ذرائع ابلاغ اور حواس باختہ ریوڑ۔۔۔۔حبیب کریم

سرکاری و غیرسرکاری مین سٹریم میڈیا یعنی ریڈیو، ٹیلی وژن، اخبارات سے جُڑے رہنا سب سے بے فائدہ سرگرمی اور وقت کا مکمل ضیاع ہے۔ موجودہ دور میں چاہے میڈیا کسی بھی ملک یا ریاست کا ہو _ وہ اہم معاملات میں دروغ گوئی، سطحی انکشافات، سینسرڈ اور بے بنیاد سنسنی خیز خبروں، نام نہاد قومی سلامتی سے منسلک بیانیوں، ذاتی کاروباری مفادات اور عوام کو حواس باختہ رکھنے کا ذریعہ ہونے کے علاوہ کچھ نہیں۔

دوستوفسکی اپنی ڈائری میں کہتے ہیں کہ؛ ”حالاتِ حاظرہ سے باخبر رہنا ایک بیماری ہے۔ اور ایک مسلسل رہنے والی بیماری۔“

julia rana solicitors

نیچہ (نطشے) اِس کے لیے building sphilisters کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ جس سے مراد ڈاگما-لَوورز لوگ ہیں۔ یعنی بے بنیاد، غیرمنطقی اور غیرحقیقی خبریں بیان کرنے والے اخبارات کو پڑھنے والے سطحی اور کھوکھلے لوگ۔

نوم چومسکی نے ایسے پانچ اہم میڈیا فِلٹرز بیان کیے ہیں جن سے ہر حال میں خبر کو گزر کر ہی ناظرین، سامعین یا قارئین تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اِن فِلٹرز میں Ownership, Advertising, The Media Elite, Flak اور The Common Enemy شامل ہیں۔ (اِن اہم فلٹرز کی تفصیل کسی اور تحریر میں) اور ساتھ ہی اپنی کتاب How the world works میں کسی بھی مکمل آبادی میں ذرائع ابلاغ سے منسلک اسّی فیصد سے زائد عام عوام کے بارے میں میڈیا کے مقاصد کو ان چند الفاظ میں بیان کیا ہے:

The goal is to keep the bewildered herd bewildered. And they (80% bewildered public) are supposed to follow the orders and keep out of the way of the important people.

اب ایک تو اِسی عام عوام کی اکثریت کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ مین سٹریم میڈیا کتنا سینسرڈ اور فلٹرڈ ہوتا ہے۔ جہاں کچھ اہم ”قومی سلامتی“ سے متعلق خبریں بھی جب کبھی لیک ہوتی ہیں تو وہ بھی درحقیقت اکثر لیک نہیں ہوتیں بلکہ وہ کسی اخبار یا نیوز چینل کو اربابِ اختیار کی جانب سے دی گئی ایک تھپکی ہوتی ہے۔ جس کا معاوضہ مزید تابعداری اور جی حضوری کی صورت میں لیا جاتا ہے۔

اِن تمام حقائق سے قطع نظر، مین سٹریم میڈیا سے جُڑے رہنا آپ کو کبھی بھی سکیپٹِک، کریٹیکل تِھنکر، معتدل تجزیہ نگار وغیرہ نہیں بنا سکتا۔ یہ تمام سیاسی، سماجی، اقتصادی معاملات اور خبریں وغیرہ آپ جو ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھ کر دیکھتے اور سنتے ہیں یا اخبارات میں پڑھتے ہیں _ تاریخ میں کوئی نئی حیثیت نہیں رکھتی ہیں۔

تاریخ، فلسفہ، ادب اور کریٹیکل تِھنکنگ لٹریچر کے مطالعے سے یہ تمام سینسرڈ خبریں اور ہلہ گُلہ آپ کو کبھی متاثر نہیں کر سکیں گی۔ آپ کی ذہنی پختگی موجودہ حالات کو سمجھنے میں ہر دم آپ کا ٹھوس بنیادوں پر ساتھ دے گی۔ اور کسی کے بیانیوں، چرب زبانی یا سنسنی پھیلانے والے پروپیگنڈوں سے باقی حواس باختہ عوام کی طرح آپ مرعوب نہیں ہوں گے۔

اور سب سے اہم بات کہ اپنے وقت کی قدر کے ساتھ ساتھ آپ تاریخ کے مطالعے اور ماضی سے حتیٰ الوسعیٰ باخبر ہونے کی وجہ سے ذاتی تجزیوں، تبصروں اور اپنی جداگانہ انفرادی اور قومی شناخت کو مضبوط بنیادوں پر سمجھنے اور پیش کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors

سو، ذہن میں رکھیے _ تاریخ، مؤرخ کو یاد رکھتی ہے، ”صحافی“ کو نہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply