• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • محمد بن قاسم کا حملہ ایک تاریخی جائزہ۔۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم

محمد بن قاسم کا حملہ ایک تاریخی جائزہ۔۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سلسلے میں چچ نامہ کی بھی مدد لی جاتی ,اس سلسلے میں زیادہ تر تاریخ طبری اور تاریخ ابن خلدون کے ان حصوں پر انحصار کیا ہے جو خلافت بنو امیہ کے بارے میں ہیں تاریخ طبری اور تاریخ ابن خلدون کا اردو ترجمہ نفیس اکیڈمی نے چھاپا ہے۔

محمد بن قاسم کے سندھ حملہ کے لئے سب سے بڑا کردار حجاج بن یوسف ہے پہلے اس کے بارے میں تھوڑا سا تعارف کروا لیتے ہیں
اس سلسلے میں جناب طالب ہاشمی کی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے کتاب سے مدد لی گئی ہے

حجاج بن یوسف وہ جرنیل تھا جس نے اموی خلیفہ کے لئے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا جہاں ایک صحابی رسول جناب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی۔ حجاج بن یوسف نے اس حملے میں خانہ کعبہ پر منجیق کا استعمال کیا جس سے خانہ کعبہ کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے اور حواری رسول حضرت زبیر کے فرزند تھے یہ پہلے بچے تھے جو ہجرت مدینہ کے بعد کسی مہاجر مسلمان کے گھر پیدا ہوئے مدینے میں یہ افواہ مشہور تھی کہ یہودیوں نے مہاجرین مسلمانوں پر جادو کر رکھا ہے اس لئے ان کے گھر اولاد نہیں ہوگی جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدا ئش ہوئی تو حضور پاک صٖلی علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ مل کر خوشی سے نعرہ بلند کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو اس زمانے میں خود چھوٹے بچے تھے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر موجود تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موقع پر بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پرورش ان کی خالہ اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کی تھی کیونکہ ان کی اپنی اولاد نہیں تھی اس لئے حضرت عبداللہ بن زبیر کی نسبت سے اپنی کنیت ام عبداللہ کیا کرتی تھی۔
یہی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے جن کو مکے میں خانہ کعبہ کے اندر ۶۸۷ ہجری میں حجاج بن یوسف کی فوج نے شہید کیا اور ان کی شہادت پر خوشی سے نعرہ بلند کیا ۔حجاج بن یوسف اور اس کے فوجیوں نے بہت خوشی منائی۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر حضور اکرم صٖلی علیہ و سلم اور ان کے صحابہ کی خوشی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ کائنات کی افضل ترین ہستیاں تھیں جنہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدا ئش پر خوشی منائی تھی حجاج بن یوسف کے حکم پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو حدود حرم میں ہی سولی دی گئی تین دن بعد ان کی ضعیف والدہ حضرت اسما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کہنے پر ان کو سولی سے اتارا گیا اس موقع پر حجاج بن یوسف نے ضعیفہ کی سخت تضحیک کی۔ یہ حجاج بن یوسف کا ایک ابتدائی تعارف ہے جو طبری اور ابن خلدون کے علاوہ بھی تمام کتب میں موجود ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے تبصرے سے بھی حجاج بن یوسف کے دل میں گرہ لگ گئی اور وہ ان کی عیادت کو گیا تو اس کے ایک سپاہی نے نیزے کی زہر آلود انی ان کے پاؤں میں چھبو دی جو ان کی شہادت کا باعث بنی۔

حجاج بن یوسف اس کے بعد خلافت بنو امیہ کی طرف سے کوفہ اور بصرہ کا گورنر بنا۔۔۔
اب اس پورے قصے کا دوسرا اہم کردار جناب امام حسن مثنی کا کردار ہے جس پر ہماری تاریخ میں بہت کم ذکر کیا گیا ہے۔ حسن مثنی حضرت علی کرم اللہ وجہ کے پوتے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ وہ معرکہ کربلا میں شریک تھے اور ان کے ننھیال والے کوفے کے رہنے والے تھے جب ان کے ماموں کو معلوم ہوا کہ کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے خاندان والوں کو گھیر لیا گیا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کربلا پہنچے تب کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے ساتھی شہید ہو چکے تھے جناب حسن مثنی کے ماموں نے شہدائے کربلا میں  حسن بن مثنی کو تلاش کیا تو وہ زخمی حالت میں میدان کربلا میں پڑے تھے جن کو یزیدی فوج نے غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے جناب حسن مثنی کا علاج کروایا اور مکمل طور پر صحت مند ہوگئے۔ اس کے بعد آپ مدینہ چلے گئے جہاں آپ کی شادی حضرت امام حسین کی بیٹی جناب  صغریٰ  سے ہوئی جو بیمار ہونے کی وجہ سے کربلا نہیں جا سکی تھیں اور مدینہ میں ہی مقیم رہی تھیں۔

اس موقع پر یہ بات دلچسپی سے خارج نہیں ہوگی کہ جناب حسن مثنی کراچی میں مدفون عبداللہ غازی کے پڑدادا تھے اس کے علاوہ یہ گیلانی سادات سمیت سادات اہل سنت کے بہت سے خاندانوں کے جد امجد تھے۔ یہ بات تاریخ طبری یا ابن خلدون میں موجود نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تجارتی قافلے وادی سندھ جاتے تھے اور ان میں تجارتی تعلقات قائم تھے۔ جو بعد میں امام حسن رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بہت وسیع ہوگئے تھے اور ان کے بعد جناب حسن مثنی کے تجارتی قافلے وادی سندھ جاتے تھے۔ جس سے ان کے سندھ میں کافی تعلقات موجود تھے۔

اس قصے کے تیسرے کردار عبدالرحمن بن اشعت ہیں
حجاج کے ظالمانہ رویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت اموی سالار عبدالرحمن بن اشعت نے کی۔
وہ ترکستان کے محاذ پر زنبیل کے خلاف بر سر پیکار تھا۔ اس نے مفتوحہ علاقہ کا انتظام درست کرنے کے لیے تھوڑی دیر تک جنگ و جدل ملتوی کیا جس پر اس کے اور حجاج کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے حجاج بن یوسف جلد سے جلد کابل کو  فتح کرنا چاہتا تھا اس لئے حجاج نے اسے ایک نہایت سخت خط لکھا ۔عبدالرحمن بن اشعت اور حجاج بن یوسف میں تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ ۷۰۱ عیسوی میں عبدالرحمن بن اشعت نے بغاوت کا اعلان کر دیا، اس نے خلافت راشدہ کی بحالی کا نعرہ لگایا اور مدینے میں پہلے جناب زین العابدین سے رابطہ کیا اور ان کے انکار پر جناب حسن مثنی سے رابطہ کیا ، جنہوں نے آمادگی ظاہر کی اور عبدالرحمن اشعت نے ان کے نام پر بیعت شروع کردی اس نے زنبیل سے صلح کر لی اور عراق واپس لوٹ کر بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ حجاج نے شامی فوجوں کی مدد سے ان کا مقابلہ کیا تو شکست کھائی اور صورت حال اموی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو گئی۔ حجاج نے مہلب بن ابی صفرہ کی مدد سے پھر مقابلہ کیا اور ابن اشعث نے عارضی پسائی اختیار کی اور لوٹ کر کوفہ پر قبضہ کر لیا۔ اب حسن بن  مثنی  کا نام سن کر اہل بیت کے ماننے والے جمع ہوگئے تھے صورت حال اموی حکومت کے لئے اتنی مشکل ہوگئی تھی کہ خلیفہ وقت عبد الملک خود میدان میں نکل آیا حجاج، مہلب بن ابی صفرہ اور عبد الملک کی متحدہ فوجوں نے کوفی لشکر کو شکست دی اور ابن اشعث کو زنبیل کے پاس پناہ لینی پڑی۔ حجاج نے زنبیل کو لکھا کہ اگر تم ابن اشعث کا سر کاٹ کر بھیج دو تو دس سال کا خراج معاف کر دیا جائے گا۔ زنبیل نے حجاج کی اس پیش کش کو مان لیا اور ابن اشعث کو قتل کر ڈالا۔
۷۰۱ عیسوی سے ۷۰۴ عیسوی تک جنگوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔

فتح کے بعد حسن مثنی کو سولی دی گئی اور ان کے لاتعداد پیرکاروں کو موت کی گھات اتار دیا گیا۔ اس وجہ سے حسن مثنی کے بعض ساتھیوں نے سندھ جا کر راجہ داہر کے پاس پناہ لی۔۔۔
حجاج بن یوسف نے ایک وفد بھیجا کہ ان لوگوں کو جن میں ہاشمی اور سادات بھی شامل تھے، کو حجاج بن یوسف کے حوالے کرنے سے انکار کردیا کہ یہ سندھ کی روایات کے خلاف تھا۔اس قصے کا ایک اور کردار محمد غلافی اور اس کے ساتھی تھے مکران پر 664 عیسوی  میں عربوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔
مکران میں ایک علافی قبیلہ تھا حجاج کے مقرر کردہ گورنر سعید نے علافی قبیلے کے ایک فرد سفہوی بن لام الحمامی کو قتل کر دیا، جواب میں علافی قبیلے والوں نے سعید کو قتل کر دیا،اس کے جواب میں حجاج نے علافیوں کے کئی لوگوں کو قتل کروایا۔ اس کے علاوہ حجاج نے اپنے نئے گورنر کو کہا ” علافیوں کو تلاش کرنا اور ہر علافی کو قتل کرکے سعید کا انتقام لینا “۔ اسی وجہ علافی قبیلہ کے سردار محمد بن علافی نے اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کر راجا داہر کے ہاں پناہ لینے آ گئے۔ تو راجا داہر نے اسے اپنے ہاں پناہ دی اور اپنی فوج میں اسے عہدہ بھی دیا۔

سندھ قدیم زمانے میں ساسانی حکومت کا حصہ رہا تھا ، کیونکہ عربوں نے ساسانی سلطنت پر قبضہ کرلیا تھا اس لئے وہ سندھ کو اپنی سلطنت کا ایک حصہ سمجھتے تھے جس پر قبضہ کرنا باقی تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب عرب تاجر اردگرد کے ملکوں میں تجارت کر رہے تھے جیسے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ سندھ کے لوگوں سے عربوں کے ساتھ بڑے مضبوط تجارتی تعلقات تھے مگر حجاج بن یوسف کے دور میں کشیدگی آگئی تھی۔ مگر دوسرے ممالک خصوصا ً سری لنکا وغیرہ کے ساتھ عرب تاجروں کا بہت تجارتی تعلق تھا۔ اس زمانے میں میدھ قوم کے لوگ سمندر میں راہزنی کرتے تھے ان ڈاکوؤں نے ایک عرب تجارتی جہاز کو لوٹ لیا اس پر حجاج بن یوسف نے ایک اور مطالبہ کر دیا کہ ان سمندری راہزنوں کے خلاف کاروائی کی جائے راجہ داہر نے کہا کہ ڈاکوؤں  پر میرا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہم ان کو  تلاش کر سکتے ہیں۔

حجاج بن یوسف نے 710 ء میں عبید اللہ کی قیادت میں ایک فوج بھیجی لیکن اسے شکست ہوئی۔ اگلے سال دوسری مہم بدیل کی سرکردگی میں بھیجی گئی لیکن اسے بھی راجا داہر کے بیٹے نے شکست دی۔ ان دونوں مہمات کی ناکامی کے بعد عرب حکومت کے وقار کو بحال کرنے کے لیے سندھ کی فتح ناگزیر ہو گئی تھی۔ اس لیے حجاج بن یوسف نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے اس کی اجازت حاصل کی۔

ان تمام حالات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھ پر محمد بن قاسم کا حملہ کوئی کفر اور اسلام کی لڑائی نہیں تھی بلکہ یہ بنو امیہ کی سلطنت کے مفادات تھے جن کے لئے سندھ پر حملہ کیا گیا۔ راجہ دائر کی فوج میں بہت سے مسلمان موجود تھے محمد غلافی فوج کے ایک حصے کا کمانڈر تھا اور یہی وہ شخص تھا جس نے عربوں کے آتشی تیروں کا توڑ نکالا تھا۔ محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ اسلام کی تبلیغ کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ عرب ملوکیت کے مفادات کے تحفظ کے لئے تھا اور اس کا ایک مقصد عرب کے تجارتی راستے کو محفوظ بنانا تھا اور دوسری طرف بنو امیہ کے ان مخالفوں کو گرفتار کرنا تھا جو سندھ میں پناہ لے چکے تھے۔

اس کے بعد جب سلیمان کا دور آیا تو اس نے پوری دنیا میں حجاج کے بھیجے لشکروں کے مظالم کی تحقیق کی اور اسی لئے اس نے سندھ سے محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے بلایا اس کے مظالم کی وجہ سے اس پر خلیفہ کے مقرر کردہ قاضی نے مقدمہ چلایا اور اسے سخت سزا دی۔ یہ ساری باتیں ہم تاریخ سے حذف کر دیتے ہیں سلیمان کو ایک طرف ہم اس بات پر داد دیتے ہیں کہ اس نے اپنے جانشین کے طور پر عمر بن عبدالعزیز کو نامزد کیا تو دوسری طرف ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے عرب ملوکیت کی فتوحات کو بریک کیوں لگادی اور فاتحین کے مبینہ مظالم، کرپشن اور بے اعتدالیوں کو معاف اور نظر انداز کرنے کی بجائے مقدمے کیوں چلانے شروع کئے۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *