بریسٹ کینسرمذاق نہیں ہے۔۔حامد حسن

ہمارے ایک دوست ہیں اوگی ،مانسہرہ کے ایک گاؤں کے رہنے والے، ان کی بیوی چھاتی کے کینسر سے تڑپ تڑپ کر فوت ہوئی۔  ان کے یکے بعد دیگرے 3 بچے پیدائش کے کچھ وقت بعد فوت ہوگئے ۔دوسرے بچے کی وفات کے بعد بیوی کو چھاتی میں درد ہونا محسوس ہوا، اور بڑھتا گیا، وہ اپنی ساس، ماں اور بڑی بہن وغیرہ کو بتاتی رہی مگر کسی کو علم نہ ہونے کی وجہ سے یہی جواب ملتا کہ خاص بات نہیں۔

اس نے اپنے شوہر کو بھی بار بار بتایا کہ اس کی چھاتی میں درد ہوتا ہے، گلٹیاں بن گئی ہیں اور شدید تکلیف کا سامنا ہے، مگر کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ اس بات کو سیریس لیا جائے۔

julia rana solicitors london

شوہر کالا ڈھاکہ میں ایک سرکاری سکول ٹیچر کی نوکری کرتا تھا ،مہینے بعد ایک دو دن کے لئے گھر آتا تو بیوی یہی فریاد کرتی کہ درد بڑھتا جا رہا ہے لیکن شوہر صاحب بھی اس بات کو پسِ پشت ڈال دیتے اور چھٹی کے ایام دیگر مصروفیات میں گزار کر واپس ہوجاتے۔

تیسرے بچے کی پیدائش اور وفات کے بعد چھاتی کی تکلیف شدت اختیار کر گئی، تین سال شدید کرب کے بعد جب حالت بہت زیادہ بگڑ گئی تو ایبٹ آباد لے کر گئے ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد رپورٹ سامنے رکھی تو پتہ چلا کہ چھاتی کا جان لیوا کینسر آخری سٹیج پر ہے ،اب صرف ایک ہی حل ہے کہ دونوں چھاتیاں کاٹ دی جائیں ،اور وفات کا بھی خدشہ ظاہر کیا کہ زہر جسم میں سرائیت  کر چکا ہے۔  آپریشن سے دونوں چھاتیاں کاٹی گئیں  اور ایک ڈیڑھ ماہ بعد وہ خاتون شدید اذیت اور تکلیف سے دم توڑ گئی ۔ اس صاحب نے یہ بات بذاتِ خود بتائی اور بہت افسوس کرتا رہا کہ کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ جان لیوا مرض ہے۔

چھاتی کا کینسر ایک مہلک اور جان لیوا بیماری ہے اور خاص کر پاکستان میں اس کی شرح کافی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ اللہ کا نظامِ قدرت ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کا رزق ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی شکل میں اترتا ہے اور بچے کی سب سے بہترین غذا دودھ ہی ہے۔

جو خواتین بچوں کو جان بوجھ کر دودھ نہیں پلاتیں  کہ فگر خراب ہوگا اور دودھ ختم کرنے کے لئے انجیکشن اور دوائیاں استعمال کرتی ہیں ان کو چھاتی کے کینسر کے ہونے کا شدید خدشہ لاحق ہوتا ہے ،یا بچہ ماں کی کسی دوسری بیماری یا اپنی کسی اندرونی تکلیف کی وجہ سے دودھ نہیں لیتا تو دونوں صورتیں خطرناک ہیں ،یہ چھاتی کے کینسر کے بڑے سبب میں سے ہیں۔  مزید یہ کہ گلیمر سے متاثر ہوکر نت نئے فیشن کی دوڑ اور قدرتی نظامِ زندگی سے ہٹ کر حسن و آرائش کے چکر میں آرٹیفیشل طرزِ زندگی بھی ایسی مہلک بیماریوں کا سبب بنتی ہے، اس کے علاوہ دیگر کچھ وجوہات بھی چھاتی کے کینسر کا سبب ہیں۔

چھاتی کے کینسر میں مبتلاء خواتین کی بروقت تشخیص و علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ کینسر اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ 90 فیصد خواتین کی چھاتیاں کاٹ دی جاتی ہیں اور وفات بھی ہوجاتی ہے۔  دنیا کے بڑے بڑے ڈاکٹرز بہت گہرائی سے اس بیماری پر کام کر رہے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کو اس کی معلومات دی جاتی ہیں۔

بچے کو ماں کے دودھ پلانے پر ہی اصرار کیا جاتا ہے ،اور قدرتی نظام کی افادیت پر ہی زور دیا جاتا ہے، کیوں کہ قدرتی طرزِ زندگی اور نظامِ رزق ہی انسانوں کے لئے مفید ہے۔

چھاتی کے کینسر میں خواتین کو چھاتیوں میں درد اور گلٹیاں محسوس ہوتی ہیں ،خواتین لاعلمی کی وجہ سے اس کو نظر انداز کرتی ہیں ۔دیہی  علاقوں کی خواتین کو معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اس سنگین اور جان لیوا بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے ارد گرد موجود احباب میں اس کے ،تعلق  معلومات  پھیلائیں کہ خواتین اپنا معائنہ کریں اگر ان کو چھاتیوں میں درد ہوتا ہو، گلٹیاں محسوس ہوں ،یا کسی بھی قسم کی غیر مناسب تکلیف کا سامنا ہو تو فوراً کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اس بیماری کو مذاق سمجھنے اور اپنی کم علمی کی بناء پر اس حوالے سے بیہودگی پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

Advertisements
julia rana solicitors

خواتین کا چھاتی کا کینسر کوئی مذاق نہیں ہے جن پر بیتا ہے انہی کو اس کے درد اور تکلیف کی شدت کا احساس ہوگا۔ اللہ رب العزت سب کے ساتھ خیر و عافیت والا معاملہ فرمائے بیماروں کو صحتِ کاملہ عاجلہ مستمرہ دائمہ نصیب فرمائے ،آمین۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply