تجدید ، مغرب زدگی یا اسلامائزیشن ۔۔۔عبدالغنی/قسط2

جمہوریت  کے حوالے سے اس قدر تفصیلات کا حاصل یہ ہے کہ پلورل ازم یا تکثیریت ، اور سیکولر ازم بھی اسی کے ساتھ جڑی ہوئی چیزیں ہیں ۔ سیکولر ازم کا حاصل یہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی ایسی حکومت نہ ہو جو کسی خاص مذہب کے لوگوں کے  لئے اضافی  حقوق و سہولیات  کا مطالبہ کرتی ہو اور دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک کرتی ہو ۔ اس تصور کو مسلم اہل روایت  میں سے جس طبقے نے قبول کیا ہےتو انہوں نے اس  لیے قبول کیا ہے کہ  اسلام تو ہے ہی ایسا مذہب جو دیگر مذاہب کے لوگوں کو مکمل حقوق دیتاہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتاہے ۔ اس کو خالصتاً  اس نظر سے دیکھنا کہ انہوں نے غالب سو چ اور فکر ہونے کی وجہ سے اس کو قبول کیا ہے اگر چہ یہ اسلام کے یکسر خلاف ہے درست نہیں ہے ۔ انہوں نے اس فکر کو اسی  تصور کے مطابق قبول نہیں کیا ہے جس کے تحت اس کی ایجاد ہوئی ہے دوسرا اس کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں جانچ پرکھ کر قبول کیا ہے ۔

کسی کو اس فکر سے اختلاف ہوسکتاہے اور وہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں بتاسکتا ہے کہ یہ فکر کن اسلامی اصولوں سے ٹکراتی ہے لیکن ایک نیا نظریہ اور فکر آنے کے بعد اس  کو جب اسلامی اصولوں کی روشنی میں  دیکھا جائے گا تو  خالصتاً  اجتہاد  ہوگا ۔ اس اجتہاد میں کوئی ایک فریق دوسرے کو الزام نہیں دے سکتاہے کہ اس کی نیت درست نہیں یا یہ دوسرے نظام سے مرعوب ہوگیا ہے اس لئے اس کو قبول کررہا ہے ۔ جمہوریت چونکہ بہت عام ہوچکی ہے اس لئے اس میں ہمیں ایسی کنفیوژن نہیں ہوتی ہے لیکن دیگر فکروں  کے ہمارے ہاں رائج نہ ہونے یا پوری طرح  واقف نہ ہونے کی بناء پر کہ ا ن کو کن شرائط و اصولوں کے مطابق قبول کیاگیا ہے ہمیں ان سے اجنبیت کا سامنا ہے ۔ سیکولر ازم کی ایک تشریح یقینا ً یہی ہے کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں  ہوگا اور وہ لامذہب ہوگی لیکن دوسری تشریح یہ بھی ہے کہ حکومت تمام مذاہب کو ساتھ لے کر چلے گی ۔

تکثیریت یا پلورل ازم  کو اگر دیکھیں تو اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ تمام مذاہب حق پر ہیں  ۔  لیکن اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسامعاشرہ جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں اس میں باہمی احترام اور رواداری سے رہا جائے اور کسی دوسرے مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھنے والے کے مذہبی جذبات ، عقائد اور محترمات کو ٹھیس نہ پہنچا ئی جائے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیکولر ازم اور پلور ل ازم  جمہوریت کے ساتھ جڑی ہوئی چیزیں ہیں لیکن جمہوریت کو قبول کرنے کے باوجود ان دیگر اصطلاحات سے ہمیں وحشت و نفرت ہے ۔ مختلف جگہوں پر اس کے درست تناظر کو دیکھنے سے معاملات اس قدر گھمبیر نہیں رہتے ہیں جس قدر نظر آتے ہیں ۔

اس جگہ اسلامی بینکنگ کی مثال اگر دوں تو بہتر طور پر سمجھ میں آئے گی کیونکہ علماء کرام کی اکثریت نہ صرف اس کو قبول کرچکی ہے بلکہ اس سے فائدہ بھی اٹھارہی ہے ۔ اب ایسا نہیں ہوا کہ ان کو فائدہ نظرآیا تو انہوں نے کفر کے  نظام کو اسلامی لبادے میں ملفوف کرکے قبول کرلیا ہے ۔ اگر سطحی نظر سے دیکھا جائے تو اسلامی بینکنگ اور دیگر میں کوئی فرق نظر نہیں آتاہے ۔ لیکن اس نظام کا اگر مطالعہ کریں تو جن لوگوں نے اس کو قبول کیا ہے خالصتا اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کو دیکھتے ہوئے قبول کیا ہے ۔ اسی طرح اس نظام کی جو بنیادی خرابیاں ہیں ان کو دور کرنے کے بعد اس کو قبول کیا ہے ۔

ہمارے اہل روایت میں سے علماء کا ایک طبقہ اس کو اسی طرح تعبیر کررہاہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کو پروموٹ کررہے ہیں انہوں نے اس نظام کو قبول نہیں کیا ہے بلکہ اس نظام نے اپنے مفادات کی خاطر ان کو سپیس دی ہے ۔ اس موقف کو بہتر طور پر بیان کیا جاسکتاہے لیکن جن لوگوں نے اس کو قبول کیا ہے انہوں نے کن اصولوں کے تحت قبول کیا ہے  ان کو دیکھنا انتہائی اہم اور ضروری ہے ؟ اسی طرح علماء کا جو طبقہ اس نظام کو قبول نہیں کررہا ہے ان کے پاس اس کا متبادل کیا ہے ؟

متبادل کسی ایک چیز میں نہیں ہوتاہے بلکہ پورا نظام کڑیوں کی صورت میں آپس میں ملا ہوتاہے ۔ ہمارے  رجرڈ اہل روایت اور متجددین اہل روایت دونوں کے پاس ان چیزوں  کا واحد متبادل یہی ہے کہ اس تمام نظام کو تلپٹ کیا جائے اور بعینہ وہی قدیم نظام لایا جائے ۔ کسی بھی قدیم نظام کو بعینہ اسی صورت میں لانا ممکن نہیں ہوتاہے کیونکہ قدیم نظام کے مختلف ادوار کو بھی دیکھیں تو اس کے مختلف شیڈز دکھائی دیتے ہیں  ۔ لیکن ان لوگوں کے پاس اگر اس کی کوئی صورت ہے تو اس کو صحیفہ امام غائب کی مانند غار میں چھپا رکھنے کی بجائے لوگوں کے سامنے لائیں تاکہ مسلمان اپنے قدیم منابع سے جڑ سکیں ۔ اگر یہ بھی قدیم نظام کو بعینہ نہیں لانا چاہتے ہیں تو اس قدیم نظام کے اساسی تصورات اور اصولوں کو دیکھتے ہوئے اس کے نفاذ  کے لئے کوئی فکر پیش کرنے میں جہاں تک ان کو آزادی حاصل ہے کسی دوسرے کو بھی حاصل ہونی چاہیے ۔

ہمارے ہاں جو طبقہ تجدید یا اسلامائزیشن کے نام پر کوشش کررہاہے وہ اسلام کے موجودہ دور میں نفاذ کے حوالے سے کسی سطح کی کوشش کررہاہے لیکن جو لوگ تجدید اور اسلامائزیشن دونوں کو بُراجانتے ہوئے احرام کی مقدس چادریں اوڑھے حرم کی  چار دیوار ی میں پناہ گزیں تنقید سے بالاتر ہیں وہ لوگ نظام کی  بالکیہ تباہی کے بعد پکی پکائی دیگ کے رکھوالے بننے  کی سوچ کے علاوہ کیا کررہے ہیں ۔ ان کے پاس اس نظام کا واحد حل یہی ہے اس کو کسی طرح بنیادوں سے منہدم کردیا جائے اس کے بعد کیا کیاجائے ان کو امیر المؤمنین اور خلیفۃ المسلمین بنادیا جائے ۔ اس کے   بعد کیا کرنا ہے اس کا ان کو بھی نہیں پتہ ۔

آخر میں ایک بہت بنیادی سوال ذکر کرنا چاہوں گا اگر چہ ساری گفتگو اس کے گرد ہی گھومتی رہی لیکن اس کا علیحدہ سے ذکر کرنا ضروری ہے ۔ جب تجدید کی بات کی جاتی ہے تو اس میں مغرب کے افکار و نظریات کو ہی سامنے رکھ کر کیوں تجدید کی جاتی ہے صرف اسلامی منابع  سے ہی دور حاضر کی پیچیدگیوں کا حل کیوں نہیں ڈھونڈ ا جاتاہے ؟ میرے خیال میں دو الگ چیزیں ہیں ایک مغرب کے افکار و نظریات دوسرا زمانی تبدیلیاں  و پیچیدگیاں ۔ مغرب سے جو افکار آتے ہیں وہ کیاخالص مغرب کے ہیں یا زمانی تبدیلیوں کا بھی ان میں کوئی اثر ہےاور وہ دنیا میں یکساں طور پر پھیلے ہوئے اور مقبول عام افکار ہیں جن سے ہمیں واسطہ ہے ۔ میرے خیال میں یہ دونوں چیزیں ملی ہوئی ہیں ۔ اس لئے جب ہم ان افکار کے حوالے سے غور کرتے ہیں تو ایک جہت مغرب کے افکار ہونے کی ہے اور دوسرا زمانی تبدیلیوں کے زیر اثر ان افکار کے دنیا بھر میں مقبول ہوجانے کی ہے اس لئے ان کی روشنی میں بات کرنا ضروری  قرار پاتاہے ۔یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان افکار و نظریات کی روشنی میں بات کرنا ایک ایسی مجبوری ہے جس  سے چھٹکارا نہیں مل سکتاہے ۔ ان تمام اصطلاحات سے الگ اصطلاحات ہم وضع کر بھی لیں تو پھر بھی بنیادی طور پر اسی فکر سے سابقہ رہتاہے جیسا کہ اسی کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *