• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سوشل میڈیا پر ہندوتوا اور صیہونیت کے خلاف لکھنے کی سزا۔۔۔ایم غزالی خان

سوشل میڈیا پر ہندوتوا اور صیہونیت کے خلاف لکھنے کی سزا۔۔۔ایم غزالی خان

سوشل میڈیا پر ہندوتوا اور صیہونیت کے خلاف لکھنے کی سزا۔ مانگے کے ہتھیاروں سے جنگ جیتنے کی کوشش کا انجام

فیس بک نے گزشتہ چند ماہ سے اردو میڈیا مانیٹرپرپابندی لگائی ہوئی ہے۔ مارچ 2013 میں رضا کارانہ طور پرشروع کی گئی اس خدمت کا مقصد اردو اخبارات اور جرائد میں شائع ہونے والی اُن خبروں اور مضامین کے انگریزی تراجم غیر اردو داں لوگوں تک پہنچانا ہے جنہیں مین اسٹریم میڈیا عام طور پر نظر انداز کردیتا ہے۔

اس پورٹل پرآج تک کسی لسانی یا مذہبی کمیونٹی کے خلاف کبھی کوئی ایسی بات نہیں شائع ہوئی ہے جو اشتعال انگیزی یا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے زمرے میں آسکتی ہو اور جو فیس بک کے وضع کردہ ’’کمیونٹی اسٹینڈرڈز‘‘ کی خلاف ورزی کرتی ہو۔ پھر بھی گزشتہ کئی ماہ سے فیس بک نے اردو میڈیا پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ نہ اس کی کوئی تحریراس کی اپنی وال پر شائع کی جاسکتی ہے اور نہ کوئی فرد اپنی وال پر شیئر کرسکتا ہے یہاں تک کہ اِن باکس بھی اس کا کوئی لنک کسی کو نہیں بھیجا جا سکتا ہے۔

اردو میڈیا مانیٹر پر About usکے تحت واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ  ’’اردو میڈیا مانیٹر (یوایم ایم) ہندوستان اورپاکستان کے اردو اخبارات اورسوشل میڈیا پر اردو میں شائع ہونے والے منتخب اداریوں، مضامین اور خبروں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کر کے انہیں غیر اردو داں لوگوں تک پہنچانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔

’’موضوعات کی افادیت اور اہمیت کے لحاظ سے ہم ان تاریخ واقعات اور تاریخی شخصیات پر لکھے گئے مضامین کے تراجم بھی پیش کریں گے جنہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نظر انداز کردیا گیا ہے اور جنہیں کبھی کبھار اردو اخبارات یاد کرلیتے ہیں۔‘‘

مگرانصاف کے تمام تقاضوں کے برخلاف فیس بک کا با اختیارعملہ خود اپنے طور پرآزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے طاقتور لابیز کی شکایت پر یکطرفہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ کیا چیز اس کے کمیونٹی اسٹینڈرڈزکی خلاف ورزی کر رہی ہے اور کیا نہیں۔ لہٰذا اس نے یو ایم ایم کی کسی خاص پوسٹ، جو ان کی نظر میں قابل اعتراض ہو، پر پابندی نہیں لگائی بلکہ ویب سائٹ کو ہی معتوب قرار دے دیا اور پوری  ویب سائٹ پرپابندی لگادی۔ فیس بک نے یہ پابندی اس کے وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کی پاداش میں نہیں بلکہ ہندوتوا یا صیہونی ایجنٹوں کی شکایت کی بنیاد پر لگائی ہے اورعین ممکن ہے کہ غیر ضروری طورپر اٹھائے جانے والے اس قدم کی وجہ یو ایم ایم کی وہ رپورٹ ہو جس میں صیہونی ادارے مڈل ایسٹرن میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (میمری) کے طریقہ کار سے متعلق سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا یہ صیہونی ادارہ مساجد میں مسلمانوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔

میمری کی شرارت انگیز رپورٹ بعنوان ’’شیخ یاسر ندیم الواجدی نیویارک کے اسلامی سینٹر میں : قرآن بیوی پر تشدد کی اجازت صرف غیر معمولی حالات میں دیتا ہے‘‘، کی بنیاد شکاگو میں مقیم مفتی یاسر ندیم الواجدی کی ایک تقریرتھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سورہ نسا کی آیت نمبر 34کا غلط مطلب نکالا گیا ہے جبکہ بیوی پر تشدد کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔ اپنی فیس بک وال پر اس شر انگیز حرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی یاسر صاحب نے لکھا تھا کہ ایک گھنٹے کی اس تقریر کو میمری نے تین منٹ کی بنا کر جو کچھ میں نے کہا تھا اس کے برعکس تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ میمری کی رپورٹ اسرائیلی اخبارات نے بھی شائع کی تھی۔ یو ایم ایم نے اپنی رپورٹ میں میمری کی  صیہونیت پر بھی تفصیل سے لکھا تھا۔

میں نے فیس بک کے ’’فیڈ بیک‘‘ پر جاکر دو مرتبہ اس پابندی کی جانب توجہ دلائی ہے اور خاص طور پر درخواست کی ہے کہ بے بنیاد شکایتوں کے بجائے اس کے عملے کو یو ایم ایم پر شائع کی گئی تحاریر کا خود معائنہ کرنا چاہیے۔ مگر تین ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی نہ تو پابندی اٹھائی گئی ہے اورنہ پابندی کی وجہ بتائے گئی ہے۔
آج کی دنیا میں جب انٹرنیٹ نے پوری دنیا کوایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کردیا ہے عجیب بات ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے اس بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی من مانی اور بے اصولی سے نمٹنے کیلئے نہ کوئی قانون ہے اور نہ کوئی ادارہ ہے۔ یقیناً یو ایم ایم، فیس بک کی یکطرفہ اور من مانی کار روائی کا شکار ہونے والا پہلا یا آخری پورٹل نہیں ہو گا۔ معلوم نہیں اس سے متاثر ہونے والے اور کتنے افراد اور پورٹلز ہوں گے۔ اب ضروری ہو گیا ہے کہ فیس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکی دھاندلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی سطح پرقوانین بنائے جائیں اور کوئی ایسا آزاد ادارہ ہو جہاں ان کی ناانصافیوں کی شکایت کی جا سکے اور جو ان نا انصافیوں کے خلاف کارروائی کر سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *