مکالمہ زندہ باد، رونا مردہ باد۔۔۔ معاذ بن محمود

حسن ظن تو یہ تھا کہ آپ ایک بار پوچھ لیتے کہ ایسا مواد کیونکر چھاپا جو حضور کی طبیعت پہ گراں گزرا۔ آپ پوچھتے تو ہم جواب دیتے کہ بھیا مکالمہ ہے اور فی الوقت مکالمے کی شرائط میں سے یہ ہرگز نہیں کہ پونے ہزاروی صاحب سے اجازت لے کر موضوع کا انتخاب کیا جائے۔ مکالمہ اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والی ایک سائیٹ ہے اور ہمارے پاس اتنے روپے نہیں کہ “پیسہ دو گے تو کالم لکھوں گا” والے نمونوں سے بعوض چند معدودوں کے موضوع کا انتخاب کروائیں۔ بھیا ہم پروفیشنل صحافی نہیں، کس کمبخت نے کہا کہ ہم رپورٹنگ کرتے ہیں؟ ہم سادہ  سے عام لوگ ہیں جنھیں نہ تو ریٹنگ کے لیے امجد عباس صاحب کی ذات پہ حملے کرنے پڑتے ہیں اور نہ ہی سیلف مارکیٹنگ کے لیے موسمی شیعیت قبول کرنی پڑتی ہے۔ اپنے گریبان میں جھانکنے پر یہ دونوں خصلتیں آپ کو اپنے پاس لٹکتی ملیں گی۔

ممتاز قادری اور مشال خان کے بعد والے پاکستان میں اگر آپ ذرہ برابر بھی عقل رکھتے ہیں تو ریٹنگ کے لیے مذہبی شدت پسندوں کا بیانیہ اپنانا پڑتا ہے۔ کم از کم   ممتاز قادری کے جنازے کے بعد تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے جذ بات ہائی جیک کرتے ہوئے امجد عباس جیسے شریف النفس شخص کی ذات پہ باقاعدہ پراپیگنڈہ  شروع کیا۔ تماش بینوں کی واہ واہ جو چاہیے تھی۔ اسے کہتے ہیں حضور ریٹنگ کا چکر۔ ریٹنگ کے چکر میں جو بندہ اپنی اسلامی جماعت پہ کیچڑ اچھالنا  شروع کر دے اس کی جانب سے ریٹنگ کی بات کرنا بہرحال ایک کامیڈی ہی سمجھی جا سکتی ہے۔

میں مکالمہ کا آفیشل ترجمان تو نہیں لیکن میرا انعام رانا کو مشورہ ضرور ہے کہ اب ان Taboos کی فکر کیے بغیر ہر موضوع پر  کھل کر  لکھنے کی    دعوت دینے کو بحیثیت مکالمہ کی آفیشل پالیسی اپنایا جائے۔ عورتوں کے متعلق تحریر ہو یا کعبہ کی اصل جگہ سے متعلق، مکالمہ ایک پلیٹ فارم ہے جہاں آپ کو آپ کی مرضی کا مکالمہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ مکالمہ ابھی تک آپ جیسے سیلف پروکلیمڈ کالم نگاروں کے ساتھ کسی آفیشل آبلیگیشن میں نہیں بندھا کہ آپ سے پوچھ  کر  کالم   چھاپے،یا  چھاپنے سے انکار کرے۔

کعبہ کے مقام سے متعلق سن لیجیے کہ اگر آپ ایسے اعتراضات کا جواب دینے کے اہل نہیں تو آپ کو ایسے سوالات اٹھانے پر بھی اعتراض کا حق حاصل نہیں۔ جن بھائیوں کو لگتا ہے کہ ملحدین بیچارے معصوم مسلمانوں کو کنفیوژکرتے ہیں تو بھائیوں اپنے معصوم مسلمانوں کا فرم وئیر اپگریڈ کریں۔ یہ اتنے بیچارے کیوں ہیں کہ ملحدین کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے ہیں؟

معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *