فکری پستی۔۔فکری پستی

ہم اپنے سب سے بڑے وکیل اور دوسروں کے لئے سخت ترین جج ہیں اگر سماجی تناظر میں ہم ایک دوسرے کو دیکھیں تو کوئی بھی کسی کو انسان تصور نہیں کرتا ہے بلکہ ہر قسم کی برائی جو ہمارے ذاتی مفاد کے لئے ہو اسے نہ صرف اپنا حق سمجھتے ہیں بلکہ اسے برحق سمجھتے اور تسلیم کرانے کی بھی اپنی سی مکمل کوشش کرتے ہیں۔

ہم اپنے ہر برے فعل کا دفاع اس متشددانہ و بےرحمانہ انداز میں کرتے ہیں کہ سامنے والوں کی شخصیت و اخلاق کے بخئے ادھیڑ دیتے ہیں اور اس کو اپنی فتح تسلیم کرتے ہیں اور ہمارے حلقہ احباب کے لوگ ہمیں نہ صرف مستحسن نظروں سے دیکھتے ہیں بلکہ ویسا بننے کی بھی اپنی سی مکمل کوشش کرتے ہیں اور وقت کی کروٹ انہیں ہم سے بھی مزید دو ہاتھ آگے کر دیتی ہے اسی لئے ہمارے سماج میں لاقانونیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی تنزلی کا گراف بھی دن بدن دلدلی رذیلیت کی نظر ہو رہا ہے۔

tripako tours pakistan

ہم اپنی ہر برائی کا جواز سماج میں پنپتی یا سماج سے جڑی مزید برائیوں سے پیش کرتے ہیں اور ایسا کر کے ہم خود کو حق بجانب تصور کرتے اور باور کراتے ہیں جیسے ملالہ یوسف کے ایک نامکمل بیان کو لے کر تاریخی کہانیوں میں سے ایسی ایسی انسانیت سوز غیر اخلاقی کہانیوں میں سے ایسے گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں جن سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ انسانی سماج سے جڑی تاریخ اس قدر مسخ ہے اور یہ مسخ تاریخ ہر غیر انسانی رویے کے لئے بہت بڑا جواز ہے اور ہم ہر قسم کی اخلاق باختگی ہمارا حق ہے۔

کسی بات کو واضح کرنے کے لئے میرے خیال میں دو طریقے ہو سکتے ہیں ایک یا تو دوسرے کی برائیوں کو اس بری طرح سے اچھالا جائے کہ ہماری برائی کسی کو برائی محسوس ہی نہ ہو اور ایسی صورت میں بحیثیت انسان میں نے محسوس کیا ہے کہ تعصب و نفرت کے جذبات ہماری ذات پہ مسلط ہو جاتے ہیں اور وہ برائیاں بھی مخالفت میں منسوب کر دیتے ہیں جو کہانیوں کی حد تک بھی غیر فطری و غیر انسانی محسوس ہوتی ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنی خوبصورتی و خوبیوں کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ لوگوں کے دل اس اچھائی کی طرف لپکنے میں ذرا برابر بھی تامل نہ کریں اور میرا یقین ہے کہ یہ طریقہ زیادہ پراثر، کارگر اور اہل علم کی میراث ہے۔

Advertisements
merkit.pk

کوئی برائی کسی اور برائی کے لئے انسانی سماج میں کیا دلیل یا جواز بن سکتی ہے ہم سوچتے کیوں نہیں ہم اس قدر غیر انسانی روش کا شکار کیوں ہیں اور وہ دوست جو اہل علم ہیں عام لوگ ان کو پڑھتے ہیں ان کی بات کا اثر لیتے ہیں وہ اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں جو برائی کے لئے برائی کو جواز یا دلیل بناتے ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply