مکالمہ کی تیسری سالگرہ۔۔۔۔حسین مرزا

ہوا کچھ یوں تھا کہ  مجھے اِس بات کا کہا گیا تھا کہ کوئی الفاظ لکھو، جو مکالمہ کی ویب سائٹ کے بارے میں کچھ بتائیں، کیونکہ اِس کے تین سال پورے ہو چکے ہیں۔
سچ بولوں! سچ کا کس طرح اظہار کرنا ہے، اور اُس کو کس طرح پورا قبول کرنا ہے، یہ حقیقی طور پر مجھے مکالمہ نے سِکھایا ہے۔ اور سب سے خاص بات یہ کہ لکھتے لکھتے جذباتی نہیں ہوجانا، بلکہ ( ایک بات کہوں اچھا طریقہ ہے)، ہاں میں کہہ رہا تھا،کہ  لکھتے وقت عقل کا استعمال کرکے اپنے تذبذب کا بیان کرنا ہے۔
جذبات کی دُھنیں جوڑ جوڑ کر ایک اچھی لہر تحریر ہو سکتی ہے، جو بہت زیادہ اِس بات کی اہلیت رکھتی ہے کہ  سب کو منوا سکے کہ کچھ معیار کا سامنے آیا ہے اور خود بھی خوشی ہوتی ہے، جب سب اُس سے استفادہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب اپنے تخلیقی خیالات بیان کرنے کے لیے مجھے ایک مکمل اور بہترین طریقے سے مکالمہ نے موقع فراہم کیا، اور لکھتے لکھتے کچھ یہ سمجھ آیا کہ ، ہم انسان ہیں، ہم ایک وقت پر ایک ہی جگہ پر ٹھہر سکتے ہیں، اگرچہ میں پروفیسر عارفہ سعیدہ کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے پہلے بھی یہ بیان کر چکا ہوں کہ منزل کو منزل کہہ  دینا بھی کم ہمتی ہے اور ہم ہیں بھی ایسے ایک وقت پر ایک منزل کے بارے میں سوچتے بھی نہیں، ہم کو سب کچھ ایک وقت میں چاہیے ہوتا ہے۔
رکاوٹوں اور چاہ کے درمیان ہمیشہ ایک مسلسل لڑائی چلتی رہتی ہے، جذباتی بات نہیں کروں گا کہ  ہمیشہ چاہ جیتتی ہے، ایک دل کو بات جو لگتی ہے وہ یہ ہے کہ، اگر ہم حقیقت میں کوئی نہ کوئی چاہ رکھتے ہیں توہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کی بڑھتی ہوئی شکایتوں کو، جو نوکیلی رکاوٹیں بن کے ہمیں چبھتی  رہتی ہیں، اُن سے کچھ یوں جیتنا ہوتا ہے جس طرح کوشش یہی ہوتی ہے سفر کے دوران کچھ بھی ہمارے ٹائر کو ایسا نہ لگے جس سے چھید ہونے کا خدشہ ہو۔
مسلسل دوڑتا چلا جا رہا تھا، تب تک نہ رُکتا تھا جب تک یہ احساس نہ ہوتا تھا کہ تحریر کچھ قابلِ دید ہو گئی ہے۔
اور اِس دوران تحریرمیں بھی بہت سے چھید ہوتے چلے جاتے تھے لیکن کبھی پروا ہ ہی  نہیں کی یہ سوچ کر کہ،  کچھ نہیں بس منزل تک ایک دفعہ پہنچ گئے سب اچھا ہو جائے گا۔ مگر، برق نشینی میں مضطرب، وہ خیال جو سارے بکھرے تھے اُنہیں سمیٹنا ایک وقت میں جا کر مشکل سا ہو گیا۔مگر مشکلات سے جب لڑنا آجائے، تو آسان لگنے لگتے ہیں راستے۔ ہم نے مشکلات سے لڑنے کے لیے خود کو مضبوط بنانا ہوتا ہے، مشکلات تو شاید ہمیشہ ایک سی ہی رہتی ہیں، بس رُخ بدل بدل کے سامنے آتی ہیں۔اور رکاوٹیں عبور کرنی ہوں تو اُس کے لیے مکالمہ ضروری ہے۔
مکالمہ کی ٹیم کا میں بہت مشکور ہوں، صرف مشکور نہیں ہوں بلکہ خود کو بھی مکالمہ کی ٹیم کا ایک فرد سمجھتا ہوں۔
مشکور اِس بات کا ہوں کہ مکالمہ نے نا صرف سچے دل سے بیان کرنے کی ہمت کو سراہا، بلکہ مجھے اپنی لکھائی کوسنوارنے کا موقع بھی ایک کُھلے دل سے فراہم کیا۔ جہاں تک رہی مُخالفین کی رائے اور تو اُس کے بارے میں بھی یہی ہے کہ  مُکالمہ نے ہمیشہ اُن کی بات کو بھی اپنے نعرے کے مطابق قبول کیا۔
میں ہمیشہ خواشمندر ہوں گا کہ مکالمہ اور اُس کی ٹیم اسی طرح ترقیوں کی راہ پر گامزن رہے۔ آمین!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *