• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط1

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط1

انتساب
دانائی کی تلاش میں
اپنے ہمسفر
ڈاکٹر بلند اقبال کے نام

؎ اپنی پہچان کرنے نکلا تھا
ایک عالم سے روشناس ہوا
عارفؔ عبدالمتین

؎ فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
فیضؔ احمد فیض

؎ منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں
اپنے ہی پاؤں میں زنجیر پڑی ہو جیسے
احمد فرازؔ

سنگِ میل
۱۔ تعارف
۲۔ سٹیفن ہاکنگ اورکائنات کا ارتقا
۳۔چارلز ڈارون اور زندگی کا ارتقا
۴۔ سگمنڈ فرائڈ اور انسانوں کا نفسیاتی ارتقا
۵۔ یووال ہراری اور انسانوں کا معاشرتی ارتقا
۶۔ انسانوں کا فلسفیانہ ارتقا
۔ ۷۔انسانیت ایک دوراہے پر
۸۔ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں

تعارف
مجھے بچپن کی وہ دوپہر یاد ہے جب میں نے اپنے خاندان کے ایک بزرگ سے پوچھا تھا کہ اس دنیا میں انسان کہاں سے آئے ہیں؟ اور انہوں نے فرمایا تھا ‘ جنت سے ’ پھر اس بزارگ نے مجھے آدم و حوا کی  کہانی ان الفاظ میں سنائی تھی۔۔۔۔

فرمانے لگے ‘ جنت میں خدا نے مٹی کا ایک پتلا بنایا تھا۔ جب خدا نے اس مٹی کے پتلے میں روح پھونکی اور وہ زندہ ہو گیا تو خدا نے اس کا نام آدم رکھا۔ آدم کچھ عرصہ جنت میں اکیلا رہا، پھر اس نے خدا سے کہا کہ مجھے ایک شریکِ حیات چاہیے کیونکہ میں جنت میں احساسِ تنہائی کا شکار ہو گیا ہوں۔ خدا نے آدم کی بائیں پسلی سے ایک عورت بنائی اور اس کا نام حوّا رکھا۔ آدم اور حوّا کچھ عرصہ جنت کے باغوں اور بہاروں میں خوش رہے لیکن پھر شیطان کو آدم اور حوّا کی خوشی سے حسد ہونے لگا۔ شیطان نے حوّا کو ورغلایا اور حوّا نے آدم کو ورغلایا اور آدم نے وہ پھل کھایا جس کو کھانے سے خدا نے آدم کو منع کیا تھا۔ ایسا کرنے سے خدا آدم اور حوّا سے ناراض ہو گیا اور دونوں کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا۔ اب اس دنیا میں آدم اور حوّا کے بیٹوں اور بیٹیوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔قیامت کے دن ان کا امتحان ہوگا۔ جس نے نیکیاں زیادہ کی ہوں گی وہ امتحان میں پاس ہو جائے گا اور جنت میں چلا جائے گا اور جس نے برائیاں زیادہ کی ہوں گی وہ امتحان میں فیل ہو جائے گا اور اسے جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔

میں نے جب اس بزرگ سے آدم اور حوّا،جنت اور دوزخ کی کہانی سنی تو مجھے مزا تو بہت آیا کیونکہ وہ ایک دلچسپ کہانی تھی لیکن میرا دل نہ مانا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ سچ نہ ہو بلکہ کسی نے وہ کہانی خود ہی گھڑ لی ہو۔

مجھے اپنی نوجوانی کی وہ شام بھی یاد ہے جب میری والدہ نے مجھے قرآن کا نسخہ دیتے ہوئے کہا تھا ‘ سہیل بیٹا ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے آپ کو نہ صرف قرآن پڑھنا چاہیے بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا چاہیے۔
میں چونکہ عربی زبان سے نابلد تھا اس لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے میں لائبریری سے بہت سے تراجم اور تفاسیر لے آیا۔ ان تراجم اور تفاسیر میں بہت سے اسلامی سکالرز اور دانشوروں کی کتابیں  شامل تھیں۔ اگلے چند سالوں میں مَیں نے ابوالا علیٰ مودودی‘ غلام احمد پرویز’ مرزا غلام احمد اور ابوالکلام آزاد کی تفاسیر کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کے چھ لیکچر بھی پڑھے۔
علامہ اقبال کے لیکچر پڑھنے سے مجھے پتہ چلا کہ آسمانی کتابوں کو پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔بعض سکالر ان آیات کو لغوی معانی دیتے ہیں اور بعض دانشور استعاراتی معانی۔ اقبال نےکہا کہ آدم اور حوّا کی کہانی صرف جنت میں بسنے والے دو انسانوں کی کہانی نہیں بلکہ کرہِ ارض پر بسنے والے ہر مرد اور عورت کی استعاراتی کہانی ہے۔ اقبال سے میں نے یہ بھی سیکھا کہ جنت اور دوزخ انسانی ذہن کی کیفیتوں کے نام ہیں ،کوئی آسمانوں میں مخصوص جگہیں نہیں ہیں کیونکہ جنت اور دوزخ STATES ہیں PLACES نہیں ہیں۔اقبال نے مجھے آسمانی کتابوں کو استعاراتی انداز میں پڑھنا سکھایا۔
میں نے مختلف اسلامی دانشوروں کی قرآن کی تفاسیر میں جب آدم و حوّا کی کہانی کی تفصیلات  پڑھیں تو مجھے پتہ چلا کہ قرآن میں لکھا گیا ہے کہ ساری نسلِ انسانی کا آغاز ۔۔۔نفس الواحدہ۔۔۔۔سے ہوا ہے۔میں نے جتنے مسلم سکالرز کی تفاسیر پڑھیں انہوں نے نفس الواحدہ کا ترجمہ آدم کیا اور کہا کہ آدم سے نسلِ انسانی کا آغاز ہوا۔

میرے لیے دلچسپ بات یہ تھی کہ جن اسلامی سکالرز نے آدم اور حوّا کی کہانی پیش کی ان سب نے ڈارون کی تھیوری کو رد کیا اور یہ لکھا کہ قرآنی تعلیمات ڈارون کے نظریہ ارتقا کو رد کرتی ہیں۔لیکن جب میں نے ابوالکلام آزاد کی تفسیر پڑھی تو مجھے حیرانی ہوئی کہ انہوں نے لکھا کہ قرآن اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔آزاد نے ۔۔نفس الواحدہ۔۔۔کا ترجمہ آدم کرنے کی بجائے۔۔۔UNI-CELLULAR ORGANISM…AMOEBA۔۔کیا۔ پھر آزاد نے قرآن کی کئی اور آیات کے حوالے دے کر [ جن میں لکھا ہے کہ زندگی کا آغاز پانی سے اور انسانی زندگی کا آغاز خون کے لوتھڑے سے ہوا] یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآنی تعلیمات اور ڈارون کے نظریہ ارتقا میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

پہلے تو میں آزاد کی علمیت ’ سائنس اور مذہب کے درمیان پل بنانے اور قرآنی آیات کو نئے معانی پہنانے سے بہت متاثر ہوا لیکن جب میں نے دوسرے آسمانی مذاہب کے دانشوروں کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ وہ دانشور جو آسمانی صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔۔۔چاہے وہ قرآن ہو’ انجیل ہو’ تورات ہو یا زبور۔۔۔وہ جب کسی لامذہب سائنسدان کی نئی تحقیق پڑھتے ہیں یا کسی دہریہ محقق کے جدید نظریے کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ دوبارہ اپنی آسمانی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کسی پرانی آیت کی اس طرح نئی تفسیر لکھتے ہیں جیسے وہ نئی تحقیق اس پرانی کتاب میں پہلے سے موجود ہو۔ اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے اگر ان آیتوں کی استعاراتی تفسیر کی جائے۔

اس راز کو جاننے کے بعد مجھے یہ بھی سمجھ آیا کہ کسی بھی مذہب کے بنیاد پرست پیروکاروں اور لبرل پیرکاروں میں بنیادی فرق کیا ہے۔ بنیاد پرست پیروکار آسمانی صحیفوں کا لغوی ترجمہ کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ نہیں بدلتا لیکن لبرل پیروکار صحیفوں کی استعارتی تفسیر کرتے ہیں جو ہر نئی صدی میں نئی ہوتی ہے کیونکہ وہ سائنس ’طب’ نفسیات اور سماجیات کی ہر نئی تھیوری اور ہر نئے نظریے کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اپنی پرانی آسمانی کتاب کی آیات کی نئی تفسیر کرتے ہیں اور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تھیوری اور یہ تفسیر اس کتاب میں پہلے سے موجود تھی۔

میرے ذاتی اور نظریاتی ارتقا میں میڈیکل سکول کی سائنسی تعلیم اور تربیت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں نے ڈارون کے نطریہ ارتقا کو اس دور میں دل کی گہرائیوں سے مانا جس دور میں میں EMBRYOLOGY کا مطالعہ کر رہا تھا۔اس دور میں مَیں نے دیکھا اور جانا کہ ماں کے رحم میں جب باپ کا سپرم اور ماں کا اووم مل کر ایک ZYGOTE بناتے ہیں تو وہ زائگوٹ ایک خلیے اور ایک امیبا کی طرح ہوتا ہے۔پھر وہ ایک خلیہ نو مہینوں اور سات دن میں لاکھوں اور کروڑوں خلیوں پر مشتمل ایک مکمل انسانی بچہ بنتا ہے۔میرے لیے یہ حقیقت دلچسپی کا باعث تھی کہ ان نو مہینوں اور سات دنوں میں انسانی بچہ رحمِ مادر میں ان تمام مراحل سے جلدی جلدی گزرتا ہے جن سے زندگی سمندر کی گہرائیوں سے کرہِ ارض کی وسعتوں تک صدیوں۔۔۔ہزاروں۔۔۔لاکھوں سالوں میں گزری ہے۔ہمیں سائنسدانوں کی تحقیق نے بتایا ہے کہ ہماری کہکشاں کی عمر ۷۔۱۳ بلین سال ’کرہِ ارض کی عمر ۵۔۴ بلین سال ہے اور امیبا سے انسان بننے کا سفر ۵۔۳ بلین سالوں میں طے ہوا ہے۔

نوجوانی میں مجھے سائنس‘ طب‘ نفسیات‘ سماجیات اور انسانی ارتقا میں جو دلچسپی پیدا ہوئی تھی وہ آج بھی موجود ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس دلچسپی میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ اس سفر میں جن سائنسدانوں اور دانشوروں کی تحقیق نے میرے علم میں گرانقدر اضافے کیے ہیں ان میں سے چند ایک سٹیون ہاکنگ ’ چارلز ڈارون’ رچرڈ ڈاکنز’ برائن سائکس’ سگمنڈ فرائڈ اور یووال ہراری ہیں۔ میں اس مقالے میں آپ کی خدمت میں ان سائنسدانوں ’محققین اور دانشوروں کی تحقیق کا خلاصہ پیش کروں گا تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ ارتقا کے طویل سفر میں انسان بننے تک زندگی کن مراحل سے گزری ہے۔ اس تحقیق کو پڑھنے کے بعد آپ خود یہ سوچ سکیں گے کہ انسانی ارتقا کی اگلی منزل کیا ہوگی یا کیا ہو سکتی ہے؟

جاری ہے۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *