سُنونا بابا۔۔۔۔سلمیٰ سیّد

سنو نا بابا
کہا بھی تھا کہ
مجھے اندھیرے ڈرا رہے ہیں
ابھی نہ جانا
ابھی تو میں نے تمھارے پہلو میں سانس لی ہے
مجھے زمانے کے سرد و گرم کا پتا نہیں ہے
کہا بھی تھاکہ مجھے سکھانا
سنو نا بابا
مجھے ابھی تو تمام ابجد پہ دسترس ہے
مگر جو کہنا ہے تم سے مجھ کو
میری زباں لڑ کھڑا رہی ہے
سو مجھ کو سمجھو
وہ پھیکی چائے پہ میٹھی گھوری
وہ ماں سے سگریٹ چھپا کے لانا
کبھی یوں ہی لان میں ٹہلتے
فریدہ خانم کو گنگنانا
کہا بھی تھا کہ ابھی نہ جانا
میں چاہے جتنی بڑی ہوجاوں
تمھاری انگلی کے لمس سے جو
بھروسہ مجھ میں اترتا رہتا
اسی سہارے میں چل رہی ہوں
اکیلے پن کی اداس راہوں میں
بن تمھارے سسک رہی ہوں
سنو نا بابا
کیا ایسا کوئی نہیں ہے رستہ
کہ جس کو ہم تم سمیٹ لیں تو
کسی مقرر مقام پر ہم ملیں وہیں سے
کہ جب تھے بچھڑے
نہیں تو مجھ کو بلاؤ بابا
میں تھک گئی ہوں
مجھے گلے سے لگاؤ بابا
سنو نا بابا!

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”سُنونا بابا۔۔۔۔سلمیٰ سیّد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *