چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں ۔۔۔ شاہ عالم

دائیں بائیں، دائیں بائیں، دائیں بائیں اور چھوٹی کک چھوٹا پنچ ایک ساتھ پریس کریں۔ آپ کو مشکل والا یوری مل جائے گا۔ اوپر نیچے، اوپر نیچے، اوپر نیچے اور پھر غالبا چھوٹی کک اور بڑی کک ایک ساتھ پریس کریں۔ تیز والی لیونا مل جائے گی۔ اب تو ٹھیک سے یاد بھی نہیں کہ کنگ آف فائٹرز میں یہ بلائیں کس طرح حاصل کی جاتی تھیں۔ بس دھندلا سا یاد ہے کہ پندرہ سیکنڈ میں بہت زیادہ تیزی کے ساتھ لیور اور بٹنوں سے الجھنا لڑتا تھا۔ تب جاکر یہ بلائیں ملتی تھیں کھیلنے کو اور جس بندے کے پاس یہ ہوتیں وہ ایک ہی ٹوکن میں اینڈ تک پہنچ جاتا تھا۔

ممکن ہے کچھ دوستوں کو یہ بات سمجھ نہ آئے۔ دراصل کراچی کے پرانے بچوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو تین چیزوں سے محفوظ رہا ہو۔ ویڈیو گیمز (اسٹریٹ فائٹر، کنگ آف فائٹر، ماریو، اسنو بروس چیچی میچی۔ پیک مین تو گھروں میں بھی دستیاب تھا)۔ پٹی اور ڈبو۔ عموما ڈبو تک پہنچنے کا مرحلہ لڑکپن میں آتا تھا۔ ہم بھی ان سے محفوظ نہیں رہے اور زور و شور سے پٹائی کے باوجود بھرپور طریقے سے کھیلے۔

پٹی کھیلتے ہوئے اصول تھا کہ صرف بیسٹ آف تھری کھیلتے تھے۔ چیکو پارٹنر ہوتا جو گولچی ہوتا۔ ظالم کی نظر اتنی تیز تھی کہ جب فائنل ہوتا تو دو کھلاڑیوں والی راڈ سے بال کو کونے کی اونچائی میں ہلکا سا دھکیلتا۔ بال واپس آتی تو اسے اس انداز سے پش کرتا تھا کہ بال پورا میدان کراس کرکے پاکٹ سے ٹکراتی اور اٹیکر کے پاس واپس آجاتی۔

ڈبو کھیلے تو اسٹرائیکر گھر سے لے کر جاتے تھے جس پر اپنا نام بھی لکھوایا ہوا تھا۔ چیکو کو دیکھ کر ڈبو والا پہلے ہی کہدیتا “پاؤڈر ختم ہوگیا۔ وہ بھی گھر سے لے آؤ”۔ اس کی عادت تھی کہ ہر شاٹ سے قبل پاؤڈر (دانے دار سفوف) ضرور چھڑکتا تھا۔ جس سے ڈبو والا سخت نالاں تھا۔ مگر ہم چونکہ ریگولر کسٹمر تھے تو وہ منع بھی نہیں کرسکتا تھا۔

پھر پتہ نہیں کب ہم بڑے ہوگئے اور ان سب چیزوں سے دور ہوگئے۔ شاید جس دن ہم نے اسکول چھوڑا اسی دن بچپن ختم ہوگیا۔ شاید جس دن خود محنت کرکے پیسے کمائے اسی دن لڑکپن ختم ہوگیا۔ بہتیرے دوست تھے جو بعد میں بھی پٹی کھیلتے رہے مگر ہم پٹی سے کیا، ان دوستوں سے بھی دور ہوگئے۔ اب حیرت ہوتی ہے کہ ہم کتنے بے فکرے ہوتے تھے۔ ایک طرف حقیقی اور ایم کیو ایم کے لڑکے جھگڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم مزے سے پٹی کھیل رہے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ علاقے سے سنگل موبائل گزری ہو۔ ہمیشہ پولیس کی دو موبائلیں ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔ مگر ہم ان سب سے بے نیاز ڈبو کھیلتے رہتے۔ اب ایسا کچھ نہیں ہے مگر جانے کیوں وہ بے فکری بھی نہیں ہے۔ بقول چیکو “ہم وقت کا ساتھ نہیں دے سکے۔ اپنا وقت گزرگیا”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *