بے آواز گلی کوچوں سے / بازار حسُن۔۔۔محمد منیب خان

یہ بازار ہے یہاں ہر جنس بکتی ہے۔ بھانت بھانت کے کاروباری لوگ طرح طرح کی دکانیں کھولے اپنا مال سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ بعض اجناس کے بازار مخصوص ہوتے ہیں۔ غلہ منڈی، فروٹ منڈی یا سبزی منڈی اپنے ناموں سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ جبکہ انسانوں کی خرید و فروخت کے لیے بھی دو طرح کے بازار ہوتے ہیں۔ ایک تو پچھلے وقتوں میں غلاموں کی خرید و فروخت کے لیے بازار لگا کرتے تھے۔ یہاں غلام انسان بکتے تھے۔ ہر خریدار اپنی ضرورت کے مطابق غلام چُن لیا کرتا تھا۔ اسی طرح شہروں میں جسموں کا کاروبار بھی مخصوص بازاروں میں ہوتا رہا ہے۔ جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی گئی اسی طرح بازار حُسن بھی جدید ہوتے گئے۔ باقی سارے بازاروں میں انسان کسی دوسری جنس کا خریدار ہے۔ لیکن بازار حُسن ہو یا غلاموں کا بازار ،یہاں انسان اپنی جنس کا بیوپار کرتا ہے۔ غلام خوشی سے نہیں بکتا تھا۔ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا وہ محکوم تھا، مسکین تھا۔ آزادی دولت سے مل سکتی تھی اور اتنی دولت غلاموں کے پاس نہیں تھی۔ سو پِستے تھے ظلم اور جبر کے پہاڑ برداشت کرتے تھے۔ غلامی سے آزادی کے لیے دولت درکار تھی وہی دولت جو حاصل ہو جائے تو انسان ایک نئی طرز کی غلامی میں چلا جاتا ہے۔ لیکن غلاموں کو کون سمجھائے کہ جیسے وہ اب آزاد نہیں ویسے ہی وہ صاحبِ مال ہو کر بھی آزاد نہیں رہیں گے وہ اس قید سے نکل کر ایک اور قید میں چلے جائیں گے، قید با مشقت۔

میں نفسیات دان نہیں کہ اس بات کو تلاش کروں کہ لوگ اپنا جسم بیچنے پہ کیوں رضا مند ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ایسی عورتوں سے ہمدردی ہوتی ہے۔ اس معاملے میں مشہور ترین خیال یہی ہے کہ یہ سب کچھ غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر کیا جاتا ہے۔ لیکن غربت امارت میں بدل جائے تو پھر بھی یہ کام نہیں چھوٹتا۔ آخر کیوں؟

دولت چاہیے تھی تو وہ دولت مل گئی۔ یہ وہی دولت جو کسی غلام کو میسر آ جاتی تو وہ خود کو آزاد کروا لیتا۔ وہی دولت بازار میں بیٹھی طوائف کو حاصل ہو چکی ہے لیکن وہ اپنے کام میں مگن ہے۔ وہ اپنی آزادی کو دولت کے عوض گروی رکھ چکی ہے۔ لیکن وہ اپنی آزادی کے زُعم میں مبتلا ہے۔ وہ اس کو اپنی چوائس کہتی ہے۔ یقیناً طوائف میرا مسئلہ نہیں، میرا مسئلہ ہر روز طوائف کی سیڑھیاں چڑھنے والوں سے ہے۔ یقیناً میں کوئی خدائی خدمتگار نہیں جو ان سب لوگوں کو ٹھیک کرنے کا عزم لیے ہوئے ہوں بلکہ میں تو ورطہ حیرت میں  ہوں کہ یہ گاہک زمانے کو ٹھیک کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

یہ بازار ،یہ منڈیاں ہر ملک، ہر شہر میں لگتے ہیں۔ میرے ملک میں بھی جا بجا بازار ہیں “بازار حُسن” ہیں۔ یہاں بھی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ پرانے گاہک نئی اداؤں پہ صدقے واری جاتے ہیں۔ نئے گاہک؟ نئے گاہکوں کا  کیا ہے۔ وہ تو ہلکی سی مسکراہٹ پہ راضی ہو جاتے ہیں۔ آج کل بازار حُسن میں رش بھی زیادہ ہے اور قیمت بھی۔ چند ماہ پہلے نئی لڑکیاں اس بازار میں لائی گئیں تھی۔ سنا تھا کہ غلاموں کے کسی بازار میں کوئی لاٹ آئی تھی۔ بڑا مہنگا سودا طے ہوا۔ بہت لے دے ہوئی۔ لیکن چونکہ سب ایک سے بڑھ کر ایک حسین تھیں  اس لیے سب کو خریدا گیا۔ اب بازار کے دام تو اوپر جانے ہی تھے۔ اس میں سب سے زیادہ فائدہ کاروبار کرنے والے کا ہے۔ تماش بین تو ایسے ہی خوش ہوتا ہے دولت لٹا کر بھی۔ جب شہوت حاوی ہو جائے تو ہر دوسری چیز غیر متعلق لگنے لگتی ہے۔ اس لیے تماش بین کے لیے دولت ہیچ ہے وہ جسم خریدنا چاہتا ہے خرید لیتا ہے۔ لیکن جو کاروبار کر رہا ہوتا ہے وہ پورے ہوش و حواس میں ہوتا ہے۔ اس لیے پرانے گاہوں سے جتنا بھی خوش اخلاقی سے پیش آئے لیکن ایک پیسہ نہیں چھوڑتا ہے۔ وہ اپنے پورے دام وصول کرتا ہے۔وہ پیسہ چھوڑے بھی کیوں، بھلا کاروبار ایسے تھوڑا چلتے ہیں۔ “کاروبار کرنے والا” اور تماش بین دونوں ہی معاشرے کے ناسور ہیں۔ اور معاشرہ انہیں برے ناموں سے پکارتا ہے۔ لیکن یہ جسم بیچتی طوائف؟ اس کے لیے بھی تو کوئی اچھا لفظ نہیں ہے۔ یہ سب اپنے اپنے کام میں مگن اور مطمئن ہیں لیکن یہ سب معاشرے میں ایک گالی ہیں۔ چاہے وہ معاشرہ بذات خود بھی اخلاقی پستی کا شکار ہو۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *