ہماری زبان کون سی ہے؟۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

ہماری زبان کون سی ہے؟

.
جیسے ہر علاقے کی اپنی بولی ٹھولی ہوتی ہے جو کسی قدیم الایام سطلنت کے پائے تخت کی اقتدار دار زبان سے اپنی صوتیات و لفظیات وغیرہ میں کچھ مشترکات رکھتی ہے اسی طرح ہم برِعظیم والوں بھی سیکڑوں زندہ بولیاں اور کئی ایک زبانیں ہیں۔

ساری دنیا کی طرح ہماری سرزمین پر آنے والے حملہ آوروں لٹیروں نے بھی ہماری بولیوں بلکہ زبانوں تک کو رگید ڈالا۔ مثلًا جیسے عرب حملہ آوروں نے مصر اور سپین کی زبان تک عربی کر ڈالی تھی ویسے ہمارے ہاں فارسی بولنے والے ترکوں نے چھاؤنی چھائی تو ہماری مقامی بولیاں زبانیں بھی مار بھگائیں اور فارسی صدیوں تک ہماری اشرافیہ کی زبان نیز زبانِ قلعۂ معلیٰ (Language of the exalted court) رہی۔

یہ ہمارے خطے کی عوام کا مزاج ہے کہ ہم حملہ آوروں اور اقتدار داروں کی نقالی کو خوبی جانتے ہیں اور ان کی زبانوں کو بھی نہ صرف قبولتے رہے ہیں بلکہ اپنی بولیوں زبانوں کو بولتے ہوئے شرم بھی فرماتے رہے ہیں۔ فارسی کی جگہ اردو آئی جو ہمارے اپنے علاقوں کی اپنی پیداوار ہے، لیکن اس کے “دیسی پن” کی وجہ سے ہم اسے زیادہ دیر برداشت نہ کر پائے اور اب انگریزی کے دیوانے ہیں۔ ہمارے لسانی افق پر تاریخ نے خود کو یوں دوہرایا ہے کہ پہلے ہماری مقامی اشرافیہ مقامی بولیوں زبانوں کو ہیٹھا جانتے ہوئے فارسی بولا لکھا کرتی تھی، آج یہی مقامِ محمود انگریزی کو ملا ہوا ہے۔ اسی اصول پر کل کلا کو ہماری ایک معتدبہٖ آبادی چینی زبان بھی بول سکتی ہے۔

یادش بخیر ہمارے ہاں کے شاہی خاندانوں کی زبان تو فارسی یا ترکی تھی ہی، ان کے زیرِ اثر دوسرے رجواڑوں نے بھی اس غیر مقامی زبان فارسی کو “اپنا” لیا تھا۔ یہ بات یقینًا حیرت سے سنی جائے گی کہ اس دور میں مرہٹہ سرکار کی زبان بھی فارسی تھی۔

یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری سرزمین پر مقامی زبانوں کو عزت دینے والے پہلے اور آخری حکمران انگریز تھے۔ انگریز بہادر ہی نے اردو کو سرکاری درجہ دیا اور اشرافیہ کی زبان فارسی کی جگہ اسے زبانِ قلعۂ معلیٰ بنایا تاکہ لوگ اجنبی زبان کی جگہ اپنی مقامی زبان میں لکھ پڑھ سکیں اور عدالتی کارروائیوں کی زبان و اصطلاحات کو سمجھ سکیں۔ یہ کام انگریز بہادر نے 1835 میں انجام دیا تھا۔ یہ انگریز بہادر کی اسی لسانی پالیسی کی باقیاتِ صالحات ہے کہ آج دِلّی کی سرکاری زبان پنجابی ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ متذکرۂ بالا گفتگو میں “ہماری زبان” میں “ہم” کا مصداق اور مشارٌ الیہ کون ہے، تو اس کا جواب ہے: خطۂ برِ عظیم کے زمین زادے۔

۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *