اٹھارہ ہزاری کا صفدر اور انصاف کا المیہ

انصاف ہمارے معاشرے میں عام آدمی کےلیے مہنگی ترین مصنوعات میں سے ایک ہے۔ جمع پونجی تو رہی ایک طرف وہ اپنی عزت نفس بھی بیچ کر اسے خریدنے سے آج کے دن تک قاصر معلوم ہوتا ہے۔اس بات کا شدید ترین احساس ایک اخبار کے پہلے صفحے پر چھپی خبر پڑھ کر ہوا۔ خبر ہے کہ بیوی کے ساتھ زیادتی کے بعد انصاف نہ ملنے پرخود کو تھانے میں جلانے والا چل بسا۔ تھانہ اٹھارہ ہزاری کے علاقہ کا رہائشی 29 سالہ محنت کش محمد صفدر اسی مہنگی چیز یعنی انصاف کو غلطی سے اپنا حق سمجھ بیٹھا جو اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی کے ملزموں کے خلاف انصاف جیسی مہنگی مصنوعات سستے داموں لینے نکل پڑا۔ صفدر کے پاس اس کی قیمت ادا کرنے کی سکت نہ تھی جبکہ ملزمان انصاف کا پورے کا پورا “پیکج “ہی خرید چکے تھے۔

اسی پیکج کے تحت صفدر کو انصاف بیچنے والے تمام دکانداروں نے اس کو “معقول” معاوضے کی پیش کش جسے اس نے زندگی میں تو مسترد کر دیا مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہی ” معاوضہ” اسے موت کے بعد بھی مل کر رہے گا جس سے وہ قطعی انکار کرنے کے قابل نہ ہو گا۔ صفدر یہ سوچ کر خود کو آگ لگانے کی دھمکی دے بیٹھا کہ شاید اس سے “انصاف کا سپر مارٹ” یعنی تھانہ ہل جائے گا کسی نہ کسی “سیلز مین” کا ضمیر جاگے گا اور اس کو انصاف دے دیا جائے گا مگر یہ صرف اس کی بھول تھی۔ ضمیر تو کسی کا کیا جاگنا تھا اسی ” انصاف کے سیلز مارٹ” کے “منیجر” یعنی ایس ایچ او نے اس کی صرف اتنی مدد کی کہ جیب سے سگریٹ لائٹر نکال کر دیا کہ یہ لو بھولے میاں اس کے علاوہ تمہارے لئے یہاں کچھ نہیں۔

tripako tours pakistan


انصاف لینے آیا صفدر عزت نفس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اب اس کے پاس گھر لے جانے کے لیے کچھ نہ بچا تھا۔ ایک خالی جیب تھی جو بقول شکیل عادل زادہ صاحب کہ دنیا کی بھاری ترین چیزوں میں سے ایک ہے جو چلنا مشکل کر دیتی ہے۔ سو اس بھاری چیز کے ساتھ انصاف کے اگلے ” کاؤنٹر” تک رینگ رینگ کر پہنچ کر بھی کچھ حاصل نہ ہوتا۔ لہٰذا صفدر نے خود کو آگ لگا کر عزت نفس سے محرومی اور خالی جیب کا بوجھ ہلکا کر دیا۔مارنے کے بعد نعش گھسیٹنا کسے کہتے ہیں؟ صفدر جن پیسوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی میں انصاف نہ خرید سکا وہی پیسے امدادی چیک کی صورت میں اس کی میت پر رکھ دیے گئے۔ صفدر کی صورت میں عام آدمی کو اس کی اوقات یاد دلا دی گئی۔ امدادی چیک کی صورت میں سبق بھی دے دیا گیا۔

محمد اعظم
محمد اعظم
شعلۂ مضطر ہوں میں لیکن ابھی پتھر میں ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *