خطبہ حجۃ الوداع

جب بطحیٰ کے تنگ و تاریک غار سے طلوع ہونے والے آفتابِ رسالتؐ نے ظلمت کدۂ عالم کے ہر گوشے کو روشن کردیا تو اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا اور حاکمیت الٰہی کا بول بالا ہوگیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت تیار ہوگئی جو دین حنیف کو پورے عالم میں پہنچانے کا فریضہ بہ حسن و خوبی سرانجام دے سکتی تھی۔

خاتم المرسلین احمد مجتبیٰ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ اب امت مسلمہ کے لیے شریعت، اخلاق اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو مجمع عام میں اعلان کردیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حج سے بہتر کوئی اجتماع ممکن نہ تھا۔ چناں چہ حضورِ پاکؐ نے اعلان فرمایا کہ اس سال یعنی دس ہجری کو آپؐ حج کی سعادت حاصل فرمائیں گے۔ یہ اعلان سنتے ہی ہم رکابی کے لیے تقریباً سوا لاکھ مسلمان جمع ہوگئے۔

چوں کہ یہ رحمت دو عالمؐ کا یہ پہلا اور آخری حج تھا اسی نسبت سے حجۃ الوداع کے نام سے موسوم ہوا۔ آپؐ نے مدینہ منورہ سے اپنے اس مقدس سفر کا آغاز فرمایا اور تمام ازواج مطہراتؓ کو ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ ذوالخلیفہ، جو مدینہ کا میقات ہے میں رات گزاری، صبح غسل فرمایا، احرام باندھا، دو رکعت نماز ادا کی پھر قصواء پر سوار ہوئے یہیں سے لبیک اللھم لبیک کا ترانہ بلند کیا۔ جب یہ مقدس قافلہ احرام کے ساتھ مکہ کی سمت چل پڑا تو راستے میں ہر قبیلے کے لوگ ہم رکاب ہوتے جاتے تھے۔ آپ ﷺ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے اور جب کعبۃ اللہ پر نظر پڑی تو فرمایا: ’’اے اللہ اس گھر کو اور زیادہ عزت اور شرف دے۔‘‘
میدان عرفات میں ایک لاکھ چوبیس ہزار مسلمانوں کا اجتماع تھا جن کے قلوبِ صافی سے توحید اور عشق الٰہی کے چشمے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہے تھے۔ تکبیر، تہلیل، تمجید و تقدیس سے فضا معطر تھی۔ جب سورج ڈھلنے لگا تو آپؐ ناقہ پر تشریف فرما ہوئے اور وہ مشہور تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو تمام اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور حقوق و فرائض کا ابدی و عالمی منشور اعظم ہے۔ یہ خطبہ مسلمانان عالم کے لیے ابدی آئین اور ابدی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خطبہ آج بھی اسی اہمیت کا حامل ہے جتنا چودہ سو سال قبل تھا۔ غرض یہ کہ خطبہ حجۃ الوداع سمندر کو کوزے میں سمو دینے کے مترادف ہے۔

امام الانبیا ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، مفہوم : ’’لوگو! میری بات غور سے سنو کیوں کہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد بھی میں کبھی اس موقع پر تمہارے درمیان ہوں گا۔‘‘

خطبۂ حجۃ الوداع کے درج ذیل نکات کا مفہوم تحریر میں لایا جاتا ہے۔

٭ معاشرتی احکامات

٭ معاشی اصلاحات

٭ سیاست سے متعلق ہدایات

٭ دین سے متعلق ہدایات

آپؐ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’خبر دار! زمانۂ جاہلیت کی تمام رسومات میرے قدموں کے نیچے روند دی گئی ہیں۔ زمانۂ جاہلیت کے تمام خون معاف ہیں۔ اور سب سے پہلے ربیعہ بن الحراث ابن عبدالمطلب کے خون کا قصاص موقوف کیا جاتا ہے۔‘‘

’’سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں۔ لوگو! بے شک تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فوقیت نہیں مگر تقویٰ کے سبب۔‘‘

حقوقِ نسواں :

حضور پاکؐ نے ارشاد فریایا، مفہوم: ’’عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو، ان کے بارے میں اللہ کا لحاظ رکھو کہ تم نے انہیں اللہ کے نام پر حاصل کیا ہے اور اسی کے نام پر وہ تمہارے لیے حلال ہوئی ہیں۔ اے لوگو! تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح تم پر بھی ان کے حقوق ہیں۔ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اجازت کے بغیر کسی کو دے۔ عورت کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی کام کھلی بے حیائی کا کریں۔‘‘

غلاموں کے حقوق :

غلاموں کا خیال رکھو۔ تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔ تم جو کچھ خود کھاؤ انہیں بھی کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی انھیں بھی پہناؤ۔ دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے روند دیا۔‘‘

جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت :

آپؐ نے ارشاد فرمایا: لوگو! (خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ) ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ لوگو! تمہارے خون، مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی ہی محترم ہیں جیسا کہ تمہارے لیے آج کا دن، یہ شہر اور یہ حرمت والا مہینہ محترم ہے۔ تم سب اللہ کے آگے جاؤگے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس فرمائے گا۔‘‘

معاشی اصلاحات:

سود کی حرمت، دور جاہلیت کا سود معاف ہے۔ پہلا سود جسے میں چھوڑتا ہوں عباس بن عبدالمطلب کے خاندان کا سود ہے۔ اب سود ختم ہوگیا۔

وراثت :

آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگو! اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا اب کوئی کسی وارث کے حق کے لیے وصیت نہ کرے۔ جو کوئی اپنا نسب بدلے گا یا کوئی غلام اپنے آقا کے مقابلے میں کسی اور کو اپنا آقا ظاہر کرے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘

قرض کی ادائی :

آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ قرض ادا کیا جائے، امانت واپس کی جائے، کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور وہ خوشی خوشی دے۔ عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنا چاہیے۔ تحفے کا بدلہ دینا چاہیے اور جو کسی کا ضامن ہو وہ تاوان ادا کرے۔

سیاست سے متعلق ہدایات:

حضور پاکؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر کوئی نکٹا اور سیاہ فام حبشی غلام بھی تمہارا امیر بنادیا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم پر اس کی اطاعت لازم ہے۔‘‘

دین سے متعلق ہدایات :

آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اور نئی امّت نہیں۔‘‘ لوگو! مذہب میں غلو اور مبالغے سے بچو کیوں کہ تم سے پہلی بہت سی قومیں مذہب میں غلو کرنے کے سبب برباد ہوگئیں۔‘‘

’’ لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، نماز ادا کرو، مہینے بھر کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوش دلی سے دیتے رہو۔ اپنے رب کے گھر کا حج کرو اور اپنے اولامر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنّت میں داخل ہوجاؤ گے۔‘‘

تکمیل دین:

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تکمیل دین کے بارے میں سورۃ المائدہ کی آیات نازل فرمائی جس کا مفہوم حسب ذیل ہے: ’’ آج تمہارا دین مکمل ہوا۔ میں نے اپنی نعمتیں پوری کردیں اور میں تم سے تمہارے اس دین کی وجہ سے راضی ہوگیا۔‘‘

پھر حضور پاکؐ نے ارشاد فرمایا۔ ’’خبردار جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میری بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں۔ کیوں کہ بہت سے لوگ جن کو میرا پیغام پہنچے گا وہ ان لوگوں سے زیادہ اسے محفوظ رکھنے والے ہوں گے جو اس وقت سننے والے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے اس خطبے کے آخر میں ارشاد فرمایا: ’’تم لوگوں سے میرے متعلق پوچھا جائے گا بتاؤ تم میرے بارے میں کیا جواب دو گے۔ حاضرین نے یک زبان ہوکر عرض کیا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپؐ نے امانت دین پہنچادی اور آپؐ نے حق رسالت ادا فرمایا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔

یہ جواب سن کر حضور اکرمؐ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا: ’’اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا۔‘‘

خاتم الانبیاء سرور کائناتؐ نے مندرجہ بالا خطبہ حجۃ الوداع میں احترام انسانیت اور حقوق و فرائض کا جو فلسفہ پیش کیا ہے اس پر سختی سے عمل درآمد کرکے ہی نہ صرف مسلمانان عالم بل کہ پوری دنیا مثالی اور پرامن معاشرے کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ جیسا کہ حضورؐ اکرم نے اس خطے میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ میں تمہارے درمیان دین و ہدایت چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان کو پکڑے رہو گے کبھی گم راہ نہ ہوگے۔ بدقسمتی سے آج ہم نے قرآن و سنت سے دوری اختیار کی ہوئی ہے اگر ہم اپنی موجودہ پستی و زوال کے اسباب پر غور کریں اور سوچیں کہ آج اہل ایمان ہی ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیوں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ماضی کے مسلمان فاتح حکم ران اور ان کی عظمت کی داستانیں ماضی کا حصہ بن گئیں؟ کیا وجہ ہے کہ ماضی کے مسلم سائنس دان اور اسکالرز ہر شعبے میں ترقی کے مدارج طے کرتے چلے گئے اور موجد بن کر نام روشن کرتے رہے۔ دراصل قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا عروج قرآن و سنتِ نبی کریم ﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کے باعث تھا۔

آئیے اب ہم عہد کریں کہ ہم قرآن اور اسوۂ نبویؐ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر حال کو ماضی سے بہتر اور مستقبل کو حال سے بہتر بنائیں گے۔ (آمین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *