• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • کوانٹم میکانیات اور فلسفہ (پنجم،آخری حصّہ)۔۔محمد علی شہباز

کوانٹم میکانیات اور فلسفہ (پنجم،آخری حصّہ)۔۔محمد علی شہباز

وہ کیا فلسفیانہ نتیجہ تھا کہ جس کی وجہ سے آئن سٹائن نے بوہر اور ہائزنبرگ کی مخالفت کی؟ اس کو جاننے کے لیے آئیں ہم ان بڑے سائنسدانوں کی کچھ باتیں یہاں بیان کرتے ہیں۔

ورنر ہائزنبرگ نے کہا:
“کچھ ماہر طبیعات اس خیال کی طرف واپس لوٹ جانا چاہتے ہیں کہ درختوں اور چٹانوں میں موجود ذرات کا وجود ہمارے ذہن یا مشاہدے سے آزاد ہے۔جبکہ یہ ناممکن ہے”

شروڈنگر نے کہا:
” میرا ایمان ہے کہ طبیعات میں ہونے والی دریافتیں بذات خود ہمیں مجبور نہیں کرتیں کہ ہم طبعی دنیا کے حقیقی ہونے کی عادت ترک کر دیں”

سر آرتھر ایڈنگٹن کہتے ہیں:
“ایک سچے طبیعات دان کے لئے یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ تمام اشیاء کی اصل حقیقت (مادی نہیں بلکہ) ذہنی ہے۔لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا ذہن وہ اولین تجربہ ہے جو ہم براہ راست کرتے ہیں۔اور باقی سب نتائج دوسرے درجے کے ہیں”

سر جیمز جینز نے کہا:
“کائنات کا سب سے بہتر تصور یہ ہے کہ کائنات ایک خالص ذہن ہے”

جان وہیلر نے کہا:
“کوانٹم میکانیات نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم اس نکتے کو سنجیدہ لیں اور غور کریں کہ کائنات کی تخلیق میں مشاہدہ کرنے والا ایسے ہی اہم ہے جیسے کہ مشاہدہ کرنے والے کی تخلیق کے لئے کائنات کا ہونا اہم ہے”

عصر حاضر کے مشہور سائنسدان سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور انفلشن نظریہ کے بانی آندرے لندے کہتے ہیں :
“حقیقت کا کوئی بھی نظریہ اسوقت تک نامکمل ہے جب تک کہ شعور اس میں شامل نہ ہو”

یہ اور ایسے دیگر بہت سے حوالے دیے جا سکتے ہیں اور یہاں جن سائنسدانوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اپنے اپنے عہد کے سب سے بڑے نمائندہ سائنسدان ہیں۔ اور ان تمام اقوال کا اجتماعی جائزہ یہی بتاتا ہے کہ آئن سٹائن اور بوہر کے درمیان ہونے والی بحث کے درپردہ ایک بہت بڑی فلسفیانہ بحث کام کر رہی تھی جو کہ رینے دیکارت کے بعد سے مغرب میں زیادہ زوروں پر رہی ہے۔ اور وہ یہ بنیادی سوال ہے کہ کائنات کی اصل حقیقت مادہ ہے یا شعور؟ اور ہم کائنات کو کیسے جان سکتے ہیں؟ دوسرے لفظوں میں انسانی ذہن مادے پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟ اگرچہ اس بحث میں گزشتہ چار صدیوں سے طویل مباحث موجود ہیں جن میں برکلے کی مثالیت پسندی، لاک کی تجربیت، ہیوم کی تشکیک، کانٹ کی تنقید عقل محض،ہیگل کی جدلیات، مارکس کی تاریخی مادیت، فریگے رسل اور وٹگنسٹائن وغیرہ کی علامتی منطق اور ہسرل سارتر یا ہائیڈگر وغیرہ کی مظہریت پسندی وغیرہ نمایاں ہیں۔ لیکن اپنی بحث کو فلسفے کے بڑے مباحث میں الجھانے کی بجائے ہم سائنسی اور فلسفے کے مشترک موضوعات پر رہتے ہوئے صرف چند نظریات کے بنیادی تصورات پر بات کریں گے۔

سب سے پہلا فلسفہ جو کہ سائنس کی بنیاد میں قائم تھا اور جہاں سے سائنس نے ترقی کی پرواز بھرنا شروع کی تھی وہ مادیت پسندی (Materialism)کا فلسفہ ہے۔جس کے مطابق ذہن سمیت ہر شے کائنات میں مادی ہے اور غیر مادی اشیاء کا الگ سے کوئی وجود نہیں ہے۔ جیسے خدا کا وجود نہیں ہے کیونکہ وہ مادی نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ خود کار طریقے سے ہوتا ہے اور اگر خدا ہے بھی تو وہ مجبور ہے کہ کائناتی قوانین نہیں توڑ سکتا۔ لہذا معجزہ یا دعا ئیں مادی مظاہر میں کوئی اثر نہیں رکھتیں۔

دوسرا فلسفہ حقیقت پسندی (Realism) کا فلسفہ ہے جس کے مطابق حقیقت کا وجود براہ راست مشاہدہ ہونے والی اشیاء اور مشاہدہ نہ ہونے والی اشیاء پر مشتمل ہے ۔ دوسرے لفظوں میں وہ تصوارت جنہیں سائنسدان کسی مظہر کی وضاحت کے لیے استعمال کرتے ہیں اگر مشاہدے میں نظر نہ بھی آرہے ہوں لیکن مظر کی اچھی وضاحت کر رہے ہوں تو انہیں بھی حقیقی ہی سمجھا جائے گا۔ مثال کے طور پر الیکٹران، کوارکس، ویو فنکشن وغیرہ بھی ایسے ہی حقیقی ہیں جیسے کہ زمین پر چیزوں کا گرنا حقیقی ہے۔ یعنی وجودی اعتبار سے ان دونوں میں فرق نہیں  ہے۔اور یہ وجود بھی انسانی ذہن یا شعور سے آزاد قائم بالذات ہے۔

تیسرا فلسفہ ادائیت پسندی (Instrumentalism)کا فلسفہ ہے۔ اس کے مطابق سائنس صرف ایک آلہ کار ہے جس سے ہم حقیقت کے ادراک میں مدد لے سکتے ہیں۔ یعنی جو تصورات سائنسدان استعمال کرتے ہیں جیسے الیکٹران یا کوارکس یا ویو فنکشن وغیرہ یہ وجود نہیں رکھتے۔ حقیقت صرف وہی ہے جو براہ راست مشاہدے میں آسکے ۔ مشاہدے میں نہ آنے والے تصورات یا نظریات حقیقی نہیں ہیں بلکہ ایک سہولت کار کا کام کرتے ہیں۔ یہ فلسفہ دراصل حقیقت پسندی والے فلسفے کا مکمل رد کرتا ہے۔کیونکہ حقیقت پسندی والے ایسے تصورات کو بھی حقیقی کہتے ہیں جن کا مشاہدہ براہ راست نہیں ہوتا۔

چوتھا اہم فلسفہ منطقی اثباتیت (Logical Positivism) کا فلسفہ ہے جس کا بنیادی اصول اثباتیت ہے۔ یعنی صرف وہی بیانات قابل قبول ہیں جنہیں کسی تجربے سے ثابت کیا جا سکے یا پھر جن کے لئے ٹھوس منطقی دلائل موجود ہوں۔ یہ فلسفہ لدوغ وٹگنسٹائن کے لسانیاتی فلسفے یا منطق کا براہ راست نتیجہ ہے اور دنیا میں اس وقت بھی زیادہ تر سائنسدان اور فلاسفہ اسی فلسفے سے وابستہ ہیں۔ اس کے مطابق مابعد الطبیعات یا اخلاقیات و الہیات وغیرہ کا کوئی جواز نہیں کہ انہین حقیقت میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ سب براہ راست مشاہدے میں نہیں آسکتے اور نہ انہیں منطقی طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک طرح سے حقیقت پسندی کے فلسفے کا انکار ہے ۔برٹرینڈ رسل نے فزکس اور ریاضی کو جس منطقی سالمات میں تبدیل کرنا چاہا تھا وہ اسی طرح کا ایک فلسفہ ہے۔ اسی تحریک میں کارل پاپر کا نام بھی بہت اہم ہے جس نے منطقی اثباتیت کے برخلاف منطقی نفی کا فلسفہ پیش کیا جس میں اشیاء کو ثابت کرنے کی بجائے انکی نفی کی کوشش کی جاتی ہے۔

پانچواں اور آخری فلسفہ جسے ہم عصر حاضر میں اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں وہ فطرت پسندی (Naturalism) کا فلسفہ ہے ۔ تھامس کوہن کے بعد سے اس پر کافی بحث ملتی ہے کہ سائنس کی بنیادوں میں ہمیشہ ایسے مفروضات ، عقائد اور اقدار ہوتی ہیں جن کو کائی ٹھوس ثبوت مہیا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کے باوجود فطرت ہی وہ حقیقت ہے جس کے بارے میں ہم بات کر سکتے ہیں اور مافوق الفطرت کوئی حقیقت موجود نہیں ہے۔ سائنسی معروضیت میں تمام انسانوں کا باہمی تعاون عقلی حقائق کو فروغ دیتا ہے۔یہ حقائق فطرت کے ناقابل شکست قوانین پر مشتمل ہیں جنہیں ہم تجربے سے اخذ کرتے ہیں۔ تمام فطری مظاہر میں فطری علیت پائی جاتی ہے یعنی کسی کام کے ہونے کی وجہ فطرت سے باہر نہیں ہے۔ اور کسی گروہ میں سے اوسط نکال کر جو نتیجہ حاصل ہوگا وہ سارے گروہ پر لاگو ہوگا۔ گویا حقیقت شماریاتی ہے۔

یہ مختلف فلسفے کوانٹم میکانیات کے بعد ہونے والے مباحث کے نتیجے میں سامنے آتے رہے ہیں۔ جس قدر تیزی سے یہ نت نئے افکار گزشتہ صدی میں سامنے آئے ہیں ایسا پچھلی تین صدیوں میں نہیں دیکھنے میں آتا اور اسکی وجہ سے کوانٹم طبیعات نے تمام اہل فکر اور فلاسفہ کے ہاں ایک اہم اور نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ لیکن ابھی تک انسان علم کی کھوج میں سرگرداں ہے اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنی سوچ اور مشاہدے کے مطابق ان فلسفوں میں سے کسی ایک پر اکتفا کرلیتا ہے۔ اسی تناظر میں اگر آئن سٹائن اور بوہر کی بحثوں کا ازسر نو مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ان کا فہم حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ اب قارئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کوانٹم میکانیات اور فلسفے کے تعلق پر گفتگو کو آگے بڑھائیں اور اپنے لئے خود فیصلہ تشکیل دیں بجائے کہ کسی بھی دوسرے شخص سے کوانٹم میکانیات کا نام سن کر اس کی اپنی فکر کی اندھی تقلید کریں۔شکریہ!

گزشتہ چار اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیےمحمد علی شہباز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *