قلندر کی ہیر۔۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط6

انگریزوں کے چھوڑے ہوئے نظام میں محکمہ صحت اور تعلیم کے ضلعی ڈائریکٹوریٹ فیلڈ ملازمین کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں ہوتے تھے، میلوں دور بیٹھے وہاں کے افسران اور سٹاف کو ہر سکول اور ہسپتال یا شفاخانہ کی خبر رہتی۔۔
گلاں کی ماں اور بلال ڈسپنسر کی معطلی کی خبر بھی ڈی ایچ او کو مل گئی، صبح صبح جب اس کے دو گُرگے سرکاری جیپ پر رورل ہیلتھ سنٹر میں وارد ہوئے تو گاؤں میں خبر مشہور ہو گئی کہ نائب صوبیدار نے سنٹر پر چھاپہ مروایا ہے۔
یہ اطلاع صوبیدار صاحب کو مل گئی، وہ معطلی کی تفصیل سے آگاہ تھے، لیکن محکمہ مال والوں  کے ساتھ  فرصت سےکوئی  ایکشن نہ لے  پائے۔ ڈاکٹر صاحب مہمانوں کے لئے چائے پانی کا بندوبست کرنے کو کہہ رہے تھے کہ صوبیدار صاحب بھی سنٹر پہنچ گئے، سلام دعا ہوئی ،تعارف کے ساتھ  ہی ان آنے والے  دونوں حضرات کی پھوک نکل گئی۔

صوبیدار صاحب نے ان سے وہیں گلاں کی ماں اور بلال کی چھٹی منظور کرائی ، دونوں کے تا حال ملازمت اور تجربہ کے سرٹیفکیٹ بنوائے، ڈاکٹر سے کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی سائن کرا لئے، معطلی کا لیٹر بھی کینسل ہو گیا۔۔اتنی دیر میں صوبیدار صاحب کا ڈرائیور ڈیرے سے ناشتہ، چائے پراٹھے حلوہ انڈے ، مکھن اور شکر سب لے آیا۔۔۔مہمانوں نے کھا پی کے ہاتھ دھوئے اور واپسی کی اجازت اور راہ لی۔

صوبیدار صاحب کو سائیں غلام کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک اور ،گھر نکالا  کی تفصیل مل چکی تھی،انہوں نے سوچا دربار پہ  تو آیا گیا ہو گا، تو نوکر بھیج کے سائیں کو اپنے ڈیرے پہ  بلا لیا،جب وہ آیا تو اس سے پیار سے تعزیت کی لیکن اس کا حال دیکھ کے وہ بھی غمگین ہو گئے، دربار بارے بات ہوئی۔۔۔تو سائیں نے پیسوں کی ایک پوٹلی ان کو تھما دی کہ یہ ابھی یہاں آنے تک کا چڑھاوا ہے۔ اس پہ  صوبیدار صاحب اسے علیحدہ مہمانوں والے کمرے میں لے گئے، نوکر کو سب کے لئے کھانے کا کہہ گئے۔۔
سائیں کو انہوں نے دربار کا مکمل اختیار سونپتے  ہوئے،وہاں کروانے والے کام سمجھائے، ہر جمعرات کو لنگر کا بندوبست کرنے اور زائرین کے لئے مزید جگہ بنانے ، دیگ پکانے اور دیگر ضروری سامان کے ساتھ ، کچن جیسا کمرہ بنانے کا کہا،یہ تسلی بھی دی کہ وہ گاہے گاہے خود بھی چکر لگاتے رہیں گے۔۔۔
پھر اس سے اسکے باپ والے گھر بارے پوچھا کہ وہ لینا چاہے تو ۔۔ سائیں نے انکار کر دیا کہ سوتیلی سہی ماں ہے۔۔
بہنیں ہیں، وہ ہی وہاں رہیں۔ اس نے یہ اجازت چاہی کہ دربار کے پیسوں سے انہیں ہفتہ وار خرچہ بھیج سکے ۔
صوبیدار صاحب تو خوش ہوئے، اسے کچھ پیسے دیئے ۔سائیں نے آخری فرمائش یہ کی کہ اس کے ابے کا حقہ اس کے گھر سے نوکر بھیج کے منگوا دیں۔
صوبیدار صاحب نے ہنس کے کہا ۔۔۔ نیا منگوا لیتے ہیں۔ سائیں رو پڑا ، کہنے لگا ۔۔
اس گھر میں باپ کے علاوہ اس کا تعلق بچپن سے اس حقُے کے ساتھ رہا جسے وہ روزانہ دھو کے تازہ کرتا تھا، چاہے وہ جب رات کو گھر آتا تب بھی۔کچھ رشتوں سے تعلق ان سے متعلق اشیا سے بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔۔ان سے جڑی یاد تازہ کرنے کو چاہے حقہ تازہ کرنا ہو، چارپائی  کی ادوائن کسنی ہو ۔ ۔ ۔
صوبیدار صاحب نے اسے بلال کے ساتھ اس کے گھر بھیجا، سوتیلی ماں بھی حالات کی نزاکت سمجھ چکی تھی کہ اسے اب سائیں کے سہارے ہی رہنا ہے، وہ تپاک سے ملی، صدقے واری بھی ہوئی،سائیں نے اسے پیسے دیئے ، بہنوں کو پیار کیا، اور حقہ لے کے چل پڑا۔ راستے میں بلال سے وداع ہوتے گلے ملے تو بلال کو آج بھی سائیں کے بدن سے کچھ اپنے بدن میں عودتا محسوس ہوا۔

بلال ڈسپنسر کیوں بنا ۔۔یہ بھی المناک واقعہ ہے، اس کا باپ صوبیدار صاحب کا فوج میں کولیگ تھا۔ پنڈی مورگاہ کے ساتھ ان کی زمین اور ڈھوک تھی، لانس نائیک بنا، فوج چھوڑ دی، پہلے مور گاہ آئل کمپنی میں ٹھیکیدار بنا، بلال کو وہ ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا، اسے ایف ایس سی کرائی لیکن نمبر کم ہونے کی وجہ سے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا اسے کیمسٹ کے کورس میں داخل کرایا، وہ بلال نے چھوڑ دیا، غصے میں اسے ڈسپنسری میں ڈپلومہ کرا ہی دیا۔۔۔بلال کے شوق اور تھے، کبوتر بازی ، لڑنے والے کُتے پالنا، خرگوش کا شکار وغیرہ۔

مورگاہ کے گرد و نواح میں آبادی شروع ہوئی  تو بلال کے والد نے صوبیدار صاحب ، چند اور ریٹائرڈ فوجی دوستوں کے ساتھ  پراپرٹی کا کام شروع کیا، صوبیدار صاحب اور انکے بھائی  کے گھر اس نے بنوائے، اب اس نے ان سے مل کے اپنے گاؤں میں جدّی زمین پر چھوٹی سی رہائشی سکیم بنائی، پانچ اور سات مرلہ کے گھر کچھ بن گئے کچھ بن رہے تھے۔چار گھر صوبیدار صاحب کے تھے، بلال یہاں بھی کام کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ایک روز باپ بیٹے میں سخت تکرار ہوئی۔۔۔اور نوبت عاق نامے تک جا پہنچی ، خوش قسمتی سے صوبیدار صاحب پہنچ گئے، صلح صفائی  کے بعد یوں انہوں نے اپنے گاؤں کے ہیلتھ سنٹر میں اسے ڈسپنسر لگوا دیا اور رہائش بھی دے دی، سینٹر والی ہاتھاپائی  نے اسے اچھا سبق سکھایا۔ سائیں سے ملاقات بھی اس کے لئے سُود مند رہی، گلاں تو غیر محسوس طریقے سے اس کے ذہن میں گھس گئی۔۔۔

جب وہ صوبیدار صاحب کی گاڑی پہ  ان کے ساتھ گلاں اور اس کی اماں کے ہمراہ پنڈی پہنچے تو اس نے مورگاہ موڑ پر  بجائے صوبیدار صاحب کے گھر جانے کے سب کو اپنے گھر لے جانے کی ضد کی،
اس کے گھر والوں سے ملاقات میں دونوں اطراف میں اجنبیت اور سفر کی تھکن چائے پیتے کافور ہو گئی۔
صوبیدار صاحب کے گھر   گلاں اور اسکی اماں کی روانگی رات کے کھانے کے بعد ہوئی۔اگلے دن بلال صبح سویرے ان کے گھر پہنچ گیا۔صوبیدار صاحب کی بیگم کی گلاں اور اسکی ماں سے گاؤں میں میل ملاقات تو تھی ، گزشتہ دنوں زمین کے معاملات کے دوران وہ بھی گاؤں تھیں ،صورت حال سے آگاہ تھیں ۔ اور یہاں سب سے زیادہ خوش تو گلاں تھی۔ بلال اپنی بائیک پہ  آیا تھا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *