مکالمہ کی سالگرہ۔۔۔آصف محمود

مکالمہ کو تین سال ہو گئے ۔ مبارک سلامت کا شور ہے اور میں بھی برادرم انعام رانا کی کامیابی اور کامرانیوں کی دعا ئیں لیے مبارک دینے آیا ہوں لیکن اپنا معاملہ وہی غالب والا ہے :

اپنا احوال دلِ زار کہوں ، یا نہ کہوں؟

ہے حیا مانعِ اظہار ، کہوں یا نہ کہوں؟

مکالمہ کو میری گواہی کی حاجت نہیں ۔ مکالمہ اپنے مدیر کی طرح کامیاب اور شگفتہ ہے ، گویا رنگِ عاشق کی طرح رونقِ بت خانہ ہے۔ شوخیِ ناز اور فکرو دانش کی یہ محفل خدا سلامت رکھے ۔ لیکن سوال ایک اور ہے ۔

سوال یہ ہے کہ انعام رانا کہاں ہے؟ بے تابی ِ شوق کو اس انعام رانا کی تلاش نہیں جو مکالمہ کی غلام گردشوں میں گُم ہو چکا ہے ، جوبے سمت مسافتوں کی دھوم میں اٹا ہوا ہر سہ پہر کسی پگڈنڈی کو پانی پت کا میدان بنائے ہوتا ہے ،کبھی زاہد سے الجھتا ہے کبھی رندسے ۔ مجھے اس انعام رانا کی تلاش ہے چند سال قبل جس کی تحریروں نے حیران کر دیا تھا ۔

ایک اچھی تحریر کیا ہوتی ہے، اس سے پوچھیے جس نے ’ چکھ رکھی ہو‘ ۔ انعام رانا کو خود معلوم نہیں وہ کتنا غضب کا لکھاری ہے ۔ اچھے لکھاری اب کہاں ملتے ہیں. اب تو اخبارات کے صفحات پر اکثریت ان کی ہے جو بس لکھے جا رہے ہیں حالانکہ انہیں خود معلوم نہیں کیا لکھ رہے ہیں اور کیوں لکھ رہے ہیں ۔ انعام رانا کو اللہ نے خداد صلاحیتوں کے ساتھ ایک لکھاری بنایا تھا ، المیہ یہ ہوا کہ وہ ’ مدیر‘ بن گئے ۔

مکالمہ سے ان کی محبت اور وابستگی کی شدت کیا ہو گی، اس کا مجھے احساس ہے ۔ لیکن میری پہلے دن سے یہی رائے تھی انعام رانا کو صرف اپنی تحریر تک محدود رہنا چاہیے ۔ اب جب مکالمہ تین سال کا ہوچکا، اپنا وجود منوا چکا ، اپنے نقوش ثبت کر چکا تو وضع احتیاط کے سارے تقاضوں کے باوجود میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اسے اپنی گود سے اتاریے ، برخوردار اب خودچل لے گا ۔ آپ واپس آ جائیے ۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *