• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسجد کے میناروں کو میزائل کی شکل دی جارہی ہے۔اسد مفتی

مسجد کے میناروں کو میزائل کی شکل دی جارہی ہے۔اسد مفتی

یورپ میں برقعے کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا کہ ایک اور مسئلے نے سر اٹھا لیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی کثیر آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے،جیسے پاکستان کی مسلمانوں پر،لیکن مسیحی اکثریت رکھنے والا یہ دیس پاکستان کے برعکس نہ صرف دنیا بھر میں امن کا گہوارہ مانا جاتا ہے بلکہ غیر جانبدار بھی کہلاتا ہے،اس دیس کی خوبصورتی نہ صرف قدرتی مناظر میں اپنا جواب نہیں رکھتی بلکہ اسے پھولوں کی وادی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مگر کچھ عرصے اس سرزمین ِ امن پر جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا سایہ پڑ رہا ہے،یہ ناعاقبت اندیش اور کوتاہ نظر افراد اپنے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس خطہ ارض کی خوبصورتی کو دھندلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

گزشتہ دنوں سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے نئی تعمیر شدہ مسجد کے میناروں کی اونچائی پر پابندی لگا دی،اس سے قبل میناروں پر پابندی لگائے جانے کے لیے ووٹنگ ہوئی اور سوئس ووٹروں نے اکثریت سے پابندی لگائے جانے کو ثانوی حیثیت دیدی،سوئٹزرلینڈ میں اس وقت چار مسجدیں ہیں،۔ جو کہ آبادی کے لحاظ سے انتہائی مناسب ہیں۔لیکن ایک غیر سرکار ی تنظیم اوآئی پی کے صدر عبدالمجید الداعی کا کہنا ہے کہ یورپ کے مسلمانوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کی زبردست خواہش ہے،ان میں کچھ تو اسلام کے بارے میں اس لیے جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اسلام اور دہشتگردی کا آپس میں کیا تعلق ہے، اور کچھ سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاستدان ڈینئیل اسٹریچ جیسے لوگوں کا۔

ڈینئیل پہلا شخص تھا، جس نے سوئٹزرلینڈ میں مساجد پر تالے لگائے جانے اور میناروں پر پابندی لگائے جانے کی مہم شروع کی تھی۔اس نے اپنی اس مسلم مخالف تحریک کو ملک گیر پیمانے پر فروغ دیا اور مساجد کے گنبد میناروں کے خلاف رائے عامہ استوار کی لیکن آج دائرہ اسلام میں داخل ہوچکا ہے۔ اور اب مسلمانوں کی ترغیب پر سوئٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مسلمانوں کی آبادی پانچ فیصد بتائی جاتی ہے لیکن مساجد کی لمبائی چوڑائی اور اونچائی پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر ہنگامہ آرائی کی جارہی ہے۔کچھ لوگو ں کی خام خیالی ہے کہ میناروں نے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا ہے،اس کے برعکس روشن خیال اور حقیقت پسندی کے مظہر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اسلام کی عظمت کے لیے میناروں اور گنبدوں کے سہارے کی قطعی ضرورت نہیں،ملک کا قانون میناروں پر بے شک پابندی لگا سکتا ہے ،دل و دماغ پر نہیں۔لیکن اس کا کیا کِیا جائے کہ مقامی عام افراد کا خیال ہے کہ مسلمانوں نے مسجد کے میناروں کو میزائل کی شکل دیدی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی کے حوالے سے ریفرنڈم کا پسِ منظر دو اہم ترین واقعات ہیں جن کو سوئٹزرلینڈ پیپلز پارٹی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں نے بنیاد بنایا۔ان لوگوں نے اپنے خیال میں مساجد کے میناروں کے خلاف مہم کی بنیاد اپنے ان نظریات پر رکھی کہ مساجد کے مینار دراصل مذہبی و سیاسی طاقت کے نشان ہیں اور ترک وزیر اعظم طیب اردگان کی 1997کی ایک تقریر کا مسلسل حوالہ دیتے رہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “مساجد ہماری بیرکس، گنبد ہمارے سرو ں کے ہیلمٹ،”ان کے مینارے ہمارے میزائل،ان کی برجیاں ہماری سنگین،اور نمازی ہمارے سپاہی ہیں “۔

اس پس منظر میں سوئٹزرلینڈ پارٹی اور فیڈرل ڈیموکریٹک یونین مسلمانوں کے مستقبل کے ارادوں سے خوف زدہ ہوگئیں،لیکن صحیح معنوں میں مساجد کے مینارو ں پر تنازع کا باقائدہ آغاز 2005میں ہوا تھا جب،ترک کلچرل ایسوسی ایشن نے شمالی سوئٹزرلینڈ میں اسلامی کمیونٹی سنٹر کی عمارت پر سولہ میٹر بلند مینار تعمیر کرنے کی اجازت طلب کی جس پر گردونواح کے سوئس باشندوں نے اسکی شدید مخالف کی،مقامی سرکاری اداروں نے لوگوں کے احتجاج کے پیش نظر مینار کی تعمیر کی اجازت کو موخر رکھا،آخر کار لوگوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج کی وجہ سے کیونل بلڈنگ اینڈ پلاننگ کمیشن نے یہ درخواست مسترد کردی جس پر مسلمانوں نے احتجاج کا سلسلہ شرو ع کردیا،اور اسلامی کمیونٹی سنٹر نے بلڈنگ اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو اپیل کی جو منظور کر لی گئی۔

تاہم مقامی باشندے یہ کیس مقامی انتظامی کورٹ میں لے گئے۔مگر وہاں بھی ناکام رہے اور بلآخر چار سال کی طویل عدالتی و قانونی جنگ جیتنے کے بعد اسلامی کمیونٹی سنٹر جولائی 2009کو یہ جنگ ریفرنڈم کروانے کے فیصلے پر متفق ہوگئی۔میناروں پر پابندی لگائی جانے کے لیے ووٹنگ ہوئی،سوئس باشندوں کو اس قدر مشتعل کردیا گیا تھاکہ انہوں نے ریفرنڈم میں بھرپور حصہ لیا اور آخر کار ان کی جدوجہد رنگ لائی جس کے نتیجے میں مسجد کے میناروں پر پابندی لگا دی گئی۔

یہی نہیں ادھر ہمارے سابق آقا برطانیہ نے بھی سوئٹزر لینڈ کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے سندھرسٹ رائیل ملٹری اکیڈیمی جہاں جنرل ایوب خان کے علاوہ پرنس ولیم اور پرنس ہیری نے بھی ٹریننگ حاصل کی ہے،اس کے قریب یا یوں کہیے کہ اسکی بغل میں مسجدکی تعمیر پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔اس سے قبل آرمی چیف اس عظیم الشان فوجی اکیڈیمی کے قریب مسجد کھڑی کرنے پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں ،ان کے خیال میں مسجد کی تعمیر سکیورٹی رسک ہے کہ اونچے اونچے میناروں سے فوجی مرکز میں ہونے والی متعلقہ سرگرمیاں،ٹریننگ اور اندرونی تنصیبات پر نظر رکھی جاسکتی ہے اس لیے فوج مسجد کی تعمیر کی مخالفت کرہی ہے۔یہاں یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ مقامی افراد بھی اس مسجد کی تعمیر کے یکسر مخالف ہیں۔

میں نے کہیں پڑھا ہے کہ مذہبی آدمی کی خواہشات اور مفادات اسے اور زیادہ مذہبی بنا دیتے ہیں ۔او ر جو شخص مذہبی تعلیم و علم حاصل کرنے کا خواہاں ہو وہ پہلے یہ طے کرتا کہ تحصیل ِ علم سے اسکے کیا مقاصد ہیں؟اس تناظر میں میرا ایک شعر حاضر ہے۔۔
گھولتی کانو ں میں ہے تلخی صدا اذان کی
ہے پریشان بہت ان گنبدوں و مینار سے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *