اقراء و یاسر: جوابِ شکوہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

نوٹ: یہ تحریر مکالمہ پر شائع ہونے والے اسی موضوع پرمحترمہ ربیعہ بخاری صاحبہ کے مضمون کے جواب میں تشکیل دیا گیاہے تاہم  انفرادی حیثیت میں اس بابت کئی اعتراضات کا احاطہ بھی کرتا ہے۔

سوشل میڈیا اپنی اصل میں تبدیلی کا ذریعہ نہیں۔ یہ دراصل فرد کے ارد گرد موجود معاشرے کے اس حصے تک اپنی بات پہنچانے کا ذریعہ ہے جو اس سے منسلک ہو۔ اب یہ شئیر ہونے والے مواد پر منحصر ہے کہ کس قدر اثر رکھتا ہے۔ معاشرتی اقدار یا رسم و رواج سے قطع نظر اگر اظہار خیال افراد کی طبیعت سے میلان رکھے گا تو خود بخود پھیلے گا۔ یہ پھیلاؤ جس قدر زیادہ ہوگا بات اسی قدر وائرل ہو کر معاشرتی سوچ یا طرزعمل میں کسی حد تک بدلاؤ کا باعث بنے گی۔ بڑے پیمانے پر فوری تبدیلی تب بھی ممکن نہیں۔ کسی قسم کا پروپیگنڈہ تب تک فوری اثرانداز نہیں ہوا کرتا جب تک عوامی سطح پر اس کے حق میں قابل ذکر جذبات یا میلان موجود نہ ہو۔ لہذا یہ کہنا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے میں من چاہی تبدیلی لائی جا سکتی ہے، محض ایک مغالطہ ہے۔

یہاں اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا مواد یا نظریات ضروری نہیں کہ مثبت یا منفی ہی ہو۔ بسا اوقات اپنی اصل میں منفی مواد (ویڈیو، آڈیو یا ٹیکسٹ) صرف شغل میلے کی نیت سے پھیل جاتا ہے۔ سائینسی بنیاد پر بات کی جائے تو گپ شپ یا گوسپ انسان کو اپنے قریب ترین حیاتیاتی جد گوریلے سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ عمومی گفتگو، تذکرہ یا تبصرہ کسی بھی چیز پر ہوسکتا ہے اور اس کے لیے مثبت یا منفی ہونا شرط نہیں۔ تاہم اس گوسپ کو مختلف قسم کے نظریات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جانا ناممکن ہرگز نہیں۔ باقاعدہ منظم منصوبہ بندی اور سوشل میڈیا صارفین کے ایک قابل ذکر حصے کی شمولیت کے ساتھ سوچ کو بتدریج تبدیل کرنا عین ممکن ہے۔ اس ضمن میں سیاسی و غیر سیاسی سیلبرٹیز کو مغلظات سے نوازا جانا وہ تبدیلی ہے جو پہلے صرف سیاسی لیڈران تک محدود تھی۔ ایک طویل عرصے عوامی سطح پر اس پہ کام ہوا اور نتائج سامنے ہیں۔ جو کام پہلے جلسے نکال کر، پارلیمان میں کھڑے ہوکر یا جہاز سے پرچے پھینک کر مخصوص لوگ کرتے تھے آج “رنڈی ان منڈی” کی شکل میں عوامی سطح پر چل پڑا ہے۔ یہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ سیٹ کرنے کی ایک مثال ہے۔ یقیناً ایسے واقعات دوسری جماعتوں اور ان کے خواتین و حضرات کے ساتھ بھی ہوچکے ہیں۔ یہ منظم طریقے سے عوام کے ایک حصے کو ساتھ ملا کر ہی ممکن ہے، جو میری پہلی دلیل تھی۔ سرعام گالیاں دینے کی یہ عادت پورے معاشرے میں نہیں پھیلی، اور یہ بات دلیل کو مزید قوی کرتی ہے۔

محترمہ ربیعہ فاطمہ بخاری صاحبہ نے اپنے پچھلے مضمون میں کچھ ایسا تاثر دیا کہ شوبز کی صنعت سے وابستہ لوگ معاشرے میں رحجان سازی اور اخلاقی اقدار کی تشکیل میں ایک بڑا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں سب سے اہم حقیقت جو نظرانداز ہوئی وہ یہی ہے کہ کسی بھی قسم کی رحجان سازی عوام کے ایک قابل ذکر طبقے کے میلان اور چاہت کے بغیر ممکن نہیں۔ سینٹری پیڈز کا اشتہار ہو یا صابن کا، حقیقت یہی ہے کہ عوامی رحجان سے یکسر مطابقت رکھتی کسی بھی شے کی مارکیٹنگ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ محترمہ کا مدعا یہ ہے کہ شوبز انڈسٹری مبینہ طور پر ہماری جملہ معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کا جنازہ نکالنے میں جتی پڑی ہیں۔

یہاں دو مسئلے ہیں۔ ایک تین دہائیوں پر بتدریج تشکیل کی گئی وہ گھٹن جس سے عوام الناس اب بیزار ہوچکی ہے اور دوسری اسی بیزاری کی وجہ سے ضد میں اس گھٹن کے توڑ کے طور پر ظاہر کی جانے والی آزادی جو عوام ناصرف اپنا رہی ہے بلکہ جہاں ممکن ہو اچھا خاصہ بڑا طبقہ اسے مرحبا بھی کہنے لگا ہے۔ اقراء اور یاسر کے اس عمل کو اس تناظر میں دیکھا جانا بھی اہم ہے۔

انسان طبیعتاً آزاد منش رہنا پسند کرتا ہے۔ قدغن کسی قسم کی بھی ہو، انسان کی طبیعت کے خلاف ہوا کرتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی مذہبی یا معاشرتی دباؤ کے باعث فرد اپنی طبیعت ہی بدل ڈالے۔ پھر ٹخنوں سے اونچی شلوار یا شدید گرمی میں برقعہ اسے پسند آنا کوئی بڑی بات نہیں۔ آزادی البتہ یہ ہے کہ ان دونوں کاموں یا اس طرح کے دیگر عمل انسان دوسروں پر تھوپنے سے گریز کرے۔

نئی نسل بدل چکی ہے اور مزید تغیر ناگزیر ہے۔ ایسے میں کسی قسم کے دباؤ سے آزادی کا خیرمقدم اٹل ہے۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا آپ کی اولاد کا آپ کے نظریات پر یقین رکھنا لازمی ہے؟ ان کی تربیت کا طریقہ کار کیا ہو؟ ایسا جس میں تھپڑ مار کر نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے یا انہی مذہبی اقدار پر خوش دلی سے رضامند کیا جائے جن پر آپ عمل پیرا ہیں؟

محترمہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا اسلام پسندوں کا حق نہیں کہ بے حیائی، بے پردگی اور بے شرمی کو ان پر مسلط نہ کیا جائے۔ عرض ہے کہ سارا مدعا اسی آزادی کا ہے جس کی بابت اوپر بات کی گئی۔ یہ انٹرنیٹ، سینکڑوں چینلز اور لاکھوں پیجز کا دور ہے۔ مسلط کرنا یہ ہوتا ہے کہ رمضان میں ہوٹل بذور قوت بند کر دیے جائیں۔ مسلط کرنا یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ سینکڑوں دستیاب چینلز میں سے وہی چینل لگا کر بچوں کو دکھایا جائے جو آپ کے نزدیک بے حیائی پھیلا رہا ہے۔ اگر آپ کو خوف ہے کہ بچے بے حیائی کی جانب جائیں گے تو آپ یہ مان رہے ہیں کہ نئی نسل کا میلان آزاد طبع ہونے پر ہے یا کسی قسم کی مذہبی گھٹن کے خلاف ہے۔

معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کی کوئی واضح تعریف ناپید ہیں۔ کچھ گھرانوں میں مخالف جنس کزنز کے مابین مصافحہ جائز ہے۔ کچھ کے نزدیک چہرہ کجا بالوں کی لٹھ دکھا دینا بھی ناجائز ہے۔ ایسے میں اخلاقیات اور معاشرتی اقدار کا ایک پیمانہ رائج نہیں کر سکتے۔ یہ دونوں زمان و مکاں کے حساب سے بدلاؤ کی خاصیت رکھتی ہیں۔ اب یہ فرد پر ہے کہ اپنے لیے کس درجے کی اخلاقیات کو مناسب سمجھتا ہے۔ اور میری مخلصانہ رائے یہی ہے کہ یہ معاملہ فرد ہی ہر چھوڑ دیا جائے ناکہ علماء کے نام پر ایک ایسے گروہ کا جس کا خون گرمانا ممتاز قادری کی شکل میں سامنے آتا رہتا ہے۔

اسلام پسندوں کے تمام حقوق مکمل محفوظ ہیں۔ ٹیلی وژن پر اسلامی چینلز دستیاب ہیں، انٹرنیٹ پر ہر قسم کی مذہبی سائٹس اور سوشل میڈیا پر لاتعداد پیجز اور گروپس۔ اسلام پسند جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ یہی وہ آزادی ہے جس کا تصور مذہبی جتھوں کو پورا موقع دیے جانے کے بعد سمجھ میں آسکا ہے۔ مذہب کے نام پر کبھی دارالخلافہ بند ہوجاتا ہے تو کبھی پوری ریاست۔ اب بھی آپ سمجھتے ہیں کہ مذہب کو آزادی حاصل نہیں تو یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آج مذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں نسبتاً لچکدار نظریات ضرور موجود ہیں جن کے قدرتی انتخاب سے آپ خوف زدہ ہیں۔ آپ جتنی پابندیاں لگا ڈالیں یہ آزادی نئی نسل لے کر رہے گی۔ پھر بیشک وہ اپنی مرضی سے رائیونڈ جائیں یا کسی کانسرٹ میں، اس کا احترام ضرور لازم ہے۔

مذہب کبھی بھی Taboo کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں مذہبی عناصر نے وہ مثالیں ضرور قائم کی ہیں کہ ایک اوسط فرد خود کو مذہبی ظاہر کرنے سے بھاگتا ہے۔ سیکولرزم کے نام پر کوئی کچھ گزرے تو کان پر جوں نہیں رینگتی۔ اس لیے کہ اصیل سیکولرزم کبھی کسی بھی بنیاد پر شخصی آزادی کی راہ میں حائل نہیں ہوا کرتی۔ مذہب کا معاملہ مکمل الگ ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے کافی حد تک اسلامی قانون کو من و عن قبول بھی کر لیا جائے تب بھی ملا اپنی چلانے کو بضد رہتا ہے۔ بین المسالک اختلافات الگ ہیں۔ اب آپ بتائیے کہ مذہبی رحجان رکھنے والے کو کن پابندیوں کا سامنا ہے؟

اقراء اور یاسر کا طرزعمل کئی لوگوں کے نزدیک معاشرتی اقدار سے ہٹ کر ہے تو کئی اسے قبول بھی کرتے ہیں۔ محترمہ نے مضمون سے باہر ایک جگہ سوال اٹھایا کہ “روشن خیال” مرد حضرات اپنی بہن بیٹی کو اقراء اور اس کے “عاشق” کو یاسر کی جگہ رکھ کر دیکھیں کہ محترمہ کا نقطہ نظر سمجھ میں آجائے۔ پہلی بات یہ کہ جو شخص ایک بالغ فرد کو آزاد سمجھتا ہے اس کے لیے کسی قسم کی ضد کی بجائے اس کے انتخاب پر اپنی رائے دے کر اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا ہی بہترین طریقہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ فرد کی منتخب اخلاقیات و معاشرتی اقدار کی بنیاد پر کوئی بعید نہیں کہ وہ اسے اس بات کی اجازت دے ڈالے۔ مذکورہ ویڈیو میں یاسر غالباً اقراء کے والد یا کسی بزرگ سے اجازت لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کا یہ سوال ہے لغو ہے۔ یہ وہی غیرت کا تقاضہ ہے جس کے تحت پسند کی شادی پر نوبیاہتا لڑکی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے، جبکہ کئی مواقع پر ایسا کرنے والا باپ یا بھائی خود اسی آزادی کے مزے لے کر شہر کے قحبہ خانوں کی زینت ہوا کرتا ہے۔

آخر ایک خودمختار فرد کو اپنی مرضی کے طور طریقے سے زندگی گزارنے سے روکا ہی کیوں جائے؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اقراء و یاسر: جوابِ شکوہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

  1. محترم کسقدر آسانی سے اسلامی اقدار طور طریقہ کو اور احکامات کو پس پشت ڈال کر شخصی آزادی کو اپنی تحریر میں نمایاں فرمایا ہے ساری بحث سے ہٹ کر میرے بھائی عورت ہو کہ مرد بحثیت مسلمان حیا اور ایمان کے بارے میں قرآن اور رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں اسلامی ملک کے چینل پر مسلمان مرد و عورت کھل کر بے حیائی کا مظاہرہ کرے اور آپ اس کو جسٹیفائی کرو یہ آپ کی اسلام کے حوالے سے کم علمی کی دلیل ہے
    آپ قرآن کی تفاسیر کا مطالعہ کیجیے ان شاءاللہ آپ پر آگہی کے در ضرور کھلے گے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *