مادرِ جمہوریت۔۔۔ایم سے صبور ملک

موت برحق ہے،ہر ذی روح نے ایک نہ ایک دن اس جہاں فانی سے رخصت ہونا ہے،کوئی پہلے تو کوئی بعد میں،لیکن بعض لوگوں کی رخصتی اس شان سے ہوتی ہے کہ یہ زمین و آسمان بھی بے اختیار مرنے والے کی رخصتی کو دیکھ کر جھوم اٹھتے ہیں،پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کچھ کردار جو آج ہم میں نہیں ان کی مو ت نے بھی پیچھے بہت سارے سوال چھوڑدئیے ہیں،حادثاتی موت ہو یا طبعی ہماری سیاسی تاریخ کے صفحات میں تاقیامت یہ حروف رقم کردئیے گئے ہیں،کہ مرنے والے کی مو ت کے ذمہ دار وہ حالات واقعات ہیں،جس نے مرنے والے اور اسکے لواحقین کو کسی حد تک بے بسی اور بے چارگی سے دوچار کیا،کسی دوسرے پر ظلم وزیادتی کرتے وقت ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ قدرت کے مکافات عمل کی زد سے آج تک کوئی  نہیں  بچ سکا،۔

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی اپنی شریک حیات کے دنیا فانی سے رخصت ہوجانے کا ایک سال مکمل ہوجانے پر یقیناًیہ سوچتا ہوگا کہ اس دشت کی سیاحی میں اسے کیا ملا؟اب نواز شریف کے پاس کھونے کو رہ ہی کیا گیاہے،نیک اور خوب سیرت شریک حیات انسان کے ہرسکھ دکھ کی ساتھی ہوتی ہے جس کا اندازہ انسان کو اپنی عمر کے آخری ادوار میں ہوتا ہے،جب اولاد اپنی روزی روٹی کے  چکر میں والدین سے دور ہوجاتی ہے،تو ایسے میں یہ شریک حیات ہی ہوتی ہے جو ا پنے جیون ساتھی کوحوصلہ عطاکرتی ہے،اسے سہارادیتی ہے،اللہ نے ایسے ہی تو  نہیں قرآن میں مرد عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔

گوجرانوالہ کے مشہور گاماپہلوان کے خاندان سے تعلق رکھنے والی بیگم کلثوم نواز پاکستانی سیاست کے کارزار میں اُس وقت جلوہ افروز ہوئیں جب 12اکتوبر 1999کو پرویز مشرف کی جانب سے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا  گیااور اس وقت کے وزیر اعظم اور کلثوم نواز کے شوہر میا ں محمد نوا زشریف اورخاندان کے دیگر مردوں کو ناکردہ گناہوں کی وجہ سے پابند سلاسل کردیا گیا،وہ دور جب بڑے بڑے سیاست دانوں نے بھی گوشہ نشینی اختیار کرلی اور پورے ملک میں نواز شریف اور جمہوریت کانام لینے والا کوئی نہ تھا،ایسے میں مسلمان خواتین اورتحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہونے والی ہماری عزت ماب بہنو ں،بیٹیوں اور ماؤں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے بیگم کلثوم نواز نے علم بغاوت بلند کیا اور تن تنہا فوجی آمر کو للکارتے ہوئے میدان عمل میں نکل پڑیں،اور پورے پاکستان کا دورہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ وقت پڑنے پر ایک عورت کیا کچھ کرسکتی ہے،

آمرپرویز مشرف نے کلثوم نواز کی آواز کو دبانے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا،لیکن ان کے ہاتھ ناکامی کے سوا کچھ نہ آیا،حتی کہ مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف کے بدترین سیاسی مخالفین بھی بیگم کلثوم نواز کی اپنے شوہر اور خاندان کے دیگر مردوں کی رہائی اور ملک میں جمہوریت کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو سراہنے پر مجبور ہوگئے،بیگم کلثوم نواز کی زندگی کا دوسرا موڑ اس وقت آیاجب پانامہ پیپرز کو نام لے کر ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو اقتدار سے الگ کیا گیا،تاہم اس عرصے میں بیگم صاحبہ کینسر کے ہاتھوں مجبور ہو کر لندن کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہی تھیں،ورنہ کچھ بعید نہ تھا کہ ایک بار پھر سے بیگم کلثوم نواز دوبارہ سے کارزار سیاست میں اُتر چکی ہوتیں،نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز جولائی 2017سے جولائی2018تک ایک سال کبھی لندن میں ہوتے تو کبھی احتساب عدالت میں،یہ سلسلہ اس وقت تھما جب احتساب عدالت نے دونوں باپ بیٹی کو سزا سنا دی،اس وقت یہ دونوں بیگم کلثوم نواز کے پاس لندن کے ہسپتال میں موجود تھے،اگر یہ چاہتے تو خودساختہ جلاوطنی اختیار کرکے لندن میں رہائش اختیار کرسکتے تھے،لیکن2018والا نواز شریف 1990والے نواز شریف سے مختلف تھا،اس نے بستر مرگ پر کومے کی حالت میں اپنی شریک حیات کو اللہ کے سپرد کیا اور بیٹی کاہاتھ پکڑ کر سیدھا اڈیالہ جیل جا کر دم لیا،اور بالآخر وہ دن بھی آگیا جب نواز شریف کو بیگم کلثوم نواز کی سیریس حالت کا پتہ چلا اور جیل میں موجود ایک ایس پی کی منت سماجت کرنے پر بھی شوہر کی  بیماربیوی سے ٹیلی فون پر بات نہیں کروائی گئی،اور پھر 12ستمبر آگیا،وقت رخصت،وقت جدائی،عمر بھر کاساتھ ٹوٹ گیا،باؤجی کی جوڑی ٹوٹ گئی،بیگم کلثوم نواز نے لقمہ اجل کو لبیک کہا،جیل میں بند باپ بیٹی اور داماد کو یہ خبرسنا دی گئی،وہ دن اور آج کادن پھر کسی نے باؤجی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی،اور مسکراہٹ آئے بھی کیسے؟زندگی بھر جس نے ساتھ دیا ہو،پت جھڑ،سردی گرمی،دکھ سکھ کا ساتھی لیکن جب وقت رخصت اس کے پاس وہی  انسان نہ ہو تو یہ دکھ وہ ہے جو تاعمر بھلائے نہیں بھولتا،بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے دوران کون سا ایسا ستم تھا جو شریف خاندان خاص طورپر نواز شریف کو  نہ سہنا پڑا۔

خودبیگم کلثوم نواز کی بیماری کو بہانے کا نام دیا گیا،جیسے ماضی میں نواز شریف کے بائی پاس کو ڈرامہ کہا جاتا رہا،اور یہ سب ایک ایسی جماعت کے لوگوں کی جانب سے ہوا،جس کے لیڈر کو 2013کے انتخابات کی انتخابی مہم میں لفٹ سے گر جانے پر نواز شریف خود چل کر عیادت کو گئے،لیکن اسے کم ظرفی کہیں یا کچھ اور اپنی باری  ان لوگوں نے کوئی کسرنہیں چھوڑی،ماضی میں نوازشریف کے والد میاں محمدشریف کی رحلت کے موقع پر بھی آمر پرویز مشرف نے والد کی میت کے ساتھ کسی کو پاکستان آنے نہیں دیا،اور اب کلثوم نواز کی بیماری اور آخری وقت پر نوا زشریف کو پابند سلاسل کردیا گیا،سیاست اپنی جگہ لیکن ہمارے ہاں موت میت پر جانی دشمن کے لئے بھی دل کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،لیکن نہ جانے وہ کون سی مصلحت تھی جس نے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے روکے رکھا،۔

کلثوم نواز کی پہلی برسی پر کوٹ لکھپت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا نوازشریف اگر خاموش ہے تو اس کے پیچھے کوئی گہرا راز نہیں،باؤجی کے ذہن ودل پہ وہ منظر نقش ہوکررہ گیا ہے،جب باپ بیٹی کلثوم نواز سے رخصت ہوکر کہہ رہے تھے کہ کلثوم آنکھیں کھولو،۔کلثوم نواز تو چلی گئیں،لیکن بہت سے نابیناؤں کی آنکھیں کھول گئیں،کہ اس ملک سے وفاء کرنے کا انجام یا تو پھانسی ہے یا پھر پرائے دیس اپنوں سے دور بے بسی کی موت۔اللہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *