سوشل میڈیا کا عفریت۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

سوشل میڈیا کے سمندر میں ہماری نوجوان نسل اس طریقے سے غوطہ زن ہوگئی ہے کہ اُن کا اب باہر آنا تقریباً  ناممکن ہوگیا ہے لڑکے تواس لت میں مبتلا تھے اب لڑکیاں بھی اس بیماری کا شکار ہوگئی ہیں ۔اکثرگھروں میں والدین نے لڑکے اور لڑکی کا فرق ختم کردیا ہے اور دونوں کو اینڈرائڈ فون کی لعنت میں مبتلا کردیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اس سے بچیں ۔دوسری جانب میڈیا ،ٹیلی ویڑن،انٹرنیٹ اور کیبل پر پیش کیئے جانے والے پروگرام اور اشتہارات بھی نا پختہ ذہن لڑکوں اور لڑکیوں کی جنسی اشتہا بڑھانے میں اپنا کردار اداکرہے ہیں۔جب کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی گھر سے باہر گلی محلوں اور بازاروں کی دیواروں پر”مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا،شادی سے پہلے اور شادی کے بعد ،زندہ لاش، عورت طلاق کیوں مانگتی ہے،”جیسے اشتہارات دیکھتا ہے اور یہی اشتہارات ہمارے اخبارات کے کلاسیفائیڈ ٹائمز میں بھی موجود ہوتے ہیں اور جب یوٹیوب پر ہر قسم کا مواد موجود ہے جس کو ہمارے لوگوں نے بھی اپنے پیسوں کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ اردو اور ہمارے علاقائی زبانوں میں اس قسم کے چینل بنائے گئے ہیں جن کا محور ہی یہی موضوع ہوتا ہے تو ان پر سب محرکات کا منفی اثر یقینی ہے۔ وہ اپنے تجسس کے لئے اُن چینلز تک رسائی کرتا ہے اور بڑوں سے بات کرنے کے بجائے دوستوں یاروں اور سہیلیوں سے گمراہ کن گفتگو کے نتیجے میں جنسی دلدل میں دھنستا چلا جاتاہے، ظاہر ہے وہ اپنے جس ہم عمر یا بڑی عمر کے فرد سے بات کرے گا ، اس کے بھی جنسی جذبات ہوتے ہوں گے ، بات جسم کے پوشیدہ حصوں سے ہوتی ہوئی تنہائی کے گناہ آلود لمحات تک جاپہنچے گی۔ اور پھر یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ عام طور پر ایسے لڑکے لڑکیاں شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد بھی اپنے ان ابتدائی تجربات سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے ، خود لذتی کے شکار بہت سے لڑکے او ر لڑکیاں بظاہر صحت مند ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو تسکین کا سامان فراہم نہیں کر پاتے۔

1990سے پہلے جب انٹرنیٹ نہیں تھا تو پورن انڈسٹر ی موجود تھی مگر انٹرنیٹ کی آمد سے ایسی فلموں کی ترسیل میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اب موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ان فلموں کی ہی مرہون منت  موجودہ دور میں لڑکوں میں جنسی عمل کے متعلق بہت شکو ک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں اور اکثریت اپنے آپ کو جنسی طور پر نااہل سمجھتی ہے ، ایسا ہی کچھ لڑکیوں کے کیس میں بھی ہوتا ہے۔ پورن فلمیں دیکھنے والی ایک لڑکی کے لیے“مرد”کا تصور کسی فاتح اور ہیرو سے کم نہیں۔ ایک ایسا مرد جو گھنٹوں تھکے بغیر جنسی عمل کر سکتا ہوجب ایسی لڑکیوں کی شادی ہوتی ہے تو انھیں اپنے مرد سے بھی ایسی ہی توقع رہتی ہے لیکن بدقسمتی سے چونکہ ہمارے معاشرے میں مرد ایسی جسمانی خصوصیات نہیں رکھتے ، اس لیے بہت جلد نوبیاہتا لڑکیاں اپنے شوہروں سے مایوس ہو کر چڑ چڑی ہوجاتی ہیں۔

اب ان بے چاریوں کو کون بتائے کہ پورن فلموں میں جو مرد دکھائے جاتے ہیں وہ ادویات اور مشینوں کی وجہ سے ایسے نظر آتے ہیں ، بلکہ اب تو کیمروں میں بھی ایسی ٹیکنالوجی آگئی ہے یعنی سب کیمرہ  ٹرِک ہے مگر ان ٹرکس کودونوں اوریجنل سمجھ لیتے ہیں جس سے لڑکا شرمندی کے احساس سے نہیں نکل پاتا تو لڑکی ایسی بات اپنے دل میں دبائے اندر ہی اندر گھٹتی چلی جاتی ہے۔ جنسی خواہش ایک بھوک کی مانند ہے ، جتنا بڑھائیں گے بڑھتی چلی جائے گی ، ظاہر ہے لڑکے اور لڑکی کو جنسی عمل کا پہلا تجربہ اگر اپنے دوستوں اور سہیلیوں کے ساتھ گفتگو کی شکل میں ہوتا ہے تو دوسرے دور کا آغاز ننگی فلموں سے ہی ہوتا ہے۔ اور پھر سوشل میڈیا میں نامحرموں کے سا تھ بات چیت سے شروع ہونے والا تعلق انتہا درجے کو پہنچ جاتا ہے اور لڑکی اپنا سب کچھ داو پر لگا دیتی ہے جس کے بعد اس کا واپس ہونا ناممکن ہوجاتا ہے درج بالا عوامل کے علاوہ بھی بے شمار ایسے محرکات ہیں جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ، اسکول کالج ، یونیورسیٹیوں اور اکیڈمیوں کا ماحول الگ سے کئی سوالیہ نشان لیے کھڑا ہے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سوشل میڈیا کا عفریت۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *