فٹنس میں ناکامی کے اسباب اور انکا حل۔۔۔اسرار احمد

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی موٹاپے کا شکار ہے،ہمارا طرزِ زندگی اتنا مشکل ہے کہ اس میں ورزش کے لیے وقت ہی نہیں نکلتا اور فاسٹ فوڈ اور کھانے میں آئل کا زیادہ استعمال بھی اس کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

اس لیے ہر فربہ اندام چاہ کر بھی دبلا نہیں ہوپاتا۔

موٹاپےکی وجہ سے جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکا ایک دبلا شخص ادارک بھی نہیں کرسکتا۔

موٹے لوگوں کے بارے میں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص جسمانی لحاظ سے موٹا ہے تو وہ یقیناً عقل سے بھی موٹا ہوگا،آپ اپنے اردگرد دوستوں میں نظر دوڑائیں تو  دیکھیں گے کہ باقیوں کی نسبت موٹے دوست کو زیادہ مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کی رائے کو کوئی خاص اہمیت بھی نہیں دی جاتی۔

اس سے خود اعتمادی (self confidence)میں کمی کی وجہ سے شخصیت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے،جس کا  براہ راست اثر آپکی تعلیم اور کیرئیر پر پڑتا ہے۔

موٹاپا صرف آپکی شخصیت پر ہی برا اثر نہیں ڈالتا بلکہ صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے اسی وجہ سے امراضِ قلب، فشارِ خون(blood pressure) اور ذیابیطس(Diabetes) جیسی جان لیوا بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تقریباً ہر فربہ اندام زندگی میں کئی مرتبہ وزن کم کرنے کی کوشش کرتا ہے  لیکن چند وجوہات  کی بدولت  ناکام ہوجاتا ہے۔جو کہ درج ذیل ہیں

مثال کے طور پر جب بھی ہم وزن کم کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنی بے تحاشا بڑھی ہوئی خوراک کا خیال آتا ہے ،اس لیے ہم  خود سے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ آج سے فاسٹ فوڈ بند،بریانی بند،میٹھے مشروبات (Cold Drink’s) وغیرہ سب بند اور ایکسرسائز شروع، اس دوران ناشتہ ترک کرنے کی سنگین غلطی سرزد ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق ناشتہ ترک کرنے کی وجہ سے صحت  پر جہاں دوسرےمضر اثرات پڑتے ہیں، وہی وزن بجائے کم ہونے کہ بڑھ جاتاہے۔

ایسا طرزِ عمل بمشکل ایک ماہ ہی چل پاتا ہے اور بہت سے لوگ تو ایک ہفتے میں ہی ہار مان لیتے ہیں اور پرانی جون پر لوٹ آتے ہیں۔کیونکہ جب ہم  ایک دم سے ہی کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں اور سخت ایکسرسائز ،ساتھ میں سبز چائے(Green Tea) کا بے  تحاشا استعمال کرتے ہیں تو ہر وقت دماغ میں چٹ پٹے کھانوں کا خیال سمایا رہتا ہے لیکن ہم بڑی مشکل سے خود پر جبر کیے رکھتے ہیں  ۔سب جانتے ہیں کہ ہم بحیثیت مجموعی ایک عاجل قوم ہیں اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ ان ساری چیزوں کی قربانی کا ثمر بھی جلد ملے گا اس لیے ہم پہلےدن سے  ہی وزن کا حساب کتاب شروع کردیتے ہیں۔بار بار آئینے کا رخ کیا جاتا ہے ،اپنے اردگرد دوست احباب سے اپنے دبلا ہونے بارےاستفسار کیا جاتا ہے لیکن وہ اپنی جگہ پر ہی ٹھہرا رہتا ہے بلکہ بعض اوقات بڑھ جاتا ہے۔ایسی صورتحال میں مایوسی طاری ہونا فطری ہے،دوسرا من پسند کھابوں سے دوری اس بات پر قائل کرنے کے لئے کافی ہوتی ہےکہ وزن کم کرنا تقریباً ناممکن ہے اور یہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے وغیرہ۔۔

اس ساری صورتحال سے گزرنے کے  بعد مختلف ٹوٹکوں کی طرف رُخ کیا جاتا ہے اس میں ناکامی کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے استعمال کا طریقہ اتنا پیچیدہ ہوتا ہے کہ ایک دو دن سے زیادہ عمل ہی نہیں ہو پاتا۔اس دوران کچھ لوگ  مختلف قسم کی مضر صحت چربی پگھلانے والی ادویات کا استعمال کرتے ہیں جس کا سیدھا اثر ہمارے گردوں پر پڑتا ہے جس سے بجائے فائدہ ہونے کے نقصان ہوتا ہے جو کہ اکثر اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔

ان سارے طریقوں کی ناکامی کا براہ راست اثر ہمارے وزن پر پڑتا ہے جو کہ بجائے کم ہونے کے مزید بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ جب ہم اپنے پسندیدہ کھابوں سے دور ہوتے ہیں تو چند دن بعد یہ باور ہوجاتا ہے  کہ ان کے چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تو  پھر پورے جذبے سے اپنی پرانی جون پر لوٹ آتے ہیں اور پہلے سے بھی بڑھ کر کھانا پینا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن کا بڑھنا ایک فطری عمل ہے۔

یہ تو تھیں چند وجوہات جس کی وجہ سے ہم وزن کم کرنے میں ناکام ہوتے ہیں لیکن اگر  ان عوامل کا ذکر کریں  جن کی بدولت میں ہم رفتہ رفتہ اپنا وزن با آسانی کم کر سکتے ہیں تو اس میں  مستقل مزاجی  ایک اہم جزو ہے۔

آپ جب بھی وزن کم کرنے کا اعادہ کریں تو اپنے کھانے پینے کے طرز عمل کو بالکل بھی نہ بدلیں بلکہ جو کچھ کھاتے آرہے ہیں  اسے ویسے ہی چلنے دیں۔وزن کم کرنے میں جاگنگ (Jogging)سب سے زیادہ معاون ثابت ہوتی ہے لیکن شروع میں  بہت کم دورانیے سے شروع کریں ،1 منٹ سے شروع کریں اور ہر دودن بعد اس میں  مزید ایک منٹ کا اضافہ کرتے جائیں جب اسکا دورانیہ 5 منٹ پر پہنچے تو اضافہ کرنا چھوڑ دیں اور ایک ماہ تک صرف 5 منٹ جاگنگ کریں اور اپنی غذا میں سے رفتہ رفتہ  میٹھے مشروبات یا چینی کے استعمال کو کم کرتے جائیں اور سادہ چائے کی جگہ سبز چائے(GreenTea) استعمال کریں،سبز چائے کا استعمال سونے سے نصف گھنٹہ پہلے کرنا بہت معاون ثابت ہوتا ہے،بہت سے لوگ سبز چائے میں بھی چینی کا استعمال کرتے ہیں جس سے بجائے فائدہ ہونے کے نقصان ہوتا ہے البتہ اس میں لیموں کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

ایک ماہ بعد جاگنگ کے دورانیے میں دوبارہ  رفتہ رفتہ اضافہ کرتے جائیں اس دوران غذا میں سے فاسٹ فوڈ کا استعمال کم کرتے جائیں جب جاگنگ کا دورانیہ 10 منٹ پر پہنچے تو 3ماہ تک اس میں اضافہ کرنا ترک کر دیں  اور ہفتے میں دو دن آرام کریں تین ماہ بعد دوبارہ اس میں اضافہ کرتے جائیں اور غذا میں سے چاولوں سے بنی ڈشز کا استعمال کم کرتے جائیں( یہ سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ چاول ہماری مرغوب غذا ہے ) رفتہ رفتہ اس کی مقدار میں کمی کرتے جائیں  جب جاگنگ کا دورانیہ 15 منٹ پہ پہنچے تو اس میں ہمیشہ کے لیے اضافہ کرنا ترک کردیں اور ہفتے میں صرف کوئی سے بھی تین دن جاگنگ کریں۔جاگنگ کا دورانیہ بڑھانے کی بجائے اپنی اسپیڈ بڑھاتے جائیں مثلاً  آپ  اگر جاگنگ ٹریک کے 15 چکر پندرہ منٹ میں لگاتے ہیں تو کوشش کریں کہ اگلے دن 16 لگائیں اسی طرح رفتہ رفتہ ان میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

ان دس ماہ میں آپ کا وزن   کافی حد تک کم ہوجائے گا لیکن  اس سے اگلے دو ماہ میں  آپ کا وزن اتنا کم ہوگا جتنا پچھلے دس ماہ میں بھی نہیں ہوا ہوگا۔یہ وزن کم کرنے کی مہم کا سب سے اہم مرحلہ ہے اس میں آپ دو ماہ کے لیے ہر قسم کا فاسٹ فوڈ،میٹھے مشروبات،چٹ پٹے کھانے اور خصوصاً چاولوں کا استعمال بالکل چھوڑ دیں اور  غذا میں  صرف سبزیوں اور شوربے والے سالن(گوشت وغیرہ)کے ساتھ نیم گرم دودھ (چینی کے بغیر) اور پھلوں کا استعمال کریں،اور روٹین کے مطابق ہفتے میں صرف تین دن یا چار دن 15 منٹ کی جاگنگ کرتے رہیں ۔دوہ ماہ بعد آپ کا وزن ایک مثالی وزن ہوگا ۔اس کے بعد ہر چیز چاہے وہ فاسٹ فوڈ ہو یا کچھ اور مناسب مقدار میں استعمال کرتے جائیں اور ساتھ میں جاگنگ اور دیگر ہلکی پھلکی ایکسرسائزز کرتے رہے آپ کا وزن اسی مقام پر رک جائےگا۔

نوٹ:اس سارے عمل پر امریکہ یا برطانیہ کی کسی یونیورسٹی میں کوئی تحقیق نہیں ہوئی بلکہ یہ میرے ذاتی تجربات اور مشاہدات ہیں(لازمی نہیں کہ سب اس پر متفق ہوں) جن پر عمل کرتے ہوئے  وزن 105 سے 75 پر آگیا ہے۔ایک سال کا دورانیہ کافی  زیادہ  ہوتا ہے، اس دوران  کئی مرتبہ مایوسی طاری ہوتی ہےاور اس سب سے دل اُچاٹ ہو جاتا ہے دوسرا  لوگوں کی طرف سے آنے والا منفی ردعمل کافی حوصلہ شکن ہوتا ہے لیکن مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے بآسانی کامیاب ہوا جاسکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *