• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • پاکستان کو نقصان پہنچانے والے ہمارے دشمن ہیں۔۔۔۔۔محمد حسین آزاد

پاکستان کو نقصان پہنچانے والے ہمارے دشمن ہیں۔۔۔۔۔محمد حسین آزاد

نیب نے وفاقی بجٹ سے ایک دن پہلے سابق صدر آصف علی زرداری کوگرفتارکرلیا۔ حمزہ شہباز اور بعض دوسرے لوگ بھی گرفتارہوئے۔ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اس کی بیٹی مریم نواز کو بھی گرفتارکرکے جیل میں ڈالا تھا۔ کم حیثیت اور عام لوگوں کو  گرفتار کرنا اتنا مشکل نہیں، یہ تو ہمارے ملک کی  پولیس بھی کسی بھی وقت بغیر کسی جرم کے پکڑ سکتے ہیں لیکن اتنے بڑے بڑے لوگوں کو پکڑنا کوئی عام بات نہیں جو عمران خان کے بقول وکلاء نہیں، ججز خریدتے ہیں۔ ابھی زرداری کی گرفتاری سے ملک کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ کیا زرداری اپنا چوری کیا ہوا مال واپس لوٹا دے گا؟ اور پاکستان کی عدالتیں اسے سزا دیں  گی، یا وہ بھی چند دن میں باعزت بری ہوجائیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں  جو عام لوگوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے جیالے بھی بطور تنقید کرتے ہیں۔ دوسری پارٹیوں کے کارکنان بھی زرداری کی گرفتاری پر ناخوش دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ چور کا ساتھی چور ہی ہوسکتا ہے۔ اگر آج زرداری جیسا بڑا بدمعاش گرفتار ہوسکتا ہے تو کل کوئی بھی چور بچ نہیں سکتا۔ لہذا بعض لوگ اپنے دفاع کے لئے کرپٹ اور دونمبر کے لوگوں کی حمایت میں بولتے جاتے ہیں۔زیادہ تر لوگ کہتے ہیں چور کو پکڑنے سے کچھ نہیں ہوتا، ان سے پیسے لینے چاہئیں۔ یہ لوگ ایسے لوگوں کو چور کہتے ہوئے بھی ان کی حمایت کرتے ہیں۔
زرداری کی گرفتاری پر پورے ملک میں جیالوں نے احتجاج کیا اور ان کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔بعض دوسرے لوگوں نے بھی زرداری کی گرفتاری کی مخالفت کی اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعض لوگ اسے سیاسی انتقام کہتے ہیں او ر بعض لوگ کہتے ہیں کہ زرداری کو بجٹ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے گرفتار کیا گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گرفتار اور تاحیات نا اہل کیا تو بہت سارے لوگوں کو اس سے بھی ہمدردی ہوجاتی۔ ہر کوئی کہتا نواز شریف کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔

قارئین! ہمارے ملک کے جیلوں میں بہت سارے بے گناہ لوگ ہوتے ہیں جو جھوٹے  مقدمات کی بنا پر گرفتار کیے جاتے ہیں۔ چار پانچ سال پہلے ہمارے ایک رشتہ دار کو قتل کے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ دوسال جیل کاٹنے کے بعد باعزت بری کردیا۔ میرے ایک دوست کو بھی ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے جو اب بھی جیل میں کسی اور کے جرم کی سزا کاٹ رہاہے۔اور ان جیسے سینکڑوں نہیں، ہزاروں اور لاکھوں بے گناہ لوگ ہماری جیلوں میں قید ہیں جن کو کوئی نہیں پوچھتا۔ کسی نے ان کے کیسز کی انکوائری تک نہیں کی۔ اور جب کوئی چور ڈاکو پکڑا جاتا ہے تو آئین میں اس کے لئے ترامیم بھی کی جاتی ہیں۔

پچھلی حکومتوں نے پاکستان کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ زرداری اور نواز شریف نے پاکستان کا بچہ بچہ مقروض بنایا۔ انہوں نے ملک میں ایک بادشاہی سسٹم بنایا تھا۔ کوئی بھی بادشاہ سلامت کے خلاف بات نہیں کرسکتا تھا، بادشاہ اور ان کے خانوادے قانون سے بالاتر تھے۔ ابھی وہ بادشاہت نہیں رہی ہے۔ ابھی ان بادشاہوں کو جیل کی  سلاخوں کے پیچھے کردیا گیا ہے۔لہذا سب سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے، ان کی حمایت مت کیجئے، یہ کبھی بھی پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتے۔ اگر موجودہ حکومت کچھ ڈیلیور نہیں کر رہی تو اس پر تنقید کرنا ہم سب کا حق ہے۔ اس کے خلاف سڑکوں پر نکلنا اور احتجاج کرنا ہم سب کا حق ہے۔ اور آئندہ انہیں مسترد کرنے کا حق بھی ہمارے پاس موجودہے، لیکن کم از کم موجودہ حکومت سے حد درجے نفرت کی وجہ سے کرپٹ لوگوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔بحیثیت پاکستانی، پاکستان کو نقصان پہنچانے والے ہمارے دشمن ہیں، اور جو لوگ دشمنوں سے ملے ہوتے ہیں، انہیں غدار کہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *