اور فیصلہ کیا میرے خیال میں ایسے لوگوں کو” لکم د ینکم ولی الدین ” کہہ کر ان سے کنارہ کشی کرنا ذیادہ بہتر ہے کسی فتنہ فساد میں پڑنے سے ۔ باقی علمائے کرام زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں ، میرا جواب تو ایک عام گناہ گار مسلمان کی نشان دہی ہے جو میرے مطالعے کا نتیجہ ہے ۔ اے میرے وحدہ لاشریک خالق مالک مجھے دین کی سوجھ بوجھ عطا کر اور ایمان کو میرے قلب میں داخل فرما آمین ثم آمین۔

  3. مزید یہ کہ قدیم لندن اس جگہ نہیں تھا بلکہ گلاسگو کی جگہ ہوتا تھا جب برطانوی استعمار شروع ہوا تو اس نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے لندن کو موجودہ جگہ منتقل کردیا اور ساری تاریخ مٹا کر اپنی تاریخ لکھی۔

    اور لاہور پہلے آگرہ میں ہوتا تھا

    اور پیرس بھی افریقہ میں تیونس میں واقع ہوتا تھا، جب فرانسیسی کو افریقہ سے نکلنا پڑا تو وہ پیرس بھی ساتھ ہی لے گئے

  4. انعام رانا صاحب آپ کے مکالمے سے ایسی ہی تحریر کی توقع کی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ایک سال قبل جب آپ نے پلاک لاہور میں مکالمہ کی تقریب رونمائی کی تھی اس کے کچھ دیر بعد ہی آپ کی تحریروں نے ثابت کر دیا تھا کہ آپ کا ایجنڈا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے مکالمہ پر یہ مضمون شائع کرنے سے قبل ذرا بھی یہ نہیں سوچا کہ آپ کیا کہنے جا رہے ہیں ، کیا شائع کرنے جا رہے ہیں ، آپ نے اس تحریر کو شائع کرنے سے پہلے کتنے علما اسلام سے راے لی ، ان کو پڑھوایا ، جو طالب علم لکھ رہا ہے ، اس کے پاس ان تاریخ دانوں کے سوا اسلام کی تاریخ پر کتنی نظر ہے ، کیا اس بارے میں بھی سوچا ، سورہ فیل ہی پڑھ لیجیے اور ساتھ ہی قرآن پاک اللہ پاک فرماتے ہیں ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تحریر پڑھنے کےبعد نوجوانوں کے اوپر کیا اثرات پڑھیں گے ، کم عمروں پر کیسے اثرات مرتب کرے گی آپ کی تحریر اس کا کوئی جواب ہے تو وہ بھی دیدیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی پوری تاریخ میں کہیں بھی اسلامی تاریخی کا کوئی ذکر نہیں ہے، اسلامی تاریخی کے بغٖیرکیسے دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی باتوں کو سچا مانا جاسکتا ہے ، اس کا کوئی جواب ہے تو دیدیں

  5. وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت وإسماعيل ﴿البقرہ ۱۲۷﴾
    اور جب ابراہیم ( علیہ السلام ) اور اسماعیل ( علیہ السلام ) کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ہمارے پروردگار !تو ہم سے قبول فرما ، تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

    خانہ کعبہ پتھروں سے بنا ہوا ہے اور پٹرا پہاڑ سے تراشا ہوا ہے۔ یہ ایک واضح فرق تو صرف تعمیر میں ہی ہے۔
    مصنف نے جن مسجدوں کا ذکر کیا ہے وہ مکہ یا مدینہ کی مساجد ہیں۔ مدینہ سے یروشلم اور پیٹرا ایک ہی سمت پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پہلی صدی ہجری کی دوسری مساجد عرب کے دوسرے حصوں مثلا وسطی عرب میں بنیں کیا ان کا رخ بھی پیٹرا کی طرف ہے۔ اس بات پر مصنف نے کوئی تحقیق شائع نہیں کی۔
    علاوہ ازیں مصنف کا سارا دارومدار قدیم تاریخ پر ہے۔ جب کہ اسلامی تاریخ کو وہ بے وقعت ثابت کر رہے ہیں۔ اگر اسلامی تاریخ کو درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا تو اس اصول پر قدیم تاریخ کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ کا دور تو ایسا ہے کہ اس دور میں اسماء الرجال جیسا علم وجود میں آیا جس میں لاکھوں اشخاص کے حالات، پیدائش، وفات، اساتذہ و تلامذہ کی تفصیل، طلب علم کے لیے سفر، ثقہ و غیر ثقہ ہونے کے بارے میں ماہرینِ علمِ حدیث کے بحثیں موجود ہیں۔ اس علم پر سینکڑوں مختصر اور طویل کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ ایسی مثال قدیم تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس اصول پر دیکھا جائے تو جن تاریخ دانوں کا مصنف نے ذکر کیا ہے وہ نسبتا زیادہ مشکوک ہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *