ذہنیت کا شیرازہ۔۔اسکزوفرینیا۔۔۔۔۔۔۔گوہر تاج

ستر اور اسّی کی دہا ئی میں پروین بابی کا شمار بالی وڈ کی مقبول ترین اداکاراؤں میں تھا۔ شوخ و چنچل، گلیمر سے بھر پور، بے باک ہیروئن۔ باوجود شہرت کی بلندیوں پہ پہنچ جانے کے، وہ بتدریج پردہ اسکرین سے غائب ہوتی چلی گئی۔ پچاس سے زیادہ فلموں میں کام کرنے اور ہزاروں پر ستاروں کے ہجوم میں گھرنے والی پروین ایک دن اپنے فلیٹ میں تنہا مردہ حالت میں پائی گئی۔

اب ذرا ہالی وڈ کی جانب چلتے ہیں جہاں2001میں ایک فلم ”اے بیوٹی فل مائنڈ“ آسکرایوارڈ کی حقدار قرار پاتی ہے۔ حقیقی زندگی پہ مبنی اس فلم کا بنیادی کردار امریکی تاریخ کا اہم ریاضی دان جون نیش تھا، جس نے کئی اہم تھیوریوں کی بنیاد ڈالی اور قابلِ  ذکر کام کیا1949میں جان نیش کو نوبل میموریل پرائز ان اکنامک سائنس کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔ گو2015 میں جان نیش کی موت کار کے ایک حادثے میں ہوئی تاہم اپنی زندگی میں اسکا ذہنی رابطہ بارہا حقیقت سے ٹوٹتا رہا۔

اب میں آپکو اپنے بچپن میں  لے چلتی ہوں کہ جہاں اکثر ایک عزیز روشن آنٹی ہمارے گھر آکر قیام کیا کرتی تھیں۔ جو عرصہ قبل اٹھارہ سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ شوہر کی موت کے وقت وہ ایک سالہ بچی کی ماں تھیں۔ انکی ذہنی حالت اسوقت تو سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر یہ یاد ہے کہ وہ اَن دیکھے لوگوں سے گفتگو کرتیں۔ انہیں عمر خیام کی شاعری کا انگریزی ترجمہ سنا رہی ہوتیں۔ کبھی ہنستیں کبھی روتیں۔وہ وقت کہ جب ذہنی امراض معاشرتی تہمت سمجھے جاتے تھے بلکہ ہمار معاشرے میں تو ابھی بھی سمجھے جاتے ہیں اور ان کے اپنے انکی بیماری سے شرمندہ رہتے تھے مجھے خوشی ہے کہ میری ماں نے ہمیشہ انکا خیال رکھااور نا  صرف ان کی بیماری کو قبول کیا بلکہ پورے احترام اور صبر سے ان کی تیمارداری کی۔

آج میں جانتی ہوں کہ پروین بابی، جان نیش اور روشن آنٹی جس ذہنی مرض میں مبتلاء تھے اس کو اسکرزوفیرینیا کہتے ہیں۔بدقسمتی سے باوجود اس ذہنی مرض کی شدید سنگینی کے عوام کی اکثریت اس کے متعلق آگہی نہیں رکھتی۔ خاص کر پاکستان جیسے ملک میں جہاں نفسیاتی معالج کے بجاے تعویز گنڈے اور دعائیں دم کر کے علاج کروانے کا رواج زیادہ مقبول ہے۔

تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اسکرزوفیر ینیا آخر کیا ہے؟
دیکھا جائے تو اس مر ض کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی وجود کی۔ انسانی جذبات کے جنون اور بے اعتدالی کے متعلق تحریریں ابتدائی کتابوں میں ملتی ہیں۔ تمام مذہبی کتابوں میں اس غیر متوازن ذہنی کیفیت کے حامل افراد کے متعلق درج ہے۔ ماہرین طب و ذہنی امراض نے اسکو سمجھنے اور علاج کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خاصہ کام کیا۔ بالآ خیر 1980 ؁ میں اس بیماری کو ”اسکرزوفیرینیا“کہا گیا جو دو یونانی لفظوں کا مرکب ہے۔ اسکیزان (schizein)یعنی تقسیم ہو جانا اور فرن (pheren)معنی ذہن کے ہیں۔یہ نام یوجین بلیولر (Eugene Bleular)نے دیا۔ اس کے نظریہ کے مطابق ان مریضوں میں ذہنی توازن کھونے کے باعث انکا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔

بیماری کے سبب ذہنی افعال،جو عام حالت میں باہم پیوست رہتے ہیں،ایک دوسرے سے جدا ہونے کے سبب بے ربط ہو جاتے ہیں۔ اسکروزفیرینیا طویل دورانیہ تک جاری رہنے والا سائکوٹک مرض ہے جسکی شدید ذہنی علامات میں مبتلا افراد اپنے اردگرد کے حالات، واقعات اور افراد سے رابطہ توڑ لیتے ہیں اور اپنے خیالات، احساسات اور حسی تجربات پہ قابو نہیں رکھ پاتے۔ان مریضوں کی ایک تصوراتی دنیا ہوتی ہے۔جس میں وہ قید ہوتے ہیں اور حقیقی دنیا سے ان کا ربط ہی نہیں رہتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو غیر حقیقی یا خود ساختہ مفروضات کی بناء پر ناقابل فہم ہو جاتا ہے۔جسکی وجہ سے ان کی زندگی کا ہر پہلو اثر انداز ہوتا ہے۔مثلاً سماجی، معاشی اور پیشہ روانہ صلاحیت۔ جو پہلے سماج کے مروجہ معیار کے مطابق اور متوا زن نظر آتی تھی اب بیماری کے باعث غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق یہ مرض بلا تخصیص دنیا کے ایک فی صد افراد کو لاحق ہے۔گو یہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ مردوں میں عورتوں کے مقابلہ میں نسبتاً کم عمری میں علامات ظاہر ہوتی ہیں

ابتدائی علامات:.
کچھ لوگوں میں اسکرزوفیر ینیاکی علامات اچانک ہی بغیر وارننگ کے ظاہر ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر میں علامات آہستگی سے غیر محسوس طریقہ سے فرد کی شخصیت کا حصہ بنتی ہیں اور اس طرح شدید حملہ سے بہت پہلے ہی بتدریج علامات روزمرہ کے امور کی انجام دہی پہ اثر انداز ہونے لگتی ہیں گو سب سے پہلے ان تبدیلیوں کو محسوس کرنے والے خاندان کے افراد اور دوست احباب ہو سکتے ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ خود انہیں پتہ ہو کہ اصل علامات کیا ہیں۔

سب سے عام ابتدائی علامات مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ اداسی اور دوستوں اور خاندان والوں سے دوری
2۔چڑچڑاہٹ، غصہ اور تنقید پہ شدید ردِعمل
3۔ دوستوں اور سماجی حلقہ میں تبدیلی
4۔ دلچسپی اور توجہ کا محور تبدیل ہو جانا۔
5۔ اپنی ذاتی صفائی و ستھرائی کا خیال نہ رکھنا۔
6۔ سپاٹ تاثرات (دیکھنے اور اظہار میں)
7۔عجیب اور غیر منطقی بیان، الفاظ یا ان کی ادائیگی غیر مناسب انداز میں ہنسنا یا رونا۔
8۔نیند میں بے قاعدگی
9۔ اسکول کے کام میں دشواری اور تعلیمی کارکردگی میں کمی۔
تاہم یہ علامات بہت سے دوسرے ذہنی یاطبی مسائل کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے خصوصا ً نوجوانوں میں بلوغت کے وقت رویہ میں اس قسم کی علامات عام ہے لہذا وجہ کوئی بھی ہو طبی مشورہ ضرور کیا جائے تاکہ علاج شروع ہو سکے۔
بتدریج اور آہستگی سے شروع ہونے والے مرض اسکرزوفیر ینیا کی علامات بالآخر شدید علامات کی صورت ظاہر ہوتی ہیں۔ اس مرض کی سب سے زیادہ عام قسم پیرانوائڈ(Paranoid) اسکزوفینیا ہے۔جس کی بنیادی علامت مریض کا شکی مزاج ہونا ہے۔اسکا ”توہم” یقین بن کر اسے پریشان کر تا ہے۔ مثلا ً ریڈیو یا ٹی وی پر اس کے خلاف اعلان نشر ہو رہا ہے یا کوئی شخص یا گروہ اس کی جان کا دشمن ہے۔گویا مریض مختلف قسم کے واہموں اور وسوسوں میں مبتلا ہو کر حقیقت سے پوری طرح منکر ہو جاتا ہے۔اس صورت میں اسے روزمرہ کے امور کی انجام دہی میں مشکل کے علاوہ تعلقات سے متعلق مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا علاج کبھی شراب تو کبھی منشیات میں ڈھونڈتا ہے۔ایسے مریض باہر کی دنیا سے منہ موڑ کر خوف، تنہائی اور کنفیوژن کے عالم میں ہوتے ہیں لہذا اکثر میں خود کشی کا تعلق بالخصوص سائیکوٹک(شدید علامات) کے عالم میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

علامات:۔ کسی بھی مرض کی تشخیص کے لیے علامات پہ غور کرنا ضروری ہے۔وہ علامات جو اسکرزوفیر ینیا سے مخصوص ہیں ان کو ماہرینِ نفسیات نے مثبت اور منفی علامات کے مجموعوں میں تقسیم کر دیا ہے۔مثبت علامات وہ ہیں جو کہ نارمل حالت میں نہیں ہوتیں بلکہ مرض کے ساتھ وارد ہوتی ہیں مثلاً  اوہام،شکوک،بے ربط گفتگووغیرہ،جبکہ منفی علامات وہ ہیں کہ جو مریض کی صلاحیتوں میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ مثلاً جذباتی اظہار کی کمی، چیزوں میں عدم دلچسپی وغیرہ جو نارمل زندگی کاحصہ ہیں۔

پانچ قسم کی علامات جو مثبت اور منفی ہیں، درج ذیل ہیں۔
1۔ ڈیلیوزن یا شکوک (Delusion):۔ یہ غلط قسم کے وہ تصورات ہیں کہ جس پر مریض بغیر کسی وجہ یا سبب کے یقین رکھتا ہے۔ مرض کی یہ علامت 90 فی صد لوگوں میں مشترکہ طور پہ پائی جاتی ہے۔مثلاََ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے تاکہ منصوبہ بندی کے تحت جان لے سکے۔جیسے پانی میں ریڈیو ایکٹو ذرات کی ملاوٹ یا کھانے میں زہر کی آمیزش۔
ان کو یہ بھی شک ہو سکتا ہے کہ ٹی وی یا ریڈیو سے ان کی بابت پیغامات نشر ہو رہے ہیں۔ کچھ کو اس کا یقین ہوتا ہے کہ وہ کسی غیر انسانی یا دوسرے سیارے کی مخلوق کے قابو میں ہیں۔جو اپنی سوچوں کو ان کے دماغ میں منتقل کر رہا ہے۔ بہت سے مریضوں کو عظیم شخصیات مثلاً  حضرت عیسیٰ یا امام مہدی کا دعویٰ تو کسی کو غیر مرئی صلاحیتوں کا دعوی۔اندازہ لگائیں کہ پاکستان میں جہاں جن، بھوت، بری ارواح یا مافوق الفطرت اشیاء اور تعویذ کا حوالہ عام ہے۔ وہاں ان مریضوں کو کیا سمجھا جاتا ہوگا؟

2۔ اوہام (Hallucination):۔ اس میں حواسِ خمسہ بغیر کسی محرک یا اصل وجود کے وہم کی بنیاد پہ محسوس کرتے ہیں۔مثلا ً مریض وہ آوازیں سنتے ہیں جو موجود نہیں۔ وہ لوگ دیکھتے ہیں جن کا وجود نہیں۔اکثر اپنے جسم پر چیزوں کو رینگتا محسوس کرتے ہیں تو کچھ زبان پہ ذائقہ اور اکثر خوشبو اور بدبو محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔جو اصل کے بجائے ان کے ذہن کی اختراع ہوتی ہے۔

3۔ بے ربط سوچ اور گفتگو Disorganized Thinking(Speech):۔
چونکہ مریضوں میں توجہ مرکوز کرنے اور سوچنے کی اہلیت میں کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کا اثر گفتگو پہ بھی پڑتا ہے۔ بے ربط فکر اور گفتگو کو محسوس کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ایک موضوع سے فوری ہٹ کر دوسرے موضوع پہ گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ جو غیر منطقی ہوتی ہے۔جس میں تسلسل اور توازن کی کمی ہوتی ہے۔ مریض نئے الفاظ اور جملوں کی اختراع کرتے اور کبھی کسی خاص جملے یا الفاظ کو بار بار دھراتے ہیں۔اس ذہنی بے ربطگی کو (Loosing of Association) کہا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ بے مقصد گفتگو ہوتا ہے۔

4۔ بے ربط حرکی رویہ (Extremely Disorganized or abnormal motor behavior):۔
ان مریضوں میں بغیر کسی حدف کے زندگی میں بے مقصدیت پیدا ہو جاتی ہے۔جس کی وجہ سے وہ اپنے کام یا ذات کا خیال رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
بغیر کسی مقصد کے جسمانی حرکت کا دھرانا یا بعض دفعہ کافی دیر تک جسم کو ایک ہی حالت میں رکھنا۔ دوسروں کی ہدایات ماننے سے گریز وغیرہ کا رویہ۔

5۔ منفی علامات:۔ وہ علامت جو صحت مند نارمل زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اسکرزوفیر ینیاکے مریضوں میں ان کی کمی ہو جاتی ہے لہذا ان کو منفی علامات کہا جاتا ہے مثلاً کسی کام کی لگن یا جستجو کی کمی، جذبات کے اظہار اور تاثرات میں کمی، سپاٹ اور بے تاثر چہرہ، ماحول سے لاتعلقی، بے زاری اور الگ تھلگ رہنے کی خواہش۔گفتگو میں مشکل اور یکساں یا تاثرات سے عاری ایک جیسے لب و لہجہ میں گفتگو وغیرہ۔

مرض کے عوامل:۔ باوجود اس کے کہ طب اور نفسیات کے شعبے میں گرانقدر ترقی ہوئی ہے۔ اسکرزوفیر ینیا اپنی پیچیدگیوں کے سبب ابھی بھی ایک گتھی کی صورت ہے۔ ایک ایسا راز جسکی پرتوں کو کھولنا ضروری ہے تاکہ مرض اور مریض کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

جینیاتی عوامل:۔ اس مرض کے جو حیاتیاتی عوامل ہیں ان میں گو جینیاتی مادوں کا کردار بھی اہم ہے یعنی اگر ماں یا باپ میں سے کسی کو یہ مرض ہو تو بیماری ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں مگر ایسا بھی ہے کہ بہت سے مریضوں میں موروثیت کا کردار نہیں۔ امریکہ کے ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (2019) کے مطابق موروثی مادوں میں تبدیلی اور ماحولیاتی عوامل دونوں کا کردار اہم ہے مگر اس میں ا بھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کیمیائی عوامل:۔ اس مرض میں مبتلا مریضوں کے دماغ میں پیدا ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں اہم ہیں۔ یہ کیمیائی مادے (نیورو ٹرانسمیٹر) کہلاتے ہیں جو ہمارے اعصابی خلیے بناتے ہیں اورہماری سوچ، محسوسات اور افعال میں توازن رکھتے ہیں۔ مثلا ڈوپامائن (Dopamine)، سیروٹینن (Serotonin) یا گلوٹا میٹ (Glutamate) وغیرہ۔ان کا عدم توازن بیماری کا محرک بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کی ساخت میں تبدیلی اور نشونما میں رکاوٹ بھی اہم ہے۔

ماحولیاتی عوامل:۔ ماحولیاتی عوامل کا کردار تو ماں کے رحم سے شروع ہو جاتا ہے مثلاً حاملیت کے دورانیہ میں وائرس انفیکشن، پیدائش کے وقت اوکسیجن کی کمی، اس کے علاوہ نوزائیدگی میں وائرس انفیکشن، بچپن میں والدین کی جدائی، کم عمری میں جسمانی، جذباتی اور جنسی تشدد، ہجرت کا تجربہ، غربت اور معاشی مسائل، جنگ و جدل جیسے ماحولیاتی عوامل بھی ہیں جو ہماری شخصیت اور نفسیات پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

مرض کی تشخیص:۔ تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دوسرے ذہنی امراض کے امکانات کو مسترد کیا جائے کیونکہ اکثر منشیات یا دوسری ادویات اور طبی امراض میں بھی اسکرزوفیر ینیاکی سی علامت دیکھی جا سکتی ہیں۔اس کے لیے تفصیلی طبی معائنہ اور لیب ٹیسٹ کے علاوہ ایم، آئی، آر اور سی، ٹی اسکین جیسے ٹیسٹ بھی کرائے جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ذہنی امراض کے معالج کا تفصیلی معائنہ ضروری ہے۔جو مرض کے حتمی ہونے کی رپورٹ تیار کرے۔

علاج:۔ یہ مرض طویل دورانیے کا ہے لہذا علاج بھی زندگی بھر کا ساتھی ہے۔اس سلسلہ میں علامات کو قابو کرنے کے لیے ادویات کے ساتھ تھرپی ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی لائف اسٹائل میں تبدیلی اور سماجی تعاون بہت اہم ہے۔

ادویات:۔ وہ ادویات جو سائیکوٹک علامات (اوہام، شکوک، وسوسوں اور غلط سوچ) کو کم کر سکیں اہم ہیں۔ گذشتہ پچاس سالوں میں میڈیسن کی دنیا میں انقلاب آ گیا ہے اور اب یہ ممکن ہو سکا ہے کہ مریضوں کو بجائے زنجیروں قید کرنے کے باعزت زندگی کا تحفہ دیا جا سکے۔ (تاہم دوائیوں کا نام یہاں درج کرنا مناسب نہیں کہ یہ صرف معالج کا کام ہے)

تھراپی:۔ دوائیوں کے علاوہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مریضوں کو وہ طریقے بتائے جائیں جو ان کی زندگی کا معیار بہتر کریں اور بیماری سے متعلق چیلنجز کا مقابلہ کریں۔اس سلسلے میں گروپ تھرپی خاص کر اہم ہے۔ تاہم اس کے علاوہ بھی سماجی تعاون، اسٹرس سے نبرد آزمائی، باقاعدگی سے ورزش، اچھی گہری نیند، الکوحل اور منشیات سے پرہیز اور صحت بخش غذا کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔خاص کر مچھلی سے حاصل اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، اخروٹ وغیرہ موڈ، توجہ اور تھکن کو دور کرنے میں معاونت کریں گے۔

لوگوں سے تعلقات کا ایک ذریعہ رفاعی کاموں میں حصہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے پسند کے مشاغل اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، خود اعتمادی اور اندرونی مسرت کا باعث بنتا ہے۔اس سلسلے میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیئے مزید کلاسیں لی جا سکتی ہیں یا کلب میں شمولیت حاصل کی جائے اور زندگی کو بھرپور طریقہ سے گزارنے کی کوشش کی جائے۔ یاد رکھیے مرض تو رہے گا مگر اس کی علامات کو قابو کرنے میں دوا اور تھرپی کے علاوہ ہمارا اپنا ہاتھ بھی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *