ہم آہستہ آہستہ مرتے ہیں۔۔۔آصف محمود

گائوں میں اپنے خاندان کے قبرستان میں کھڑا تھا اور کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کون کہاں دفن ہے۔ صرف دو قبروں پر کتبے لگے تھے ۔مٹی کی کچھ ڈھیریاں تھیں اور یادوں کا ہجوم۔ان ڈھیریوں میں میرے اپنے ہی دفن تھے۔ مگر کون کہاںتھا ، کچھ معلوم نہ تھا۔کہیں پڑھا تھا ، اچانک ہمیں موت نہیں آتی۔ ہم آہستہ آہستہ مرتے ہیں۔ ہمارے دوست ، احباب ، رشتہ داروں میں سے جب کوئی ہم سے بچھڑتا ہے تو ان کے ساتھ ہمارے وجود کا ایک حصہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔اپنے وجود کے یہ ٹکرے دفن کرتے کرتے ایک دن ہم خود بھی مٹی میں مل جاتے ہیں۔ گائوں آتا ہوں تو اس قبرستان کی ہر ڈھیری میں خود کو بکھرا ہوا محسوس کرتا ہوں۔میرے نانا ظہیر الدین گوندل، میں نے انہی کے ہاں پرورش پائی۔سیدنا مسیح علیہ السلام نے کی اصطلاح مستعار لوں تو زمین کا نمک۔ ایک شاندار انسان ۔ بہت سے لوگوں میں بہت سی خوبیاں دیکھیں لیکن ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ میں نے انہیں کبھی غصے میں نہیں پایا ، گالی تو دور کی بات ان کے منہ سے سخت بات نہیں سنی، جھوٹ بولتے نہیں دیکھا ، عبادات میں ہی نہیں معاملات میں بھی وہ اپنے کمال پر تھے۔دکانیں بنا کر ایک صاحب کو کرایہ پر دیں ، اس نے کہا ابھی کرایے کے پیسے نہیں ، کرایہ معاف کر دیا۔ مہینہ گزرا وہ بل لے کر آ گیا کہ بل کے پیسے بھی نہیں۔کرایہ پہلے چھوڑ چکے تھے ، اب بل کے پیسے بھی ادا کر دیے۔ میں نے تنگ کرنے کو کہا کہ آپ نے کر لیا کاروبار۔ مسکرا کر کہنے لگے میں سب سے اچھا کاروبار کر رہا ہوں ، اپنے رب کے ساتھ۔ ایک ڈھیری کی صورت اب شہر خموشاں میں میرے سامنے سو رہے تھے اور چپ چاپ اس ڈھیری کو تکے جا رہا تھا۔اچھا ہوا سعد ظہیر نے کتبہ لگا دیا تھا۔ گائوں کا یہ قبرستان مجھے اپنی طرف کھینچتا ہے۔سرگودھا پہنچوں تو ہر کام نظر انداز ہو سکتا ہے لیکن گائوں کے اس گوشے میں جانا کبھی نہیں بھول سکتا۔ میرا آدھا وجود تو گویا یہیں دفن ہے۔چچا چودھری مختار احمد گوندل ، جن سے میں نے خطاطی سیکھی، چودھری عبد الواحد جن سے میں نے قرآن پڑھا ،اور پھر مولانا غلام نقشبند گوندل،قبیلے کا فخر۔ میں نے لائن آف دی ڈیزرٹ بہت مرتبہ دیکھی ہے۔ جب جب میں عمر مختار کو دیکھتا ہوں مجھے غلام نقشبند یاد آتے ہیں۔ وہی وجاہت ، وہی متانت ، وہی عزیمت ۔کیا پہاڑ جیسے انسان تھے۔ علم ہی کا منارہ نہ تھے کردار بھی کمال تھا۔ آئی جے آئی کے زمانوں کی بات ہے ، جماعت اسلامی کا ایم این اے جاوید چیمہ الیکشن جیت کر ان کے پاس حاضر ہوا کہ مجھے علم ہے رشوت دینے سے انکار پر آپ کا فلاں جائز کام اب تک نہیں ہو سکا۔ سب سے پہلے یہ کام ہو گا۔ بھری محفل میں جاوید چیمہ کو ڈانٹ پڑ گئی: تمہیں اقرباء پروری کے لیے نہیں جتوایا۔ جب تک تم ہو یہ کام نہیں ہو گا۔ اور پھر صفدر علی چودھری ، وہ تو ہمارے بزرگ بھی تھے اور دوست بھی تھے۔ اتنی علمی وجاہت اور اتنی بے تکلفی، آج بھی سوچ کر حیرت ہوتی ہے۔آخری عمر میںسیرت النبی ﷺ پر کام کر رہے تھے ۔ یہی لکھتے لکھتے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انہیں ملا عمر کے افغانستان کا غم کھا گیا۔ میں تنگ کرنے کے لیے کہتا طالبان کا کھیل ختم ہو چکا۔ جواب آتا کھیل اتنی جلدی ختم نہیں ہوتے جس روز یہ کھیل ختم ہو گا مجھے بتانے ضرور آنا کہ جیت کس کی ہوئی۔آج طالبان جیت رہے ہیں اور میں ان کے پاس آیا ہوں مگر کیسے بتائوں؟ مجھے تو یہ بھی علم نہیں وہ مٹی کی کس ڈھری میں سو رہے ہیں۔ ندیم گوندل ، میرا بچپن کا دوست، عین جوانی میں حادثہ ہوا اور چل بسا۔ عمران خان ہمارے ہاں سرگودھا آئے تو ڈاکٹراحسان گوندل کا عمران سے تعارف کراتے ہوئے میں نے کہا یہ میرے اس مرحوم دوست کے بھائی ہیں جو ہمارے خاندان میں آپ کا واحد سپورٹر تھا۔ عمران نے ہمدردی سے پوچھا کیا ہوا تھا اسے؟ اور میں تنا ہی کہہ سکا: بس چلا گیا۔ آج خبر ملی ہے اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ، احمد جاوید چٹھہ بھی چل بسا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ہاسٹل میں ہمارے گینگ کا اہم رکن تھا۔ یہ چٹھہ کیسے بن گیا تھا معلوم نہیں مگر یہ آج بھی قائم ہے۔ واٹس ایپ پر میں ایک ہی گروپ پر متحرک ہوں اور وہ اسی گینگ کا گروپ ہے۔ مجھے یاد ہے ہم چٹھہ کو جن کہتے تھے۔ یونیورسٹی میںیہ اکثر غیر حاضر رہتا تھا اور صرف پیپر دینے آتا تھا۔ وہ بھی اس شان سے کہ دو چار دوستوں کے ساتھ رات ہاسٹل پہنچتا تھا اور کرائے پر لیا وی سی آر اس کی بغل میں ہوتا تھا۔ رات فلمیں دیکھیں صبح پیپر دے کر واپس شیخوپورہ ۔ اگلے پیپر پر پھر یہی کہانی دہرائی جاتی تھی۔حیرت ہے کہ بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتا ۔ کیفے کے سامنے سے گزرتے ہوئے آواز لگاتا کیا پکا ہے؟ کیفے والا بتا تا : دال ہے سبزی ہے چکن ہے بریانی ہے ۔سب کی ایک ایک پلیٹ لائو ۔ عجیب جن تھا سب کچھ کھا جاتا تھا۔ حافظ قرآن ہی نہ تھا حافظ الحدیث بھی تھا۔ احادیث کا ایک ذخیرہ اسے متن اور روایت کے ساتھ یاد تھا۔زندہ دل تھا۔ نیف ڈک سینما میں شرط لگی اگر ڈانس کر لو تو کھانا میری طرف سے۔ اس نے کہا ڈانس یہاں کرنا ہے یا فلور پر۔ افتخار نے کہا فلور پر کرو تو دو کھانے ہو گئے۔ وہ اٹھا سینما ہال میں فلم سکرین کے سامنے جا کر ڈانس شروع کر دیا۔ لوگ فلم کو بھول گئے۔طویل عرصہ بیمار رہا، بیچ میں جب کچھ دنوں کے لیے اس کی طبیعت سنبھلتی تو واٹس ایپ گروپ میں عمران خان کے لیے لڑنے جھگڑنے لگتا۔اس نے آخری جھگڑا بھی عمران خان کے لیے ہی کیا تھا۔کل ہی فیصل سید نے کہا تھا چٹھہ کو فون کر لو ۔ مجھے کیا خبر تھی فیصل کے اندیشے یوں سانحہ بن جائیں گے۔ ہمارے خالی ہاتھوں میں اب دعائوں کے علاوہ ہے ہی کیا؟ خدا سے دعا ہے ہم سب کے پیاروں کی قبریں منور رہیں اور اللہ سب کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائے۔ہم واقعی آہستہ آہستہ مرتے ہیں۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *