تلخیاں/تعلیمی نظام یا ذہنی غلامی۔۔۔۔۔خلیل اللہ کرَکی/قسط1

رب کائنات نے اپنے کلام ” قرآن پاک” میں جہاں دیگر چیزوں کی قسمیں کھائیں ہے, وہاں ایک “قلم” کی بھی قسم کھائی۔ قلم کو اللہ تعالی نے انسانی ذہن کے بند دریچوں کے کھولنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے اور قلم ہی کےذریعے قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔زمانہ جاہلیت میں صحراۓ عرب کے باشندے وحشی تصور کیے جاتے تھے۔ لیکن اسلامی تعلیمات کے حصول کے بعد اس کے ہمہ گیر اثرات نے لوگوں کو انگشت بدنداں کر دیا۔ اسلامی تعلیم کے نتیجے میں وہ وحشی, جو علم و معرفت اور تہذیب وتمدن سے بالکل کورے تھےتھے, وہاں امن و آتشی کےگلاب کھل اٹھے۔

اگر عمیق نظروں سے دیکھا جاۓ تو اسلامی تاریخ میں یہ بات ملتی ہے, کہ موجودہ جتنی بھی ایجادات ہیں  ،ان کے اصل موجدین مسلمان گزرے ہیں۔ خالد بن یزید, زکریا رازی,ابن سینا, خوارزمی, ابو ریحان البیرونی, فارابی,ابن مسکویہ,ابن رشد کندی,جابر بن حیان اور موسی بن شاکر یہ مسلمان سب اپنے زمانے کے عظیم سائنسدان گزرے ہیں۔

لیکن آج مغرب کی تنگ نظری اور تعصب پر مبنی نظامِ  تعلیم نےہمارے سائنس کے طالب علموں کو ان عظیم سائنسدانوں سے یکسر  اجنبی  کر دیا ہے ۔ انہیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ علم معاشیات کی بنیاد ” آدم سمتھ ” نے رکھی ہے۔ لیکن یہ بات ان سے چھپائی جاتی  ہے, کہ علم معاشیات کی اصل بنیاد تو سینکڑوں سال قبل ابن خلدون اور شاولی اللہ نے رکھی تھی۔ ابن خلدون نہ صرف معاشیات کے ماہر تھے بلکہ عمرانیات کے موجد اول اور عظیم مورخ بھی گزرے ہیں ۔

آج کی دنیا نے تعلیم کی راہیں الگ الگ کر دی  ہیں ۔ حلانکہ پہلے زمانے میں اسلامی و عصری دونوں تعلیم ایک ہی کمرے میں سیکھائی جاتی تھیں ۔ جس سے اگر ایک طبیب نکلتا تھا تو طب کے ساتھ وہ اسلامی تعلیمات سے بھی واقف ہوتا تھا۔ قاہرہ یونیورسٹی , قرطبہ یونیورسٹی , جامعہ ازہر اس کی واضح مثالیں ہے۔ طب کی کتاب ہوتی یا فلکیات کی, ابتدا ٕ اس کی “الحَمْدُ ِلله و کفیٰ والصلوَة علیٰ روسولہ۔۔۔” سے ہوتی تھی۔ لیکن آج اسلامی تعلیم الگ اور عصری تعلیم الگ  پڑھائی جاتی  ہے۔

پہلی قسم کی تعلیم کو مدارس نے اپنایا۔
اس نظام تعلیم میں طالب علم کو بیک وقت قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر, اصول حدیث , حدیث نبویﷺ , فقہ , اصول فقہ, عربی ادب, اسلامی تاریخ, میراث,فلکیات,فرقہ باطلہ سے واقفیت, منطق, فلسفہ, اسلامی سیاست اور عربی گرائمر وغیرہ کے فنون پڑھاۓ جاتے ہیں۔شروع ہی سے طالب علم کو سمجھایا جاتا ہے, کہ اس تعلیم کا مقصد ” رضاۓالٰہی, اعلی انسانی اوصاف کا حصول , ذات کی تکمیل, اور پوشیدہ صلاحیتوں کا نکھارنا ہےاور ان چیزوں کے ذریعے فرد کو ملک وملت بلکہ پوری انسانیت کی حقیقی خدمت کے لیے تیار ہونا ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *