• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • افغانی و پاکستانی طالبان کے متعلق چند عوامی مغالطوں کا رد۔۔۔ محمد اسد

افغانی و پاکستانی طالبان کے متعلق چند عوامی مغالطوں کا رد۔۔۔ محمد اسد

کچھ عرصہ سے میرا یہ مشاہدہ رہا ہے کہ جب افغانستان میں کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے تو عموماً ہمارے ہاں کہ پروسٹیٹ (سینٹر ونگ) اور دائیں بازو کے دانشوروں کی یہ بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کارروائی کا افغانی طالبان سے تعلق نہ نکلے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ اگر اس دہشت گردانہ کارروائی کی ذمہ داری داعش یا کوئی اور تنظیم قبول کر لے تو،مندرجہ بالا دانشواران فوراً، افغان طالبان کی گلوریفیکشن پر لگ جاتے ہیں اور وہ افغان طالبان کو امن پسند اور لوگوں کے مسیحا کے طور پر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن اگر کسی دہشتگردانہ کارروائی کی ذمہ داری افغان طالبان قبول کر لیں تو مندرجہ بالا دانشور دوستوں کوسانپ سونگھ جاتا ہے ۔ عموماً افغان طالبان کی کارروائیوں اور پاکستانی طالبانوں (ٹی ٹی پی) سے ان کے تعلقات کے بارےمیں سوالات اٹھائے جاتے ہیں جس کے جوابات عموماً غلط معلومات پر مشتمل ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس موضوع پر حال ہی میں نہایت قابل احترا م صحافی اور دانشور عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے ایک تحریر لکھی جس میں انہوں نے افغان طالبان اور پاکستانی طالبانوں کے بارے میں اٹھائے جانے والے مختلف سوالات کے جوابات دیے ہیں ۔ بطور ایک طالب علم مجھے ان کے دیے گئے جوابات سے اختلاف ہے اور یہ کالم اسی سلسلے میں ہے ۔
ذیل میں پہلے عامر صاحب کے سوالات وجوابات تحریر کئے گئے ہیں اور اسکے بعد میرے اعتراضات تحریر کئے گئے ہیں۔

سوال 1:: پاکستانی ریاست افغان طالبان کی مدد کیوں کرتی ہے، جبکہ ان طالبان نے خود کش حملے کر کے ہزاروں پاکستانی شہید کر دئیے۔

جواب از عامرخاکوانی:: “افغان طالبان کی تنظیم ،ان کا سیٹ اپ ، افرادی قوت اور نظم یعنی قیادت سب کچھ پاکستانی طالبان سے مختلف ہے۔ افغان طالبان کا ایجنڈا افغانستان سے امریکی افواج کوباہر نکالنا ہے۔ افغانستان سے باہر کے کسی معاملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔ پاکستانی طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کا افغان طالبان سے کوئی باضابطہ یا بے ضابطہ تعلق نہیں۔ انہوں نے طالبان کی پاکستانی قبائلی علاقوں میں مقبولیت کے باعث خود کو پاکستانی طالبان کہلوایا تاکہ عوامی حمایت حاصل ہوسکے۔ پاکستانی طالبان مختلف چھوٹے بڑے گروپوں پر مشتمل ایک ڈھیلا ڈھالا سا اتحاد تھا ، جس میں کئی جرائم پیشہ گینگ بھی شامل رہے۔ ان کے القاعدہ کے ساتھ گہرے مراسم قائم ہوئے اور ٹی ٹی پی گلوبل ایجنڈے پر کاربندہے ، جبکہ افغان طالبان کا ایجنڈا ہمیشہ لوکل یعنی افغانستان تک محدود رہا”

میرےاعتراضات:: سب سے پہلے تو یہ غلط ہے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ بے ضابطہ نہیں بلکہ باضابطہ تعلقات ان دونوں کے بیچ میں موجود رہے ہیں ۔ سب سے پہلے تو عامرصاحب کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ ٹی ٹی پی کا اصل امیر ہمیشہ افغان طالبان کا امیر ہی رہا ہے ۔ بیت اللہ ، حکیم اللہ ، فضل اللہ وغیرہ ایک طرح کے افغان طالبان کے امیر کے نائب ہی ہواکرتے ہیں ۔ جو دوست باقاعدگی کیساتھ ٹی ٹی پی کی ویب سائیٹ جو کہ عمر میڈیا کے نام سے کافی عرصہ تک فعال رہی ہے اور شاید اب وہ بلاک ہوچکی ہے، اس کا وزٹ کرتے رہے ہیں انکو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس ویب سائیٹ کے سر ورق پر امیر کی جگہ پر افغان طالبان کے اسوقت کے امیر کا نام ہی لکھا ہوا کرتا تھا ، اور ٹی ٹی پی کا امیر انکا نائب امیر ہی لکھا ہوا کرتا تھا ۔ دوسری بات جو خاکوانی صاحب نے کہی کہ افغان طالبان کا ایجنڈا ملکی ہے نہ کہ بین الاقوامی اور یہ کہ وہ اصل میں اس لیے لڑ رہے ہیں تاکہ امریکی فوج کو افغانستان سے نکالا جا سکے، یہ جملہ عموماً افغان طالبان کو فیور دینے کی کوشش میں بار بار دھرایا جاتا ہے۔

حالانکہ اس بات کی گارنٹی کسی کے پاس نہیں ہے امریکیوں کو نکالنے اور افغانستان پر قبضہ ہو جانے  کےبعد افغان طالبان دوسرے ملکوں پر چڑھائی کرنے یا وہاں کے بنیاد پرستوں کو اسلامی انقلابات لانے کیلئے نہں اکسائیں گے ، اسکے علاوہ خاکوانی صاحب نے ٹی ٹی پی اورالقائدہ کے تعلقات کا ذکر تو کیا لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ سب سے گہرے تعلقات تو القائدہ کے افغان طالبان کیساتھ رہے ہیں،کیا  عامر خاکوانی صاحب کو نہیں معلوم کہ امریکیوں کی جانب  سےافغانستان پر حملہ کرنے کا سب سے بڑا جواز وہاں اسامہ بن لادن کی موجودگی تھی، جس کو افغان طالبان نے ہی پناہ دی تھی ، القائدہ(جو کہ ایک گلوبل ایجنڈے پر گامزن ہے) کے ساتھ افغان طالبان کے اتنے گہرے مراسم کے باجود یہ کہنا کہ افغان طالبان کا ایجنڈا ملکی ہے نہ  کہ بین الااقوامی ، کم ازکم میری سمجھ سے تو بالاتر ہے ۔ اس کہ علاوہ یہ بات بھی غلط ہے کہ افغان طالبان محض امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکالنے کے لیے لڑ رہے ہیں ، یہ بات تب مانی جا سکتی تھی اگر افغان طالبان امریکیوں کے افغانستاں پر حملہ کرنے کے بعد منظر عام پر آتے ۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ افغان طالبان امریکیوں کے آنے سے کئی سال پہلے سارے افغانستان پر قبضہ جمانے اور وہاں اسلامی نظام کو نافذ کرنے کیلئے مختلف ،مخالف مسلح گروپوں سے لڑتے اور مذہبی اقلیتوں کو قتل کرتے آ رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

محمد اسد
محمد اسد
ایک طالب علم جو جاننا اور سیکھنا چاہتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *