نیند اور رشوت کا تعلق۔۔۔۔ حسین مرزا

پچھلے کچھ دنوں سے ایک سوال ذہن میں اٹھ رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ بھوک بڑی ہے یا نیند ؟ نیند جیسے ہی طاری ہونے لگتی ہے ایک تصور بناتی چلی جاتی ہے جیسے آپ ابھی کوئی راستہ پکڑنے کو ہوں اور منزل پہلے سے ہی آُپ کے سامنے ہو، کچھ پرانی یادیں اور کچھ واقعات ( بعض دفعہ ضروری اور بعض دفعہ غیر ضروری) اکٹھے آپ کو جکڑتے ہیں کے آپ پھر ان مناظر کو جینا چاہتے ہیں بعض دفعہ وہی خوشی کا احساس حاصل کرنے کے لیے اور بعض دفعہ اپنی غلطی سدھارنے کے لیے، بس پھر ان ہی مناظر کو دیکھتے دیکھتے ایسے لاپتا ہوتے ہیں کے پھر اپنے وقت پرہی آنکھ کھلتی ہے یا پھر جب تک کوئی  اٹھا نہ دے۔
نیند کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ خیالات کو سمیٹ دیتی ہے۔ لیکن جب انسان بھوکا ہوتا ہے تو اس کے خیالات ہر سمت بکھرتے جاتے ہیں اور فطری ضرورت پوری نا ہونے کی وجہ سے عام طور پر انسان خود غرض، لالچی، بخیل بنتا چلا جاتا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں پر اس کی طرف سے عمومی طور پر نفرت کا احساس ہی جاگتا ہے خاص کر کے ان لوگوں پر جن کے وہ ماتحت ہو۔
میں سمجھتا ہوں بھوک، نیند اور رشوت کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ کیونکہ بھوک اور نیند دو ایسی بنیادی ضرویات ہیں جو کے اگراک تسلی بخش حد تک پوری نہ ہوں تو انسان ان ذرائع کی طرف مائل ہوتا ہے، جن پر قدرت پابندی عائد کی ہے ( جس  طرح رشوت)۔  ہمارے ہاں رشوت کا عمل کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ رشوت لینے والا ، رشوت دینے والے کو یہ جتلا رہا ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق کے پیسے لے رہا ہے اور کام کر کے احسان کر رہا ہے۔ اگر وہ یہ احسان نا کرتا تو کام ( جس کے لیے رشوت لی اور دی جا رہی ہے) کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچتا (جو کہ کسی حد تک درست بھی ہے) اس لیے لینے والا رقم کو پورا پورا اپنا حق سمجھ کے رکھتا ہے، جس طرح مکمل حق تنخواہ پر ہوتا ہے۔
انسان اپنے آپ کو کوئی نہ  کوئی  دلیل دے کر ہی کسی غلط کام کی طرف خود کو مائل کرتا ہے جس طرح کہ  میں مجبور زمانہ ہوں وغیرہ وغیرہ ( نہیں! نہیں! وہ والی مجبوری نہیں)۔
یہ تو اخذ نہیں کر سکا کہ  دونوں ضروریات میں سے کونسی ضرورت بڑی ہے، مگر اس نتیجے پر ضرور پہنچا ہوں کے غلط کام کے پیچھے دلیل کیسی بھی ہو ہمیشہ کھوکھلی ہی ہوتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *