• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا موجودہ حکومت اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے سنجیدہ ہے ۔۔سلمیٰ اعوان

کیا موجودہ حکومت اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے سنجیدہ ہے ۔۔سلمیٰ اعوان

ڈاکٹر انعام الحق جاوید فون پر تھے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود لاہور کے ادیبوں،دانشوروں سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ہفتہ کی شام ایوان اقبال میں نشست ہوگی ۔کچھ تو وہ لاہوری ادیبوں کی سُننا چاہتے ہیں اور یقیناً وہ کچھ اپنی بھی سُنانا چاہتے ہیں۔تقریب بہرِ ملاقات تو چاہیے نا۔”یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔رابطے اور براہ راست باتیں ہونی تو ضروری ہیں۔“میں نے کہا۔

ایک ہی دن میں تین بار براہ راست ڈاکٹر صاحب کے رابطوں نے مجھے احساس دلایا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا سربراہ اِس کارخیر میں اپنا کردار ادا کرنے میں بہت سنجیدہ ہے۔
اِس ملاقات کی خبر مجھے گزشتہ ہفتے وفاقی سیکرٹری جناب ڈاکٹر ندیم شفیق ملک سے بات چیت میں بھی ہوئی تھی کہ وہ کوئی بیس دن قبل اپنے پی اے کے ساتھ اکیڈیمی آف لیٹرز کے دفتر میں ادیبوں سے ملنے اور چند اہم امور پر بات چیت کرنے آئے تھے۔ اِس میٹنگ میں اہم اور بڑا ایشو اکیڈیمی کے دفتر کو کِسی موزوں جگہ اور بہتر سہولیات سے مزین کرنے کی ضرورت پر زور تھا۔ اِس ضمن میں انہوں نے ڈائریکٹر جناب عاصم بٹ کے ساتھ جناب کرامت بخاری جیسے ذمہ دار افسر کی بھی ڈیوٹی لگا دی تھی کہ وہ جگہ تلاش کریں۔

لاہور رائٹرز گلڈ والوں سے بھی رابطے کی تاکید تھی کہ وہ عمارت محل و قوع کے اعتبار سے بہت موزوں تھی۔ وفاقی سیکرٹری کو ہم ادیبوں نے  کتابوں کی اشاعت ، رائلٹی اور دیگر مشکلات سے آگاہ کرنے کے ساتھ اکیڈیمی آف لیٹرز اسلام آباد کو بھی فعال کرنے کی درخواست کی تھی۔
چونکہ ڈاکٹر ندیم خود  صاحب کتب بھی ہیں۔ پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف ہونے کی وجہ سے وہ کم و بیش اُن سبھی مسائل سے ذاتی طور پر آگاہ تھے جو پاکستانی لکھاریوں کو درپیش ہیں۔تو یہاں افہام و تفہیم میں سہولت محسوس ہوئی تھی۔
تو اب ماہ بعد جناب شفقت محمود،جناب ڈاکٹر ندیم ملک اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب کے ساتھ لاہور آرہے تھے اور لاہور کے بیشتر ادیب یہاں موجود تھے۔

وفاقی وزیر تعلیم کو پاکستانی طلبا کی کثیر تعداد کا سیلف فنانسنگ پر چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں جانے اور وہاں پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ میڈیکل اور انجنئیرنگ کی تعلیم چین میں کوئی سات ساڑھے سات لاکھ سالانہ خرچ کے ضمن میں آتی ہے۔اِس سلسلے میں پاکستان میں حکومتی سطح پر بچوں کی مناسب رہنمائی کے لیے کوئی شعبہ کام نہیں کررہا ہے۔ بچے پاکستان کے میڈیکل اور انجنئیرنگ اداروں کے میرٹ پر نہ آنے پر چین کی انٹرنیٹ پر نظر آنے والی یونیورسٹیوں میں اپلائی کردیتے ہیں۔داخلہ بھی مل جاتا ہے۔ ماں باپ بھی خوش ہوجاتے ہیں کہ چلو چین پڑھنے جارہے ہیں۔یہ تو وہاں جاکر پتہ چلتا ہے کہ کچھ یونیورسٹیوں میں صرف تھیوری پر زور ہے۔ عملی کام صفر ہے۔ نتیجتاً بچے پانچ سال بعد جب ڈھیر سارا پیسہ اور وقت ضائع کرکے وطن لوٹتے ہیں پاکستان میں انہیں گھاس نہیں ڈالی جاتی۔

دوسری بات اِن بچوں کو تربیت دے کر بھیجنے کی بھی ضرورت ہے۔یہ پاکستانی سفیر ہیں۔چینیوں سے گھلنے ملنے ،انہیں سمجھنے اور خود کو انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔اپنی چین سیاحت کے دوران جب میں مختلف یونیورسٹیوں میں گئی اور پاکستانی طلبہ سے بات چیت ہوئی تودو باتیں زیادہ واضح انداز میں سامنے آئیں۔پہلی بیشتر طلبہ چینیوں سے گُھلنے ملنے کی بجائے اپنے ہی لوگوں میں خوش رہتے ہیں۔ ایسا فطری امر تو ہے مگر اسے قومی فریضہ کے طورپروہ اگر لیں تو بہت مثبت نتائج نکلیں گے۔ دوسرے تقریباً ہر ایک نے اِس بات کا اعتراف کھلے دل سے کیا کہ چینی طلبہ ہمیشہ ہر موقع پر ہرجگہ ہندوستانیوں پر پاکستانیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔تو محبت کے اِن جذبوں کو گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں پاکستانی سفارت خانے کو بھی ٹاسک دیا جائے کہ وہ اِس پاکستانی یوتھ کو استعمال کرے۔چین نے کاروباری دنیا میں جس سرعت سے ترقی کی اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بیرونی ملکوں میں پاکستانی ادیبوں اور لکھاریوں کو بھیجتے وقت میرٹ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات جس نہج پر ہیں ۔اس کی حساسیت اور گہرائی کچھ مطالبہ کرتی ہے کہ منتخب لوگوں کو بڑے منظم انداز میں تیار کرکے بھیجا جائے۔دونوں ملکوں کا بہترین ادب چینی اور اُردو میں ترجمہ ہو۔ ہم پاکستانی روسی ادب سے بہت مانوس ہیں ۔میکسم گورکی ،ٹالسٹائی،دوستووسکی ،پاسترنک، پشکن،میخوف وغیرہ وجہ صرف اتنی سی تھی کہ کیمونسٹ حکومتوں نےیہ کام بہت منصوبہ بندی اور حکمت سے کیا۔
بیجنگ کی تمام یونیورسٹیوں میں اردو ڈپارٹمنٹ اور لائبریریوں میں اردو کتابوں کا ہونا یقینی بنایا جائے۔

ملک میں طبقاتی نظام تعلیم، مادری زبانوں میں ابتدائی تعلیم ۔اِن سب پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔دو باتوں میں وہ بڑے واضح تھے۔ یکساں تعلیمی نظام کے لیے ۔سیکنڈری لیول تک اردو کے ساتھ انگریزی بطور مضمون۔ہائیر ایجوکیشن میں تعلیم انگریزی میں۔ہمارے ماہرین کام کررہے ہیں۔حکومت اب بہت سنجیدہ ہے۔
خدا کرے ایسا ہی ہو۔ہم نے دل میں دعا کی۔کیونکہ ہمارے سامنے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی مثال موجود ہے۔چند فرض شناس لوگوں نے جب اس میں مثبت تبدیلیاں لانے کی کوشش کی تو انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔

ڈاکٹر سعادت سعید نے مختلف ملکوں کی یونیورسٹیوں اردو ڈیپارٹمنٹ میں پاکستان چیئرز کا مطالبہ کیا۔قاہرہ اور انقرہ کا انہوں نے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملکوں میں باہمی افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کے کلچر کو سمجھنے کے لیئے اس طرح کی کاوشیں بہت ضروری ہیں۔ جناب شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مغرب کے چھ ملکوں کیلئے پاکستان چئیرز کی منظوری ہوگئی ہے عنقریب اِس ضمن میں کام شروع ہوجائے گا۔دراصل استنبول یونیورسٹی میں خلیل طوقار جو ہمارے معروف استاد اور مصنف جناب غلام حسین ذوالفقار کے داماد ہیں۔اُردو کے لیئے ان کی کاوشیں ذاتی حیثیت میں بھی بہت اہم اور قابل ذکر ہیں۔

لاہور اکیڈمی آف لیٹرز کے لیئے موزوں دفتر کامسئلہ بھی خاصا اہم ہے ۔ موجودہ آفس جو دراصل مستنصر حسین تارڑ کا گھر ہے اپنی مکانیت اور جگہ کے اعتبار سے موزوں نہیں ،ادیبوں کی ایک اکثریت کو یہاں تک پہنچنے میں   دشواری کاسامنا ہوتا ہے۔

تجویز اقبال اکیڈمی میں ایڈجسٹ کرنے کی دی گئی۔ جس کے سروے اور جائزے میں دیکھا گیا کہ 80 سالہ پرانی عمارت اول تو اکیڈمی کی اپنی ضروریات کے لیئے ہی کافی نہیں کہاں اس میں ایک نیا آفس گھسیٹر دیا جائے۔ کم از کم تیس،پینتیس،لوگوں کے بیٹھنے کے لیئے ہال کاہونا ضروری ہے ۔ کتابوں اور عملے کے لیئے کمروں کا ہونا بھی اہم ہے۔
اسلام آباد اکیڈمی آف لیٹرز پر بھی بات ہوئی۔ گذشتہ سال بھرسے چیئرمین کی سیٹ خالی ہے۔ یہ ایک ایسا اہم ادارہ ہے جو اردو ادب کے لیئے نہیں بلکہ علاقائی زبانوں اور انکے فروغ کے لیئے بھی بہت موثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔ سچی بات ہے علاقائی ادب کی پرموشن کرنا اور اس ادب کو قومی دھارے میں شامل کرنا،گاہے گاہے پاکستان بھر سے ادیبوں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھے کرنا ادب کے لیے ہی نہیں ملکی استحکام کے لیے حد درجہ ضروری ہے۔
ماضی میں نامور لکھاریوں جن میں جناب شفیق الرحمن ،احمد فراز، فخر زماں ، افتخار عارف اور قاسم بگھیو جیسے لوگ رہے ہیں۔ان نامور ادیبوں نے بطور چئیر مین کے طور پر اس کی کارکردگی کا معیار بڑھایا ۔فنڈز کی کمی کی آڑ میں جس طرح یہ ادارہ گذشتہ چند سالوں سے متاثر ہوا ہے اس نے ادیب برادری کو بہت مایوس کیا ہے۔اداروں کو اچھے سربراہ مل جائیں تو اُن کی کایا کلپ ہوجاتی ہے۔سچی بات ہے اب اکیڈیمی کے سربراہ بارے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا۔چئیرمین کے لیے چند نام زیر غور ہیں۔ جب لوگ چائے کے لیے جانا شروع ہوئے اور وہ خود بھی لوگوں میں گھرسے گئے ۔ہم نے آہستگی سے کہا۔ جناب اسلام آباد میں بہت لائق فائق ادیب رہتے ہیں۔انہیں بغور دیکھیے۔ ایک نام جناب حمید شاہد کا ہے۔ بڑا ادیب،بڑا انسان،ہر دم متحرک اور مستعد ۔ہاں اگر بلوچستان کو خوش کرنا ہے تو آغا گل سے بہتر کوئی نہیں۔
سوال ہے کہ ہماری کِس نے سُننی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *