• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آزادی رائے ، سیاست ، صحافت اور سماج۔۔۔۔آصف محمود

آزادی رائے ، سیاست ، صحافت اور سماج۔۔۔۔آصف محمود

ہمارے ہاں آزادی اظہار رائے کی بات تو بہت کی جاتی ہے لیکن کیا ہمیں کچھ معلوم ہے آزادی اظہار رائے کی حدود کیا ہیں؟ آزادی اظہار رائے کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 19میں دی گئی ہے لیکن اسی آرٹیکل میں بتا دیا گیا ہے آزادی رائے کسی مادر پدر آزادی کا نام نہیں بلکہ اس کی کچھ حدود ہیں۔سچ تو یہ ہے ان حدود کو سب مل کر پامال کر رہے ہیں اور اس پامالی میں اہل سیاست سب سے آگے ہیں۔ آئین میں آزادی رائے پر قانونی طور پر جو قدغنیں عائد کی جا سکتی ہیں ، آئیے ان میں سے چند پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ پہلا اصول اسلام کی شان و شوکت ہے۔آئین میں طے کر دیا گیا ہے کہ اسلام کی شان و شوکت کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادی رائے کو محدود کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں اس باب میں آزادی رائے جو کچھ کر رہی ہے آپ کے سامنے ہے۔ایک جانب مذہب پر ایسی تنقید ہوتی ہے کہ الامان ۔وزیر اعظم کہہ دے کہ میں نے مدینے کی ریاست بنانا ہے تو بعض لونڈے چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں کہ مدینے کی ریاست میں تو لونڈیاں ہوتی تھیں کیا عمران اب ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں؟ان حضرات کو نہ لونڈی اور غلام کے معاملے کے سیاق و سباق کا علم ہے نہ فکری دیانت سے کوئی واسطہ۔ ان کے پاس بس ایک عدد آزادی رائے ہے جو محو رقص ہے۔یہ شعائر اسلام کی توہین کرتے ہیں اور اسے آزادی رائے کہتے ہیں۔دوسری جانب آزادی رائے کا یہ عالم ہے کہ سیاسی مفادات کے کھیل میں اسلام کو مشق ستم بنایا جاتا ہے۔ اختلاف سیاسی ہے لیکن حریف کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینا اور اسے یہودی اور قادیانی ایجنٹ بنا دینا اب ہماری سیاسی جدوجہد میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ دوسرا اصول پاکستان یا اس کے کسی بھی حصے کی سلامتی ، سالمیت اور دفاع ہے۔آپ آزادی رائے کے نام پر ایسا کچھ نہیں کہہ سکتے جو اس اصول کی نفی کرتا ہو۔ لیکن تماشا یہ ہے کہ ہمارے ہاں آزادی رائے کے نام پر قیام پاکستان پر آج تک نقد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ جرم ہے جس کی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123اے کے تحت دس سال تک قید کی سزا موجود ہے ۔لیکن ہمارے ہاں آزادی رائے کے باب میں اتنا نقص فہم موجود ہے کہ ہم آئین کو خاطر میں لانے کو تیار ہیں نہ قانون کو۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ آزادی رائے کے نام پر آپ ایسا کچھ نہیں کہہ سکتے جو دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات پر اثر انداز ہو۔ اور حکومت سمجھے کہ کچھ ایسا لکھا جا رہا ہے یا کہا جا رہا ہے جو ان دوستانہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو وہ آرٹیکل 19 کے تحت ایسا قانون بنا سکتی ہے جو اس عمل کی ممانعت کر دے۔ہمارے ہاں عالم یہ ہے کہ سر شام ٹاک شوز میں اپنی ہی ریاست کو سینگوں پر لے لیا جاتا ہے۔ ریاست ، اس کے مفاد ، اس کی سلامتی کی تو خیر کسی نے کیا فکر کرنی ، کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے دشمن کا بیانیہ ہے جو اپنے ذرائع ابلاغ پر اہتمام سے پیش کیا جا رہا ہے۔جن اہل دانش کا تعلق کسی این جی او سے ہے ان کی فکری بد دیانتی تو عیاں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے یہ لوگ کسی ایجنڈے پر ہیں اور ان کا کام صبح شام پاکستانی ریاست کے خلاف فرد جرم عائد کرتے رہنا ہے۔شاید اسی چاند ماری کے انہیں پیسے ملتے ہین۔ چوتھا اصول امن عامہ ہے۔آزادی رائے اگر امن عامہ پر اثر انداز ہو رہی ہو تو اس پر آرٹیکل 19 کے تحت پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ پانچواں اصول شائستگی ہے۔آزادی رائے جب شائستگی کی حدود سے باہر نکلے گی تو آئین اسے محدود کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ چھٹا اصول اخلاقیات ہے۔ آزادی رائے کے نام پر اخلاقیات کو پامال کرنے کی اجازت نہیں۔ لیکن آپ ذرا اپنی سیاسی قیادت کی گفتگو دیکھیے، جو کچھ پارلیمان میں کہا جاتا ہے ، جو زبان سیاسی جلسوں میں ، ٹاک شوز میں اور پریس کانفرنسوں میں استعمال کی جاتی ہے ، کیا اس کا شائستگی اور اخلاقیات سے کوئی تعلق ہے؟سامنے کی بات تو یہ ہے کہ جو جتنا زیادہ زبان دراز ہو گا اور حریفوں کے ساتھ جتنی زیادہ غیر شائستگی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرے گا وہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں اتنا ہی معتبر ہو گا۔ آزادی رائے کے باب میں بیان کیے گئے ان اصولوں کا تعلق صرف صحافت سے نہیں، ان کا اطلاق پورے سماج پر ہو گا جس میں اہل سیاست بھی آئیں گے اور سوشل میڈیا بھی۔سوشل میڈیا میں علم و خبر کے گوشے بھی آباد ہیں لیکن آرٹیکل 19 میں دیے گئے ان اصولوں کا جس بے رحمی سے سوشل میڈیا پر ابطال ہو رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان کیا کم تھے کہ اب باقاعدہ سوشل میڈیا ونگ بنا دیے گئے ہیں جہاں اس دیدہ دلیری سے جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس بے رحمی سے اخلاقیات کو پامال کیا جاتا ہے کہ آدمی ششدر رہ جاتا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے ان ونگز کا کام ہی غلط بیانی کرنا اور حریفوں کی کردار کشی ہے۔آزادی رائے کا شورو غل اپنی جگہ لیکن اس چاند ماری کا آزادی رائے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم آزادی رائے کے نام پر مادر پدر آزادی کے قائل ہو چکے ہیں۔ جس روز کسی نے آرٹیکل 19 کو اس کی روح کے ساتھ نافذ کر دیا ، ہما را دم گھٹنے لگے گا۔ کیونکہ آزادی رائے کا ہمارا تصور ہی ناقص ہے۔ ان ناقص تصور کے ساتھ دوسرا المیہ یہ ہے کہ حکومتوں کو بھی آزادی رائے کے باب میں آرٹیکل 19 میں دیے گئے اصولوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ان کی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ تنقید سے محفوظ رہیں۔چنانچہ یہاں ہر حکومتی اقدام کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ہر حکومت اپنے بد اخلاقوں اور بد زبانوں کو تھپکی دے کر دوسرے کے بد اخلاقوں اور بد زبانوں کو آرٹیکل 19 کے دائرے میں لانا چاہتی ہے۔ دائروں کا یہ سفر کب ختم ہو گا؟ کیا کبھی آرٹیکل 19 کا پوری دیانت سے اطلاق ہو سکے گا؟

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *