خاک ہو گئے کیسے کیسے نگینے لوگ۔ ۔۔ ندیم کھوہارا

دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد شام کو انٹرنیٹ آن کیا ہی تھا کہ یہ روح فرسا خبر ملی کہ پاکستان کے معروف ترین کالم نگار۔ ۔ ۔ استاد محترم جناب سید انور محمود صاحب ہم میں نہیں رہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔بےشک ہر ذی روح نے اپنے خالق کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ لیکن ایسی شفیق ترین ہستی کے انتقال کی اچانک خبر پڑھ کر یوں لگا جیسے میرا پورا وجود ڈھے سا گیا ہو۔ ذہنی طور پر شدید شکست و ریخت کا شکار ہو گیا ہوں۔غالباً پندرہ بیس دن پہلے جب انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بہت بیمار ہیں اور چارپائی سے اٹھ بھی نہیں سکتے۔ تب میرے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ وہ اتنی جلدی ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ کیونکہ علالت کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر ان کی تحاریر باقاعدگی سے شائع ہو رہی تھیں۔

ابھی کل صبح ہی ان کی لکھی سو لفظوں کی کہانی بھی شائع ہوئی اور اُن سے عید مبارک کے پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ لیکن دس گھنٹے پیشتر فیس بک پوسٹ کرنے والے سید انور محمود آج ہم میں نہیں ہیں اور منوں مٹی تلے دفن ہو چکے ہیں۔ آآآہ ۔ ۔ ۔ خاک میں مل گئے نگینے لوگ۔ ۔ ۔ سید انور محمود۔ ۔ ۔ بہت ہی شفیق اور نرم دل انسان تھے۔ اور بہت ہی کہنہ مشق و مشہور لکھاری تھے۔ اتنی شہرت اور عزت کے باوجود ہم جیسے نوآموز اور طفل مکتب لکھاریوں کی نا صرف کھلے دل سے حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ مدد کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہماری ویب ڈاٹ کام پر اکاؤنٹ کے سلسلے میں میں نے ان سے مدد کی درخواست کی تو پہلے کئی گھنٹے خود محنت کرتے رہے جب بات نا بنی تو ہماری۔ویب کے ذمہ دار کو فون پر مسئلہ حل کرنے کو کہا۔ اور مجھے نمبر دیا کہ ابھی رابطہ کرو۔ میں فون کر کے سید صاحب کا حوالہ ہی دیا تھا کہ دس منٹ کے اندر اندر نا صرف مسئلہ حل ہو گیا بلکہ بعد میں ہماری۔ویب ڈاٹ کام والوں کی طرف سے باقاعدہ ای۔میل کر کے معذرت کی گئی۔

tripako tours pakistan

ایسی شفیق اور مدد کرنے والی شخصیت جب یوں اچانک چھوڑ کر چلی جائے۔ تو کیا محسوس ہوتا ہے۔ یہ میں ہی جانتا ہوں۔ یا وہ سب لوگ جو خواہ چند گھڑیوں کے لیے سہی۔ ۔ ۔ سید صاحب کے رفیق رہے ہیں۔ سید انور صاحب کے کالمز۔ ۔ ۔ مکالمہ,شاہکار, ہماری ویب, اور ہم سب, سمیت پاکستان کی صفِ اول کی تمام معروف ویب سائٹس پر باقاعدگی سے شائع ہوتے رہتے تھے۔ ان کا قلم اتنا رواں تھا کہ صرف اکیلی ہماری۔ویب ڈاٹ کام پر ہی ان کی پانچ سو کے قریب تحاریر شائع ہو چکیں تھی۔ آپ کو متنوع فیہ موضوعات پر مکمل عبور حاصل تھا اور بہ یک وقت سیاست معاشرت اور سائنس و مذہب جیسے موضوعات پر لکھ سکتے تھے۔

تاہم سیاست اور عام آدمی کے مسائل پر لکھنا ان کی پہلی ترجیح تھی۔ اس پر وہ لکھتے تھے۔ اور کمال لکھتے تھے۔ ان کے لیے لفظ “ہیں” کی بجائے “تھے” کا استعمال میرے لیے بہت ہی سوہانِ روح ہے۔ مگر کیا کیجیے۔ ۔ ۔ یہی حقیقتِ زندگانی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو بالآخر فنا ہونا ہے۔ یہی الفاظ ہیں جو اس دنیا میں رہ جائیں گے۔ سید انور محمود صاحب کی فیس بک آئی۔ڈی پر اب کبھی اپڈیٹ نہیں آئے گی۔ لیکن ان کی وال پر موجود ان کی گزشتہ تحاریر ہم ایسے نوآموز قلم کاروں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔ دعا ہے کہ اللہ پاک استادِ محترم سید انور محمود صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے۔ اور ان کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین

Avatar
ندیم رزاق کھوہارا
اردو زبان، سائنس، فطرت، احساس، کہانی بس یہی میری دنیا ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *