• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • وہ مائیں ہی نہیں جو عمران جیسے بچے پیدا کریں۔۔حبیب اللہ خان

وہ مائیں ہی نہیں جو عمران جیسے بچے پیدا کریں۔۔حبیب اللہ خان

25سال پہلے وہ دن کتنا شاندار تھا۔ لاہور شہر میں ایک ایسا ہسپتال بنانے کی بنیاد رکھی جانے والی تھی، جس میں کینسر جیسے موذی مرض کا غریبوں کے لئے مفت علاج ہونا تھا۔ ایک کرکٹ کے کھلاڑی کا اپنی ماں کی یاد میں ہسپتال بنانے کا خواب تھا۔ لاہور شہر جو پنجاب کا دل ہے اس کے ماتھے پر کسی رفاہ عامہ کا جھومر کسی ہندو نے یا سکھ نے تو سجایا مگر پنجاب کے ہزاروں ایکڑ کے مالکان ٹوانے ہوں یا لغاری، کھوسے،قریشی یا دولتانے ،کسی کو پچھلے دو سو سال میں لاہور میں ایک معمولی سا کلینک یا پرائمری سکول تک بنانا نصیب نہ ہوا۔

ممتاز دولتانہ کی کوئین میری مشنری سکول کی بلڈنگ کے پاس 15ایکڑ کی کوٹھی تھی اس میں سے اس نے کنال زمین تک مشنری سکول کوعطیہ نہ کی۔ دیال سنگھ کالج بنایا گیا۔ گلاب دیوی نے ہسپتال کے لئے گھر دے دیا۔ گنگا رام نے ہسپتال بنا دیا۔ کامرس کالج کے لئے کوٹھی دے دی۔ پنجاب کے بڑے بڑے پگڑ والوں نے گھوڑوں اور کتوں کی ریس کروائی اور عوام کی بھلائی کے لئے کچھ نہ کیا۔

لاہور شہر میں 47سال کی آزادی کے بعد ایک کھلاڑی ہسپتال بنا رہا تھا۔ پنجاب کے سرکاری افسران چیف سیکرٹری پنجاب پرویز مسعود کمشنر لاہور شاہد رفیع اور دوسرے تمام افسران اس مبارک دن کو کامیاب بنانے میں مصروف تھے۔ عمران خان کے اس عظیم تصور میں ہزاروں ڈونر شامل تھے جس میں راقم بھی تھا۔ لاہور کے اطراف میں کھیتوں کے درمیان ایک قطعہ کو ہموار کیا جارہا تھا اور وہاں پر ایک شامیانوں کے شہر نے ایستادہ ہونا تھا جس کا ڈونر راقم تھا۔ موجودہ شوکت خانم ہسپتال والی جگہ کے چاروں طرف کھیت تھے۔ کوئی راستہ بھی نہ تھا، نہر سے ایک کچی سڑک بنائی جا رہی تھی۔ ہسپتال والی جگہ کو ہموار کرکے دریاں اور قالین بچھائے جا رہے تھے۔ شامیانوں سے ایک شاندار ہال بنایا گیا تھا۔ افتتاح کے لئے چیف گیسٹ وزیر اعظم نواز شریف تھے اور مہمان خصوصی برصغیر  کے عظیم اداکار دلیپ کمار ہندوستان سے تشریف لارہے تھے۔ چیف سیکرٹری،کمشنر، آئی جی کے ساتھ تمام متعلقہ افسران دن رات اس کو شاندار تقریب بنانے پر کام کررہے تھے۔ ایک دن قبل آزمائشی کارروائی کی پریکٹس کی گئی۔ وہاں پر پرویز مسعود نے پوچھا کہ سٹیج سیکرٹری کون ہوگا اور جب ان کو بتایا گیا کہ نعیم بخاری سٹیج سیکرٹری ہونگے تو تمام سرکاری افسران چونک گئے۔ کیونکہ ان دنوں صرف ایک ہی ٹیلی وژن چینل PTVہوتا تھا اور اس میں نعیم بخاری ایک بہت مشہور پروگرام کرتے تھے اور نواز شریف پر بڑی جگتیں مارتے تھے۔ اور اس میں سرکاری افسران کی بھی درگت بنتی تھی۔ تمام سرکاری افسران میں سے کسی میں ہمت نہیں تھی کہ عمران کو منایا جائے کہ وہ سٹیج سیکرٹری نعیم بخاری کو نہ بنائیں۔ اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ پہلی تقریر کیونکہ عمران خان نے کرنی ہے تو وہ کس زبان میں ہوگی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان انگریزی میں تقریر کریں گے اس پر پریشانی تھی کہ چیف گیسٹ کو انگریزی زبان بولنے میں دشواری ہوتی ہے۔

ابھی یہ دونوں پریشانیوں پر سوچ و بچار جاری تھی کہ عمران خان بھی وہاں پہنچ گئے۔ اِدھر اُدھر کے انتظامات پر بات چیت ہونے کے بعد شاہد رفیع نے جھجکتے جھجکتے پوچھا کہ خان صاحب سٹیج سیکرٹری کون ہوگا؟۔ عمران خان نے بے اعتنائی سے کہا ،نعیم بخاری۔۔۔ شاہد رفیع نے کہا کہ خان صاحب نعیم بخاری نواز شریف کا مذاق اڑاتا ہے جس کی وجہ سے نواز شریف پریشان ہوگا تو تقریب کا ماحول نہ خراب ہو جائے۔۔

عمران خان نے ایک ہلکا سا قہقہ لگایا کہ میں اُسے سمجھاؤں گا مگر ہنس کر کہا کہ ”ہو بندر اور ٹپوشی نہ لگائے“ یہ ہو نہیں سکتا۔ جس پر سب نے بڑا قہقہ لگایا اور دوسرا سوال تقریر کا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ تقریر تو میں انگریزی میں کروں گا، ایک تو مجھے اُردو پڑھنی نہیں آتی ،دوسرا ساری دنیا کا میڈیا اور جرنلسٹ آرہے ہیں، جس پر میں نے اپنے پورے پروجیکٹ کو متعارف کروانا ہے تو اردو زبان میں کیا سمجھیں گے۔ اس لئے دونوں مطالبات عمران خان نہ مانا۔

عمران خان جب کرکٹ کا اچھا کھلاڑی تھاتو بہت ہی ایماندار اور منفرد کرکٹر تھا۔ اسکے دیانتداری کے رویے کی وجہ سے تمام دنیا کے کھلاڑی اسکی عزت کرتے تھے۔ اپنے اس کردار کی وجہ سے اسکے گرد نانظر آنے والا ہالا ہے جسکی وجہ سے نہ تو کوئی اس سے بے وجہ بے تکلف ہوتا تھااور ہرایک احترام کرتا ہے اور اسکی عزت کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے جب تمام نوکر شاہی کی بات ماننے سے انکار کیا تو دوبارہ کوئی بھی نہ بول سکا۔ فنکشن والے دن سٹیج پر تین کرسیاں رکھی گئیں۔ نواز شریف،دلیپ کمار اور عمران خان ۔۔پہلی تقریر میزبان عمران نے انگریزی میں بولنا شروع کیا اور پہلا فقرہ ہی دھماکہ خیز تھا۔
Mr. Prime Minister I do not want to beg anything from you. I have collected 11 crore rupees and we are going to spend 10 crore rupees at first stage.

اس کے بعد عمران نے اپنے پروجیکٹ کے بارے معلومات دیں کہ کس طرح یہ کام کرے گا اور کس طرح کینسر کے غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ عمران خان کی تقریر کے بعد نعیم بخاری نے مائیک پر آکر بڑی خوشگوار گفتگو نواز شریف کے بارے میں کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب نواز شریف تقریر کے لئے آیا تو اسکا موڈ انتہائی خراب تھا اور وہ لکھی ہوئی تقریر بھول گیا اور انتہائی بیہودہ قسم کی باتیں کرنی شروع کردیں ”آپ مانگنا نہیں چاہتے آپ کے پاس اخراجات سے زیادہ رقم اکٹھی ہو گئی آپ کو تو پھر اور رقم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔“ نواز شریف نے عجیب و غریب بونگیاں مارنی شروع کردیں۔

تمام حاضرینِ تقریب ششدر رہ گئے۔ یہاں تک کہ دلیپ کمار جیسا دانشور انسان بھی پریشان ہو گیا۔ اس کے بعد دلیپ کمار مائیک پر آئے اور حیرت سے نواز شریف کو دیکھ کر کہا کہ میں نے اتنا سادہ لوح وزیراعظم زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے۔ جس پر حاضرین تقریب نے بڑا قہقہ لگایا۔ اس کے بعدوہ فقرہ بولا کہ آج تک لوگوں کو یاد ہے ”وزیراعظم صاحب اب تو وہ مائیں ہی نہیں ہیں جو عمران خان جیسے بچے پیدا کرتی ہیں۔ آفرین ہے اس ماں پر جس کا یہ بیٹا ہے۔“

”مجھے دل کی تکلیف ہے اور میں دو گھنٹے سے زیادہ ہوائی سفر نہیں کرسکتا میں بنگلور سے آرہا ہوں اور میں نے تین فلائٹس تبدیل کی ہیں اور یہ سارا کچھ میں نے عمران خان کے لئے کیا ہے۔ آج یہ تاریخی گھڑی ہے ایک کھلاڑی اپنی ماں کی یاد میں ایک ایسا ہسپتال بنا رہا ہے جس میں غریبوں کا مفت علاج ہوگا۔ اس سے حساب لینے کی بجائے اسکی مالی امداد کریں تاکہ یہ ایک ناممکن کام مکمل ہوسکے۔“ عمران خان سے محبت کرنے والے بہت سارے لوگ انگلستان۔ امریکہ اور یو اے ای سے بھی آئے ہوئے تھے۔ وہاں پر لوگوں نے جوش و خروش سے بڑے عطیات کا اعلان کیا۔

عمران خان جب ایچی سن کالج میں پڑھتا تھا اور کرکٹ کا ایک اوسط درجہ کا کرکٹر تھا۔ چوہدری نثار علی اس وقت اس سے اچھا کرکٹر تھا۔ مگر عمران خان انتھک محنت، مسلسل جدوجہد اور میرٹ پر یقین رکھنے والا انسان ہے۔ اپنی بے پناہ محنت اور جنون سے دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں شامل ہوا اور پھر دنیا کا بہترین آل راؤنڈر بنا۔ عمران خان کے زمانے میں جس ملک میں ٹیسٹ ہوتا تھا دونوں ایمپائر اس کے اپنے ملک کے ہوتے تھے جسکی وجہ سے باہر سے آنے والی ٹیم شاذونادر ہی جیت سکتی تھی عمران خان نے ہر کرکٹ کھیلنے والے ملک کو اس کے ملک میں ہرایا۔ اور کرکٹ کا ایک عظیم کپتان بن گیا۔ یہ سب کچھ اس نے ذاتی محنت اور جنون سے حاصل کیا۔ اس کو سمجھنے میں لوگوں کو دقّت کا سامنا ہے۔ جتنے بھی ڈونر جو ہزاروں کی تعداد میں ہیں عمران خان کبھی بھی انکے عطیہ کی رقم اپنے آپ پر ذاتی احسان مندی نہیں سمجھتا اسکی بڑی مضبوط سوچ ہے کہ وہ خود یا کوئی دوسرا اسکے پراجیکٹ پر کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر ایک بھلائی کا کام ہے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی دے سکتی ہے اس سارے کام کا کسی پر کوئی احسان نہیں ہے۔ اس لئے وہ کسی کی بھی ناجائز مدد کبھی نہیں کرے گا وہ خود میرٹ کی پیدوار ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ اسکو کسی سفارش پر نہیں ملا تھا۔ دنیا کا بہترین آل راؤنڈرکرکٹر کسی سفارش پر نہیں بنا تھا۔ ورلڈکپ کی چمپئین شپ کسی سفارش سے نہیں جیتی تھی۔ انگلستان کی ٹاپ اشرافیہ میں اپنے لئے عزت۔احترام اور محبت کسی کی سفارش پر نہ لی تھی اس سب کے لئے اس نے بے پناہ محنت کی تھی۔ اور ہر ایک سے توقع کرتا ہے کہ وہ میرٹ پر اپنا کام کرے۔ شوکت خانم ہسپتال کے لئے تقریباً 10ارب روپیہ ہر سال ڈونرز اسکو بھیجتے ہیں جس سے غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے 25سال میں 250ارب کا وہ امین ہے۔آج 25سال بعد بھی شوکت خانم ہسپتال ایک شاندار ہسپتال ہے۔
پاکستان کے میڈیا نے عمران خان کو بہت سپورٹ کیا۔ ہر ایک توقع رکھتا تھا جب وہ وزیراعظم بنا ہے تو ان سب کی سپورٹ کو یاد رکھے گا۔ وہ یاد ضرور رکھے گا مگر ناجائز رقم نہیں دے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *